Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک میں اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے خوفناک حالات

ملک میں اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے خوفناک حالات

انجینئرنگ کی ڈگریاں ایک بوجھ ، 92 فیصد طلبہ میں ملازمت کی قابلیت نہیں
حیدرآباد ۔ 25 ۔ ستمبر : ( ایجنسیز ) : ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال ملک میں لاکھوں انجینئر بنتے ہیں مگر ان سے صرف 15 فیصد کو ہی اپنے کام کے مطابق نوکری مل پاتی ہے ۔ اس لیے ملک میں انجینئرنگ کا کیرئیر تیزی سے اپنی اہمیت کھو رہے ہیں ۔ ملک کے قومی فروغ مہارت کارپوریشن کے مطابق سیول ، میکانیکل اور الکٹرنک انجینئرنگ جیسے سیکٹر کے 92 فیصد انجینئر اور ڈپلوما کرنے والے طلبہ ملازمت کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں ۔ اس سروے نے ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کی شرمناک اور خوفناک تصویر پیش کی ہے ۔ معیار سے متعلق غور و فکر کے بغیر ہزاروں انجینئرنگ کالج کھولنے کے لائسنس دئیے گئے اور طلب و ضرورت کے بغیر ہی اس کی نشستیں 37 لاکھ کردیں ۔ اب جب ان میں سے 27 لاکھ سیٹیں خالی رہ گئیں تو سب پریشان ہوگئے ۔ گذشتہ دنوں اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کا سب سے بڑا ادارہ آل انڈیا کاونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن ( اے آئی سی ٹی ای ) نے طئے کیا ہے کہ جن انجینئرنگ کالجوں میں 30 فیصد سے کم داخلے ہورہے ہیں ، انہیں بند کیا جائے گا ۔ فی الحال ملک بھر میں اے آئی سی ٹی ای سے ملحق 10,361 انجینئرنگ کالج ہیں جن میں جملہ 3,701,366 نشستیں ہیں ( لگ بھگ 37 لاکھ ) اب ان میں تقریبا 27 لاکھ سیٹیں خالی ہیں ۔ ملک میں اعلیٰ تعلیم کی حالت اتنی بدتر ہوچکی ہے کہ اے آئی سی ٹی ای نے طئے کیا ہے کہ جن کالجوں میں گذشتہ پانچ سالوں میں 30 فیصد سے کم سیٹوں پر داخلے ہوئے ہیں انہیں آئندہ بند کردیا جائے گا ، گذشتہ دنوں ایک پروگرام میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ نوجوانوں میں قابلیت بڑھنی چاہئے ۔ انہوں نے ڈگری کے بجائے صلاحیتوں کو اہمیت دیتے ہوئے کہا تھا کہ طلبہ کو اسکیل ڈیولپمنٹ پر دھیان دینا ہوگا ۔ سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ لاکھوں انجینئرنگ طلبہ میں 15 فیصد کو ہی نوکریاں مل پاتی ہے اور انجینئرنگ کے 92 فیصد طلبہ ملازمت کے قابل ہی نہیں ہوتے ہیں ۔ یہ اعداد و شمار نہایت تشویشناک ہیں ۔ کیوں کہ ہر سال حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں ۔ ملک میں اس وقت اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کے برے دن آچکے ہیں ۔ گذشتہ پانچ سال سے اعلیٰ تعلیم کا پورا ڈھانچہ لڑکھڑا رہا تھا ۔ لیکن کسی حکومت نے اس کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ اب پوری طرح سے مزید خستہ ہوچکا ہے ۔ یہاں اہم سوال اے آئی سی ٹی ای سے ہی ہے کہ انہوں نے پہلے کچھ کیوں نہیں کیا ؟ جب تکنیکی تعلیم کا ڈھانچہ لڑکھڑا رہا تھا تب اے آئی سی ٹی ای نے کوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھایا ؟ ۔ آخر اتنے بڑے پیمانے پر نشستیں خالی رہنے سے مزید کالجوں کے بند ہونے کا سیدھا اثر ملک کے اقتصادی حالات پر ہی پڑے گا ۔ یہ بات صحیح ہے کہ ملک میں اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کی بنیاد 2010 ء سے ہی ہلنے لگی تھی اور 2014 تک لگ بھگ 10 لاکھ نشستیں خالی تھیں ۔ لیکن تین سال پہلے مودی حکومت آنے کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کچھ بہتر ہوگا لیکن امیدوں پر پانی پھر گیا یعنی صرف حکومت تبدیل ہوئی لیکن پالیسیاں تقریبا وہی رہیں ۔ اور اب حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ جنہیں سنبھالنا بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے ۔ اب تو ایسے حالات ہوگئے ہیں کہ آئی آئی ٹیز میں بھی طلبہ کا رجحان کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ آئی آئی ٹیز میں 2017-18 تعلیمی سال کے لیے 121 نشستیں خالی رہ گئی ہیں ۔ گذشتہ چار سال میں اتنی نشستیں کبھی خالی نہیں رہیں ۔ آئی آئی ٹیز کے ڈائرکٹرز مانتے ہیں کہ نشستیں خالی رہنے کا سبب طلبہ کو من پسند سہولتیں نہ ملنا ہے ۔ ملک میں اسکیل انڈیا کا ڈھنڈورا پٹنے کے باوجود بے روزگاری تیزی سے بڑھی ہے ۔ حالت یہ ہوگئی کہ انجینئرنگ کی جس ڈگری کو حاصل کرنا کبھی نوکری کی گارنٹی اور خاندانی وقار کی بات مانی جاتی تھی آج وہ ڈگری طلبہ کے لیے بوجھ بنتی جارہی ہے ۔ ایسوچیم کا تازہ سروے بتارہا ہے کہ ملک کے اہم 20 اداروں کو چھوڑ کر دیگر ہزاروں اداروں سے نکلنے والے 7 فیصد طلبہ ہی نوکری پانے کے قابل ہیں ۔ یہ اعداد و شمار تشویش بڑھانے والا اس لیے بھی ہے کہ ہر سال حالات سدھرنے کے بجائے لگاتار خراب ہی ہوتے جارہے ہیں ۔ 2007 میں کئے گئے ایسے سروے میں 25 فیصد جبکہ 2012 میں 21 فیصد ایم بی اے ڈگریوں کو ملازمت دینے کے قابل مانا گیا تھا ۔۔

TOPPOPULARRECENT