Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / ملک بھر میں 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کا چلن بند 10 نومبر تا 30 ڈسمبر تمام 500 اور 1000 کے نوٹوں کو بنکوں اور پوسٹ آفسوں میں جمع کرانے کی سہولت ‘ وزیراعظم کا اعلان

ملک بھر میں 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کا چلن بند 10 نومبر تا 30 ڈسمبر تمام 500 اور 1000 کے نوٹوں کو بنکوں اور پوسٹ آفسوں میں جمع کرانے کی سہولت ‘ وزیراعظم کا اعلان

2000 اور 500 روپئے کے نئے کرنسی نوٹوں کی /10نومبر سے اجرائی
آج اے ٹی ایم اور بینک بند رہیں گے  l   50 دن کے اندر نوٹوں کی تبدیلی
ابتدائی چند دن روزانہ 2000 روپئے نکالنے کی سہولت
۔31 مارچ 2017 ء تک آر بی آئی میں نوٹس جمع کرانے کی سہولت

نئی دہلی۔ 8 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی نے آج رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ نصف شب سے ملک بھر میں 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کا چلن بند ہوجائے گا۔ ان تمام 500 اور 1000 کے نوٹوں کو 10 نومبر تا 30 ڈسمبر تک تمام بنکوں اور پوسٹ آفسوں میں جمع کروایا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کالے دھن پر قابو پانے کیلئے حکومت نے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کالے دھن اور رشوت کے خلاف فیصلہ کن جنگ ہے ۔ عام آدمیوں کو تیقن دیتے ہوئے کہ ان کا پیسہ محفوظ رہے گا ، انہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے ڈھائی سال بعد قوم سے اپنے پہلے ٹیلی ویژن  خطاب میں کہا کہ /10 نومبر تا /30 ڈسمبر تک 50 دن کی ونڈو سہولت رہے گی جس کے درمیان عوام اپنے پرانے نوٹس بغیر کسی حد کے ڈپازٹ کراسکتے ہیں ۔ اب 500 اور 2000 روپئے کے نوٹوں کی نئی سیریز مکمل نئے ڈیزائن کے ساتھ جاری کی جائے گی۔ یہ نئے نوٹس تمام بینکوں کو پہلے ہی پہونچا دیئے گئے ہیں اور /10 نومبر سے ان کی گشت شروع ہوجائے گی ۔ سابق تجربہ کی بنیاد پر آر بی آئی نے موثر انتظامات کرلئے ہیں ۔ بینکس  کل 9 نومبر کو بند رہیں گے اور اے ٹی ایم بھی کام نہیں کریں گے ۔ اس اقدام سے صرف بڑی کرنسیوں پر اثر پڑے گا جبکہ انٹرنیٹ بینکنگ‘ ڈیمانڈ ڈرافٹ‘ رقمی لین دین برقرار رہیں گے۔ ابتدائی چند دنوں تک  فی اے ٹی ایم کارڈ سے روزانہ 2000 روپئے نکالے جاسکیں گے ۔ بعد ازاں اس کی حد 4000 کردی جائے گی ۔ اسی طرح نئے نوٹوں کی سربراہی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ابتدائی چند دنوں تک ہر کھاتے دار کو  صرف 10000 ہزار روپئے بینک سے نکالنے کی سہولت رہے گی۔ اور زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ میں صرف 20 ہزار روپئے نکالے جاسکتے ہیں۔ تاہم نوٹوں کے چلن کیلئے سرکاری دواخانوں اور انٹرنیشنل ایرپورٹس پر استثنی دیا گیا ہے۔ پورے ملک میں 9 نومبر تک بینک اے ٹی ایم کام نہیں کریں گے اور بعض مقامات پر 10 نومبر تک اے ٹی ایم بند رہیں گے۔ /24 نومبر تک بینک کاؤنٹرس اور مخصوص پوسٹ آفسوں سے روزانہ 4000 روپئے نکالے جاسکیں گے ۔ /25 نومبر کے بعد اس کی حد میں اضافہ کیا جائے گا ۔ بینکوں کی جانب سے زائد کاؤنٹرس کھولے جائیں گے اور عوام کے ہجوم سے نمٹنے کیلئے اضافی وقت تک کام کیا جائے گا تاکہ عوام اپنے نوٹوں کو ڈپازٹ یا تبدیل کراسکیں ۔ جن عوام کے پاس 30 ڈسمبر 2016  کے بعد  500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹ ہوں گے ‘ وہ انہیں ریزرو بینک انڈیا میں جمع کرواکر اپنی کرنسی تبدیل کرواسکتے ہیں۔ 31 مارچ 2017 تک ریزرو بینک آف انڈیا میں یہ سہولت دستیاب رہے گی۔ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو 30 ڈسمبر 2016 ء تک بینکوں‘ ہیڈ پوسٹ آفسوں اور سب پوسٹ آفسوں میں جمع کرواکر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ کرنسی نوٹ رکھنے والوں کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ اپنی کرنسی تبدیل کرتے وقت کارآمد شناختی ثبوت جیسے آدھار کارڈ‘ پیان کارڈ یا ووٹر آئی ڈی کارڈ پیش کریں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے مزید کہا کہ 8 نو مبر 2016 ء کی نصف شب سے بند ہوجانے والے تمام 500 اور 1000 کے نوٹوں کو مقررہ وقت کے اندر تبدیل کرانے کی قانونی حیثیت حاصل ہوگی اور یہ نوٹس کل سے صرف کاغذی حیثیت رکھیں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے مزید کہا کہ 500 اور 1000 کے نوٹوں کو زیادہ تر کالے دھن میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ہی نوٹوں کی مدد سے ملک میں بڑے پیمانہ پر کرپشن‘ کالادھن اور دہشت گردی کے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوٹوں کا چلن بند ہونے کے بعد کرپشن سے لے کر دہشت گردی تک ‘ اور سرحدپار سے دہشت گردوں کو بھی قابو میں کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کے اقدام سے جعلی نوٹوں کے چلن پر فوری روک لگ جائے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ غربت کے خلاف لڑائی کے لئے بڑے نوٹوں کے چلن کو قابو میں کرنا ضروری تھا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 1000 روپئے کے نوٹس کا اب تک چلن 6.7 بلین تکڑوں میں ہوا ہے ۔ جبکہ 500 روپئے کے نوٹوں کا چلن 16.5 بلین رہا ۔ وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ اس سخت اقدام سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن انہیں برداشت کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کم قدر والے نوٹوں جیسے 100 روپئے ، 50 روپئے ، 20 روپئے ، 10 روپئے ، 5 روپئے ، 2 روپئے اور ایک روپیہ کے علاوہ تمام سکے کارآمد اور قابل چلن ہوں گے ۔

TOPPOPULARRECENT