Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / ملت کے مفادات پر کبھی سودا نہیں کروں گا: مجید اللہ خان فرحت

ملت کے مفادات پر کبھی سودا نہیں کروں گا: مجید اللہ خان فرحت

یاقوت پورہ بڑا بازار میں مجلس بچاؤ تحریک کا جلسہ ، انسانی سروں کا سمندر، مسلمانوں کی مظلومیت کے دور کو ختم کرنے کا عہد

یاقوت پورہ بڑا بازار میں مجلس بچاؤ تحریک کا جلسہ ، انسانی سروں کا سمندر، مسلمانوں کی مظلومیت کے دور کو ختم کرنے کا عہد

حیدرآباد۔ 15؍اپریل (سیاست نیوز)۔ ’’حکومت سے ملت کے مفادات کی سودے بازی اور سیاسی جماعتوں سے مفاہمت پر شہادت کو ترجیح دوں گا۔ ملت کے مفادات پر کبھی سودا نہیں کروں گا‘‘۔ جناب مجیداللہ خاں فرحت امیدوار مجلس بچاؤ تحریک حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ نے آج یاقوت پورہ بڑا بازار پر منعقدہ عظیم الشان انتخابی جلسہ عام سے خطاب کے دوران حلقہ یاقوت پورہ کے عوام سے یہ وعدہ کیا۔ انھوں نے جلسہ عام میں موجود عظیم الشان اجتماع کو ظالم کے خلاف جہاد سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مصر میں جس طرح ظلم و زیادتی کے خلاف ’’تحریر اسکوائر‘‘ بناتھا، اسی طرح یاقوت پورہ بڑا بازار ’’تحریک اسکوائر‘‘ بن چکا ہے جو ظالم کے خاتمہ کو یقینی بنائے گا۔ مجلس بچاؤ تحریک کے امیدوار نے اپنے ولولہ انگیز خطاب کے دوران کہا کہ 30 اپریل کو منعقد ہونے والے انتخابات صرف رائے دہی نہیں بلکہ ظالم و مظلوم کے درمیان معرکہ آرائی ہے اور ہر مظلوم کا نام فرحت خاں ہوگا جو 30 اپریل کو اپنا انتخاب خود کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک منصوبہ کے ساتھ انتخابی میدان میں ہیں جب کہ مخالفین اسے ملت میں انتشار قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجلس بچاؤ تحریک نے عملی طور پر اتحاد کا ثبوت دیتے ہوئے حلقہ اسمبلی ملک پیٹ اور کاروان سے امیدوار میدان میں نہیں اُتارے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر تحریک کے امیدوار کے سبب ان دو حلقہ جات اسمبلی میں مسلم ووٹ تقسیم ہوتے ہیں تو بی جے پی کی کامیابی کے آثار نمایاں ہوجاتے۔ جناب مجیداللہ خاں فرحت نے موجودہ رکن اسمبلی اور مسلم قیادت کی دعویدار جماعت سے استفسار کیا کہ آخر حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے عوام کیوں پسماندہ ہیں؟ کیوں گزشتہ بیس برسوں کے دوران ان کی پسماندگی کو دور کرنے کے اقدامات نہیں کئے گئے؟ انھوں نے مزید استفسار کیا کہ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں 10 سے زائد اسکولوں کی فروخت کی ذمہ دار کون ہیں؟

اس کا جواب عوام طلب کررہے ہیں۔ اس عظیم الشان جلسہ میں مولانا حسین شہید، جناب ایم اے باسط سابق اسٹانڈنگ کمیٹی چیرمین کے علاوہ دیگر بزرگ قائدین موجود تھے۔ جناب مجیداللہ خاں فرحت نے بتایا کہ مجلس بچاؤ تحریک کی کامیابی کی صورت میں غازی ملت الحاج امان اللہ خاں مرحوم کا دور واپس آئے گا اور ملت کی پسماندگی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی مظلومیت کا خاتمہ یقینی ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے ذریعہ دولت کے حصول یا نام کے لئے میدان سیاست میں نہیں بلکہ جس طرح غازی ملت مرحوم نے حیدرآباد سے بھارتیہ جنتا پارٹی کا خاتمہ کیا، اسی طرح وہ پوری ریاست تلنگانہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے خاتمہ کا خواب لے کر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مظلوم مسلمانوں کی آواز کو دبانے کے لئے جس طرح روڈی شیٹ کھولی جارہی ہے اور پولیس کو استعمال کیا جارہا ہے، اس سلسلہ کو بند کروانے کے لئے وہ ہر طرح کی جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جناب مجیداللہ خاں فرحت نے یاددہانی کروائی کہ ان پر نہ صرف قاتلانہ حملہ کیا گیا بلکہ پہلے انھیں ٹاڈا کے تحت مقدمات میں ماخوذ کرتے ہوئے ہراساں کیا گیا اور 60 سے زائد مقدمات درج کئے گئے۔ جب ان مقدمات کے باوجود ان کی آواز کمزور نہیں ہوئی تو قاتلانہ حملہ کروایا گیا۔ اس کے باوجود بھی وہ مظلوم مسلمانوں کی دعاؤں کے سبب زندہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سابق میں وہ اعلان کرچکے ہیں کہ اگر موجودہ رکن اسمبلی حلقہ یاقوت پورہ یہ ثابت کردیں کہ بیس سال کے دوران انھوں نے بیس منٹ بھی ایوان میں مسلمانوں کے لئے بات کی ہے تو وہ دستبردار ہونے تیار ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ رکن اسمبلی عوامی مفادات کے تحفظ میں ناکام ہوچکے ہیں جس کی مثال علاقہ کی پسماندگی ہے۔

جناب مجیداللہ خاں فرحت نے کہا کہ آج ملک بھر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا نام لیتے ہوئے کانگریس مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ قومی سطح پر جیسے اسکامس ہیں، اسی طرح مقامی سطح پر بھی اسکامس کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ ان سب کا پردہ فاش کیا جائے گا۔ انھوں نے علماء و مشائخین سے مؤدبانہ درخواست کی کہ وہ نااہل امیدواروں کی حمایت سے گریز کریں، ورنہ بروز محشر انھیں بارگاہ ایزدی میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ تحریک کے امیدوار نے بتایا کہ منتخب ہونے کی صورت میں وہ نہ صرف منی کنڈہ جاگیر کی اوقافی جائیدادیں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے بلکہ جامعہ نظامیہ کی 24 ہزار کروڑ روپئے سے زائد کی جائیداد جو اغیار کے قبضے میں ہے، واپس حاصل کریں گے بلکہ مظلوم مسلمانوں کی جائیدادوں کے حصول کے لئے حکومت کے گریبانوں سے کھیلنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 30 اپریل کو اپنی معزز خواتین کے ہمراہ ٹی وی کے نشان پر بٹن دباتے ہوئے بیس سال سے ہورہے مظالم کا جواب دیں۔ انھوں نے کہا کہ پولنگ بوتھ پر بوگس ووٹ کو روکنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ وہ اس فریضہ کو انجام دینے میں کوتاہی نہ کرے اور جہاں تک ممکن ہوسکے، اول وقت اپنے ووٹ کا استعمال یقینی بنائے۔ جلسہ میں عوام کی کثیر تعداد کے پیش نظر جابجا بڑے اسکرینس نصب کئے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT