Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / ملت کی ترقی کیلئے حکومت کو توجہ دلانے مسلم نمائندے یکسر ناکام

ملت کی ترقی کیلئے حکومت کو توجہ دلانے مسلم نمائندے یکسر ناکام

غیر تو غیر ہیں ، اپنوں کا سہارا نہ ملا
ملت کی ترقی کیلئے حکومت کو توجہ دلانے مسلم نمائندے یکسر ناکام
ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی اقامتی اسکولس میں تقررات ، اقلیتی اقامتی اسکولوں میں عارضی خدمات
حیدرآباد ۔ 15 ۔ جنوری (سیاست نیوز)  حکومت ، ریاست کی ترقی اور غریبوں کی خوشحالی کیلئے مختلف موقعوں پر مختلف اسکیمات کا اعلان کرتی ہے اور اس کو روبعمل لانے کے اقدام کرتی ہے ، اس سلسلے میں مختلف علاقوں اور طبقوں کے منتخب نمائندوں کا بھی اہم رول ہوتا ہے جو حکومت سے موثر نمائندگی کرتے ہوئے اپنے علاقے اور طبقوں کیلئے سرکاری اسکیمات اور فنڈس منظور کرواتے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ ریاست کے مسلم منتخب نمائندے ملت کی پسماندگی دور کرنے حکومت کو توجہ دلانے میں یکسر ناکام ہیں ، رمضان اور دیگر موقعوں پر غریب مسلمانوں کیلئے ملبوسات اور دیگر معمولی چیزٕوں سے متعلق نمائندگی کرتے ہوئے مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن غربت دور کرنے کے اہم وسائل تعلیم اور ملازمت کی فراہمی سے متعلق نمائندگی سے گریز کیا جاتا ہے ، جبکہ تعلیم اور ملازمت کے حصول کے مواقع  پر ہی مسلمانوں کی پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے ۔ مسلمانوں کی قیادت کے فقدان اور حکومت سے نمائندگی نہ کرنے کا ہی نتیجہ ہے کہ اقلیتی اقامتی اسکولس تو قائم کئے جارہے ہیں لیکن ان اسکولوں میں نہ انفراسٹرکچر کی سہولت ہے اور نہ ہی اساتذہ کے مستقل تقررات کئے جارہے ہیں ۔ جبکہ دوسرے طبقوں کے عوامی نمائندے اپنے طبقوں کی ترقی کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں اور حکومت کو توجہ دلاتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ سنکراتی تہوار کے موقع پر ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے اقامتی اسکولس کیلئے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے  11,666 تدریسی غیر تدریسی جائیدادوں پر تقررات کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جن میں 3 ہزار جائیدادوں پر تقررات کے لیے نوٹیفیکشن جاری کردیا گیا ۔ ماباقی 8,666 جائیدادوں کے لیے بہت جلد اعلامیہ جاری کیے جانے والا ہے ۔ تین سال کے دوران ان جائیدادوں پر تقررات کرنے کی منظوری دی گئی اور ہر سال کے لیے ایک کوٹہ مقرر کیا گیا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بی سی طبقات کے لیے 119 ریزیڈنشیل اسکولس کی منظوری دی گئی ہے ۔ جن میں آئندہ تعلیمی سال سے تعلیم کا آغاز ہونے والا ہے ۔ ان کے لیے 4616 جائیدادوں پر تقررات کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے ۔ یہ تمام جائیدادیں ریگولر ہیں ۔ اس کے علاوہ 733 عارضی ملازمین کا بھی تقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے ۔ حکومت کے مسلمانوں سے دہرے پن کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ تعلیمی سال 2016-17 کے لیے ریاست میں 71 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے گئے ہیں جن میں 8000 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں لیکن ان اسکولس میں تدریسی یا غیر تدریسی عملے کا کوئی مستقل تقرر نہیں کیا گیا ہے ۔ تمام عملے کی کنٹراکٹ پر خدمات سے استفادہ کیا جارہا ہے ۔ یہ اقلیتوں سے نا انصافی نہیں تو اور کیا ہے۔           (سلسلہ صفحہ 7 پر)

TOPPOPULARRECENT