Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / ملک بھر میں مویشیوں کے ذبیحہ پر پابندی کا مطالبہ

ملک بھر میں مویشیوں کے ذبیحہ پر پابندی کا مطالبہ

نیشل گرین ٹریبونل میںایک ایڈوکیٹ کی عرضی پر نوٹس کی اجرائی
نئی دہلی ۔ 11 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ملک بھر میں ہندوستانی نسل کے مویشیوں کے ذبیحہ پر پابندی کیلئے ایک ایڈوکیٹ کی عرضی پر نیشنل گرین ٹریبونل نے آج تمام ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کیا ہے ۔ این جی آئی کے صدرنشین جسٹس سوتنتر کمار کی زیر قیادت بنچ جس نے تمام ریاستوں کو مذکورہ کیس کا فریق بنایا ہے۔ انہیں اور نیشنل بائیوڈئیورسٹی اتھاریٹی کو نوٹسیں جاری کردی ہے اور یہ ہدایت جاری کی کہ 2 فروری کو آئندہ سماعت تک اپنا جواب پیش کریں۔ اس خصوص میں ایک ایڈوکیٹ اور ماحولیاتی جہد کار اشوینی کمار نے ایک عرضی داخل کی ہے اور یہ شکایت کی کہ ملک بھر میں ہندوستانی نسل کے مویشیوں کی تعداد تشویشناک حد تک گھٹتے جارہی ہے کیونکہ کاشتکاری میں مشنری کے استعمال سے مویشی پالن  غیر منافع بخش ہوگیا ہے۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ ملک بھر میں دیسی گائے کی آبادی تیزی کے ساتھ گھٹتے جارہی ہے۔ مسٹر اشوینی کمار نے یہ استدلال پیش کیا کہ یوروپ ، امریکہ اور آسٹریلیا سے درآمد مویشیوں کے ذریعہ کراس بریڈنگ کرواتے ہوئے ایک مشترکہ نسل تیار کی جارہی ہے جس کے باعث دیسی نسل کے مویشی معدوم ہورہے ہیں ۔ اس تباہ کن تبدیلی سے ماحولیاتی تنوع متاثر ہورہا ہے اور سرکاری حکام خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بیرونی ممالک کے مویشی ہندوستانی موسم کیلئے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اس کے برخلاف دیسی نسل کے مویشیوں میں امراض سے مقابلہ کی طاقت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے دودھ کی پیداواری میںاضافہ کیلئے تحقیقات کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT