Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / ملک میں آبادی پر قابو کو اہمیت نہیں دی گئی

ملک میں آبادی پر قابو کو اہمیت نہیں دی گئی

سیاسی جماعتیں بھی خوف زدہ ، مذہب سے مربوط کرنا غلط : وینکیا نائیڈو
حیدرآباد۔26 اکتوبر (پی ٹی آئی) ہندوستان میں آبادی پر قابو کو اہمیت دینے کا فقدان پایا جاتا ہے۔ نائب صدرجمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے آج یہ بات کہی اور بعض گوشوں سے اس معاملے کو مذہب سے مربوط کرنے کے رجحان کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے سورنا بھارت ٹرسٹ حیدرآباد چیاپٹر کے میڈیکل کیمپ اور دو اسکل ڈیولپمنٹ سنٹرس کا افتتاح کرنے کے بعد کہا کہ ملک میں آبادی پر قابو پانے کو فراموش کردیا گیا ہے۔ ہندوستان کی آبادی اس وقت 130 کروڑ سے زائد ہے۔ ہم آبادی پر قابو کے پہلوؤں کو بھول گئے۔ سیاسی جماعتیں اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے خوف زدہ ہیں کیونکہ انہیں یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض گوشے اسے مذہب سے مربوط کرتے ہیں حالانکہ مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ حکمرانوں نے اس اہم مسئلہ کو اہمیت نہیں دی۔ نائب صدرجمہوریہ نے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہندوستان نوجوانوں پر مشتمل ملک ہے جہاں کی 65% آبادی کی عمر 35 سال سے کم ہے۔ اگر ملک کو ترقی کرنا ہو اور ہم اپنے نوجوانوں کو اونچی پرواز کرتے دیکھنے چاہتے ہیں تو پھر ہمیں خاطر خواہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہر نوجوان کو روزگار ملے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو نوجوان آبادی کی صلاحیتوں میں محض اس لئے اضافہ نہیں کرنا ہے کہ معاشی فائدے حاصل ہوں بلکہ اس کی سماجی وجوہات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اس باصلاحیت طاقت کو صنعتوں کے قیام اور روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہوئے بامقصد بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور ساتھ ہی ساتھ نوجوانوں کی اس میں شمولیت کا کام ایک ساتھ کیا جانا چاہئے۔ اسکل ڈیولپمنٹ کی اس معاملے میں کافی اہمیت ہے اور ملک کی ترقی کیلئے مرکزی و ریاستی حکومتوں کی ترجیح ہونی چاہئے۔ اس وقت سب سے اہم چیلنج بیروزگار نوجوانوں کو موثر ٹریننگ اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہے۔ پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا ایک انتہائی موثر فائدہ مند اسکل ٹریننگ اسکیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ شعبہ کا حصہ ملک کے جی ڈی پی میں 13% ہے اور ’’میک اِن انڈیا‘‘ کے ذریعہ آئندہ برسوں میں اسے 25% تک پہنچانے کا منصوبہ ہے تاکہ معیشت کو ترقی دی جاسکے۔ چین میں مینوفیکچرنگ شعبہ کا حصہ جی ڈی پی کا 36% ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ملک میں 13% تیزی سے ترقی پذیر معیشتوں کے مقابلے بالکل کم ہے۔ نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ حفظان صحت کے شعبہ کو آزادی کے بعد سے پیشرو حکومتوں نے اولین ترجیح دی ہے لیکن کئی چیلنجس آج بھی برقرار ہیں۔ ان میں عوام کا کم خرچ ، ڈاکٹر ۔ مریض کے تناسب میں کمی ، مریضوں کیلئے بیڈ کا تناسب کم ہونا اور میڈیکل کالجس و ٹرینڈ ڈاکٹرس کے فقدان کے علاوہ دیہی علاقوں میں ناکافی انفراسٹرکچر وغیرہ شامل ہیں۔ (متعلقہ خبر صفحہ 2 پر)

TOPPOPULARRECENT