Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / ملک بدترین قحط سالی کا شکار ، پینے کے پانی کا مسئلہ سنگین

ملک بدترین قحط سالی کا شکار ، پینے کے پانی کا مسئلہ سنگین

91 اہم ذخائر آب کی سطح میں نمایاں کمی ، قومی آبی کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف ، آئندہ مانسون سے مثبت توقعات وابستہ
حیدرآباد۔ 14اپریل (سیاست نیوز) ملک خطرناک قحط سالی کے دور سے گذر رہا ہے اور آئندہ چند ماہ کے دوران ملک کی کئی ریاستیں خشک سالی کی انتہا پر پہنچ جائیں گی اور عوام کو پینے کیلئے پانی کا بھی سنگین مسئلہ پیش آنے کا خدشہ ہے۔ ہندوستان بھر میں جاری شدید گرمی کی صورتحال کا اثر ملک کے ذخائر آب پر بھی مرتب ہورہا ہے اور 91 بڑے اور اہم ذخائر آب جوکہ نہ صرف 130 کروڑ عوام کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ زرعی ضروریات کی بھی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ 91 اہم ذخائر آب تیزی سے خشک ہورہے ہیں۔ ان ذخائر آب میں فی الحال صرف مجموعی اعتبار سے 24% پانی باقی رہ گیا ہے۔ سنٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) کی جانب سے جاری کردہ بلیٹن میں جس بات کا انکشاف کیا گیا وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ قومی آبی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بلیٹن کے مطابق 91 بڑے ذخائر کی سطح آب میں جو گراوٹ آئی ہے، اس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ 37.92 بلین کیوبِک میٹر خشکی آچکی ہے جوکہ مجموعی اعتبار سے ذخائر آب کی جملہ گنجائش کا صرف 24% ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2014ء میں ناکافی بارش اور مانسون میں ہوئی تاخیر کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی اور 2015ء میں بھی مانسون میں بہتری نہ آنے کی وجہ سے صورتِ حال مزید ابتر ہوچکی ہے۔ عام طور پر ان ذخائر آب میں جون تا ستمبر کے دوران گراوٹ رکاوٹ کی جاتی ہے چونکہ ربیع کے موسم میں ان 91 ذخائر کے پانی کا آبپاشی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ محکمہ موسمیات جاریہ سال موسم باراں کے متعلق بہتر گمان کئے ہوئے ہے اور اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ مانسون میں جون تا ستمبر کے دوران بہتر بارش ہوگی جس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے اور ان ذخائر آب میں وافر مقدار میں پانی جمع ہونے کا امکان ہے۔ فی الحال موسم گرما کے دوران ملک کی جو ریاستیں قحط سالی و پانی کی شدید قلت جیسے مسائل کا سامنا کررہی ہیں ان میں ہماچل پردیش، پنجاب، مغربی بنگال، راجستھان ، جھارکھنڈ، اڈیشہ، گجرات، مہاراشٹرا، اترپردیش، اُتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، تلنگانہ، تاملناڈو، کرناٹک اور کیرالا شامل ہیں۔ مرکزی آبی کمیشن کے بموجب مذکورہ ریاستوں میں سال گزشتہ جو آبی صورتحال تھی، اس سے زیادہ ابتر صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ ان ریاستوں میں ذخائر آب کی سطح میں آرہی گراوٹ تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے، لیکن ملک میں آندھرا پردیش اور تریپورہ صرف دو ایسی ریاستیں ہیں جن کا ادعا ہے کہ وہ سال گزشتہ سے بہتر پانی رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی آبی کمیشن نے ان دو ریاستوں کو گزشتہ سال کے اعتبار سے بہتر اور زیادہ مستحکم آبی صورتحال والی ریاستیں قرار دیا ہے۔ ہندوستان بھر میں موجود ذخائر آب کی جملہ گنجائش 253 بلین کیوبک میٹر ہے جس میں 62% وہ 91 ذخائر آب ہیں جن کا تذکرہ مرکزی آبی کمیشن نے کیا ہے، اور ان ذخائر آب میں جملہ24%  پانی باقی رہ گیا ہے۔ ہندوستان میں سب سے طویل دریا گنگا ہے جو کہ طوالت کے اعتبار 2,525 کیلومیٹر کا احاطہ کرتی ہے اور اس دریا کا طاس 8 لاکھ 61 ہزار 404 مربع کیلومیٹر پر محیط ہے جوکہ 10 لاکھ 86 ہزار مربع کیلومیٹر کا احاطہ کرتا ہے۔ جاریہ سال مانسون میں بہتری پیدا نہ ہونے کی صورت میں حالات مزید ابتر ہوسکتے ہیں۔ فی الحال ملک کی بیشتر ریاستیں خشک سالی سے متاثر ہیں اور آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے کی فکر کررہی ہیں لیکن مانسون میں بہتری اور ضروریات کے مطابق بارش نہ ہونے کی صورت میں ہندوستان بھر میں قحط کی سنگین صورتحال کا اندیشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT