Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / ملت کی تعلیمی و معاشی ترقی کیلئے کام کرنے والے ہر ادارہ کی مدد کا عہد : زاہد علی خاں

ملت کی تعلیمی و معاشی ترقی کیلئے کام کرنے والے ہر ادارہ کی مدد کا عہد : زاہد علی خاں

حیدرآباد ۔ 12 ۔ مئی : ( نمائندہ خصوصی ) : ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں دولت مندوں کی کوئی کمی نہیں ۔ ایسے لوگ بھی ہزاروں میں مل جائیں گے جو اپنے بچوں کی شادیوں پر لاکھوں بلکہ کروڑہا روپئے خرچ کردیتے ہیں اور اس شاہ خرچی کے ذریعہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک فرض ادا کیا ہے ۔ ان کے دسترخوانوں پر انواع و اقسام کے کھانے چنے جاتے ہ

حیدرآباد ۔ 12 ۔ مئی : ( نمائندہ خصوصی ) : ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں دولت مندوں کی کوئی کمی نہیں ۔ ایسے لوگ بھی ہزاروں میں مل جائیں گے جو اپنے بچوں کی شادیوں پر لاکھوں بلکہ کروڑہا روپئے خرچ کردیتے ہیں اور اس شاہ خرچی کے ذریعہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک فرض ادا کیا ہے ۔ ان کے دسترخوانوں پر انواع و اقسام کے کھانے چنے جاتے ہیں ۔ جن کی خوشبو سے سارا محلہ مہک اٹھتا ہے ۔ ایسے ہی دولت مندوں کے درمیان اور اطراف و اکناف میں ایسے غریب بھی ہوتے ہیں جو اپنے اور اپنے بچوں کے لیے تین وقت کی روٹی کا انتظام کرنے کے لیے ہر روز مرمر کر جیتے ہیں ۔ اپنی بیٹیوں کی شادیوں میں انہیں سودی قرض لینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے ۔ ان کے بچے صرف اس لیے اسکول کا منہ نہیں دیکھتے کیوں کہ اگر وہ اسکول چلے جائیں تو گھر کے کرایہ کا انتظام کون کرے گا ؟ بیمار ماں ، باپ یا بہن کے لیے دواؤں کی خریدی کیسے ہوگی ؟ غرض ہمارے شہر میں ایسے غریب بھی ہیں جن کی حالت زار دیکھ کر آنکھوں سے آنسو رواں ہوجائیں اور ایسے امیر ترین لوگ بھی جن کی خود غرضی سے انسانیت شرمسار ہوجائے لیکن اس کے باوجود شہر میں اللہ کے ایسے نیک بندے بھی ہیں جو خوشحال رہتے ہوئے بھی اپنے دلوں میں غریبوں کا درد محسوس کرتے ہیں یہ ایسے لوگ ہیں جو غریب خاندانوں کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ پیراستہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ اس طرح کی شخصیتوں میں امریکن یونیورسٹی راس الخیمہ کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شوکت علی مرزا بھی شامل ہیں جو اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ مل کر شہر کے مختلف علاقوں میں غریب بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کررہے ہیں ۔ وہ انجینئرس وتھاوٹ بارڈرس انڈیا (EWB) کے سربراہ بھی ہیں ۔ شہر حیدرآباد کے اس قابل فخر سپوت نے سال 2012 میں ہیلپنگ ہینڈ Helping Hand نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی اور اس کے تحت قائم نگر عطا پور ، یاقوت پورہ ، امان نگر اور مولا علی جیسے علاقوں میں غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لڑکے لڑکیوں کو تعلیم فراہم کی جارہی ہے ۔ اس کام میں جہاں ہیلپنگ ہینڈ کو فیض عام ٹرسٹ جیسی تنظیموں کا تعاون حاصل ہے ۔ وہیں ادارہ سیاست کی شکل میں انہیں ایک نیا مددگار مل گیا ہے ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے فیض عام ٹرسٹ کے سکریٹری جناب افتخار حسین اور ٹرسٹی جناب رضوان حیدر کے ہمراہ قائم نگر عطا پور میں ہیلپنگ ہینڈ کے تربیتی مرکز کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ نونہالان ملت کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا سیاست نے بیڑہ اٹھایا ہے ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے فسادات سے متاثرہ مظفر نگر ، سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار وادی کشمیر کے سری نگر اور دہلی کے غربت زدہ علاقوں کے حوالے دئیے اور بتایا کہ سیاست نے ملت فنڈ کے ذریعہ ان علاقوں میں نہ صرف اسکولس قائم کئے ہیں بلکہ تربیتی مراکز و کمپیوٹر سنٹرس قائم کرتے ہوئے ملت کے لڑکے لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ جس کے بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ اس کام میں سیاست کو فیض عام ٹرسٹ کا بھر پور تعاون حاصل ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے ہیلپنگ ہینڈ اور ڈاکٹر شوکت علی مرزا کی ستائش کی اور کہا کہ غریب بستیوں میں بچوں کے لیے مفت تعلیم و تربیت کا انتظام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ اس سے نہ صرف طلبہ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں بلکہ خواتین و لڑکیاں مختلف ہنر سیکھ کر اپنے خاندان کی آمدنی میں اضافہ کا باعث بن سکتی ہیں ۔ بعد میں راقم الحروف سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شوکت علی مرزا نے بتایا کہ انہیں اس کام میں بیٹی سارہ فاطمہ ، اہلیہ پروفیسر سمین فاطمہ ڈین شعبہ کمپیوٹر سائنس عثمانیہ یونیورسٹی اور بیٹے صفدر علی مرزا کا بھر پور تعاون حاصل ہے ۔ یہ تنظیم کے جی تا پی جی 300 بچے ، بچیوں کو اسپانسر کرتی ہے ۔ اس کے قائم کردہ ٹیلرنگ سنٹر میں تقریبا 20 خواتین کام کرتی ہیں ۔ موتیوں اور نگینوں کی اشیاء تیار کروائی جاتی ہیں ۔ صحت و طب کے شعبہ میں بھی کام کیا جارہا ہے ۔ ہیلپنگ ہینڈ کی جانب سے جو سنڈے اسکول چلایا جارہا ہے اس میں اول تا آٹھویں جماعت کے 140 بچوں کو انگریزی اور حساب ( ریاضی ) کی تربیت دی جارہی ہے ۔ ان بچوں کو لنچ بھی دیا جاتا ہے ۔ ایک سمر اسکول بھی قائم کیا گیا ہے ۔ صبح 9 تا دوپہر ایک بجے تک چلنے والے اس اسکول میں سو سے زائد بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ جناب زاہد علی خاں کے دورہ کے موقع پر جسٹس ای اسمعیل اور پروفیسر انور خاں بھی موجود تھے ۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر شوکت علی مرزا متھوڈیسٹ اسکول ، انوارالعلوم کالج کے سابق طالب علم ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT