Friday , July 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ملک بھر میں چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کے فلاحی اقدامات بے مثال

ملک بھر میں چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کے فلاحی اقدامات بے مثال

ہر شعبہ میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود چیف منسٹر کا نصب العین ،عامر شکیل کا اسمبلی میں خطاب
حیدرآباد ۔ 8۔ نومبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی عامر شکیل نے کہا کہ ملک بھر میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے سلسلہ میں کے سی آر حکومت کے اقدامات کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ اسمبلی میں اقلیتی بہبود پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے عامر شکیل نے گزشتہ تین برسوں میں حکومت کی جانب سے شروع کردہ مختلف اسکیمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ مسلمانوں کے حق میں کے سی آر کسی مسیحا سے کم نہیں۔ انہوں نے ہر شعبہ میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔ تلنگانہ جدوجہد کے دوران مسلمانوں سے انصاف کے سلسلہ میں جو وعدے کئے گئے تھے ، ان پر نہ صرف عمل آوری کی گئی بلکہ کے سی آر نے کئی منفرد اسکیمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں اقلیتی بہبود کا بجٹ انتہائی کم تھا لیکن تلنگانہ تشکیل کے بعد کے سی آر نے بجٹ کو 1250 کروڑ تک پہنچایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آندھراپردیش میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 864 کروڑ ہے جبکہ کیرالا میں 1050 اور اترپردیش میں 2400 کروڑ ہے حالانکہ ان دونوں ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی تلنگانہ سے کہیں زیادہ ہے۔ اقلیتی اقامتی اسکولس کو حکومت کا کارنامہ قرار دیتے ہوئے عامر شکیل نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی میں یہ اسکولس اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ 206 اقامتی اسکولوں میں 25,000 لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ مرکزی حکومت اور مختلف ریاستوں میں اس اسکیم کی ستائش کی ہے۔ عامر شکیل نے کہا کہ اوورسیز اسکالر شپ اسکول کے ذریعہ اقلیتی نوجوانوں کو مختلف بیرون ملک یونیورسٹیز میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں اور 20 لاکھ روپئے کی اسکالرشپ دی جارہی ہے۔ انہوں نے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے قرض کی اجرائی کی تجویز پیش کی اور کہا کہ 23,000 درخواستیں ایسی ہیں جن میں ایک لاکھ روپئے تک کا قرض مانگا گیا ہے ۔ انہوں نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ ان تمام درخواستوں کی یکسوئی کرتے ہوئے راست طور پر قرض کی رقم جاری کردی جائے۔ نئی حج پالیسی میں شریعت میں مداخلت کی شکایت کرتے ہوئے عامر شکیل نے کہا کہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر کو مرکزی حکومت سے نمائندگی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حج سبسیڈی کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔ اگر سبسیڈی کے بجائے حج کمیٹیوں کو ایرلائینس کے انتخاب کی اجازت دی جائے یا پھر مرکزی حکومت اپنے طور پر گلوبل ٹنڈرس طلب کریں تو عازمین حج کے سفری کرایہ میں کافی کمی آئے گی۔

عامر شکیل نے کہا کہ 25,000 روپئے کے فضائی ٹکٹ پر 60,000 روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ اس طرح حج سبسیڈی کسی دھوکہ سے کم نہیں۔ انہوں نے حیدرآباد میں سعودی کونسلیٹ کے قیام کیلئے مساعی کرنے چیف منسٹر سے اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں پہلی مرتبہ 8,500 ائیمہ اور مؤذنین کو ماہانہ اعزازیہ دیا جارہا ہے۔ ائیمہ اور مؤذنین پنجوقتہ نمازوں میں کے سی آر کے حق میں دعاگو ہیں۔ انہوں نے تمام اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اقلیت دوستی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے 6 کارپوریشنوں پر مسلم قائدین کو صدرنشین نامزد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام ریاستوں میں سب سے زیادہ محفوظ اگر مسلمان کہیں ہیں تو وہ تلنگانہ ریاست ہے ۔ وقف بورڈ کے خلاف کارروائی اور ریکارڈ ضبط کرنے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے عامر شکیل نے حکومت کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے وقف بورڈ کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے جو قدم اٹھایا ہے ، وہ کسی کارنامہ سے کم نہیں۔ وقف بورڈ میں کرپشن عام ہوچکا تھا اور یہ ادارہ بروکرس کا اڈہ بن چکا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں 33,729 اوقافی جائیدادیں ہیں جن میں 80 فیصد پر غیر مجاز قبضے ہیں۔ وقف بورڈ ان جائیدادوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیف منسٹر کے حالیہ فیصلوں سے جائیدادوں کا تحفظ ہوگا۔

زندن دلان حیدرآباد کی سالانہ تقاریب
حیدرآباد ۔ 8 ۔ نومبر : ( راست ) : زندہ دلان حیدرآباد کی سالانہ تقاریب کے انتظامات کو قطعیت دینے کے لیے زندہ دلان حیدرآباد کی مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ بہ صدارت ڈاکٹر محمد علی رفعت منعقد ہوئی۔ جس میں طئے کیا گیا کہ 24 نومبر کو ادبی اجلاس منعقد کیا جائے ۔ جس میں قومی سطح کے نثری مزاح نگاروں کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اجلاس کے کنوینر ڈاکٹر علیم خاں فلکی ہوں گے ۔ کل ہند مزاحیہ مشاعرہ 25 نومبر کی شام منعقد ہوگا ۔ جس کے کنوینر ڈاکٹر معین امر بمبو ہوں گے ۔ یہ دو روزہ تقاریب ادارے کے سرپرست نواب شاہ عالم خاں مرحوم کے نام معنون کیے گئے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT