Wednesday , July 18 2018
Home / ہندوستان / ملک بھر میں اندرون تین سال 26ہزار 500 طلبہ کی خودکشی

ملک بھر میں اندرون تین سال 26ہزار 500 طلبہ کی خودکشی

مہاراشٹرا میں اوسطاً سالانہ ایک ہزار طلبہ کی خودکشی ، ذہنی تناؤ، معاشی مسائل، سماجی بھید بھاؤ اور امتحانات میں کم نشانات کا حصول اہم وجوہات

نئی دہلی 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ملک بھر میں گزشتہ تین سال برسوں کے دوران 26 ہزار 500 طلبہ نے خودکشی کا ارتکاب کیا ہے۔ اس بات کا انکشاف راجیہ سبھا میں مملکتی وزیرداخلہ ہنس راج گنگا رام اہیر نے ایک تحریری سوال کے جواب میں کیا۔ اُنھوں نے ٹاملناڈو کے رکن پارلیمنٹ کنی موزی کے سوال پر کہ آیا یہ صحیح ہے کہ روزآنہ اوسطاً کم سے کم ایک طالب علم کہیں نہ کہیں خودکشی کا ارتکاب کررہا ہے اور کیا حکومت اِس حقیقت سے واقفیت رکھتی ہے یا نہیں۔ اگر ہاں تو اِسے روکنے کے لئے حکومت نے کیا اقدامات کئے ہیں۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مملکتی وزیرداخلہ نے کہاکہ قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی تفصیلات پیش کیں اور بتایا کہ این سی آر بی کے ریکارڈ کے مطابق سال 2014 ء میں 8068 طلبہ نے خودکشی کی تھی۔ جبکہ 2015 ء میں خودکشی کرنے والے طلبہ کی تعداد بڑھ کر 8934 ہوگئی اور حیرت انگیز طور پر 2016 ء میں یہ تعداد بڑھ کر 9,474 ہوگئی۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ملک بھر میں سب سے زیادہ جس ریاست میں طلباء نے خودکشی جیسے ناقابل قبول اقدام کا ارتکاب کیا ہے اُس میں مہاراشٹرا سرفہرست ہے جہاں صرف مہاراشٹرا میں سال 2016 ء میں مجموعی طور پر 1350 طلباء نے اپنی زندگیاں ختم کرلیں۔ ٹھیک اسی سال مغربی بنگال میں 1147 طلبہ نے خودکشی کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کے بعد ٹاملناڈو اور مدھیہ پردیش کا نمبر ہے جہاں بالترتیب 981 اور 838 طلبہ نے خودکشی کی۔ 2015 ء میں مہاراشٹرا میں جہاں 1230 طلبہ نے خودکشی کا ارتکاب کیا وہیں ٹاملناڈو میں 955 طلبہ نے موت کو گلے لگالیا تھا۔ جس کے بعد چھتیس گڑھ کا نمبر ہے جہاں 730 طلبہ نے خودکشی کرلی۔ اُس کے بعد مغربی بنگال میں 676 طلبہ نے اپنی زندگیوں کا خود سے خاتمہ کرلیا۔ اسی طرح 2014 ء میں بھی مہاراشٹرا میں سب سے زیادہ طلبہ نے خودکشی کا ارتکاب کیا تھا جہاں 1191 طلبہ نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرلیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ خودکشی کی وجوہات میں سے عام طور پر ذہنی تناؤ اور تعلیم کا دباؤ اور خاندانی توقعات میں کمی، حالات سے لڑنے کی عدم صلاحیت، سماجی بھید بھاؤ اور بدزبانی جیسے عوامل کارفرما تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ خاص کر آئی آئی ٹی جیسے اداروں کے طلبہ خودکشی کرنے والوں میں سرفہرست دیکھے گئے ہیں۔ جنوری 2016 ء میں ایک دلت طالب علم روہت ویمولا نے حیدرآباد یونیورسٹی میں سماجی بھید بھاؤ کی وجہ سے خودکشی کرلی تھی جس کی وجہ سے پورے ملک کی توجہ اس جانب مبذول ہوگئی تھی۔ اسی طرح ستمبر 2017 ء میں ایک 17 سالہ طالبہ ایس انیتا جو میڈیکل کی طالبہ تھی اور بارہویں کلاس میں اچھے نمبرات سے کامیاب ہوئی تھی، اُس نے بھی نیٹ جیسے امتحان میں متوقع نشانات حاصل کرنے میں ناکامی پر خودکشی کا راستہ اختیار کرلیا تھا۔ واضح رہے کہ انیتا جس کا تعلق ٹاملناڈو سے تھا، اُس نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کرتے ہوئے ٹاملناڈو کے تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لئے نیٹ کی لزوم کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT