Tuesday , October 16 2018
Home / Top Stories / ملک میں اقلیتیں کتنے محفوظ ہیں۔ تیستا ستلواد

ملک میں اقلیتیں کتنے محفوظ ہیں۔ تیستا ستلواد

جیسا عیسائی طبقہ کے سینئر ممبرڈاکٹر جان دیال کہتے ہیں کہ یہ ایک ’’نیا معمو ل ‘‘ ہے کہ اقلیتوں کے خلاف روز افرزوں تشدد کے واقعات روکنے میں موجود انتظامیہ کس قدر سرد مہری دکھارہی ہے۔ان کا مزید کہا کہنا ہے کہ ’’ مکزموں کو بری کرنے کی روش اپنی نہج پر پہنچ گئی ہے۔ ہندوتوا وادی نظریہ کے حامل پولیس فورس کے نوجوان کیڈران دلتوں ‘ مسلمانوں اور عیسائیو ں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہاکہ ملک گیر سطح پر تمام گرجا گھروں میں نہ صرف سی سی ٹی وی نصب کردیے گئے ہیں بلکہ ان کی اونچی اونچی دیواروں پر ننگے تاریابلیڈر وائر لگادئے گئے ہیں نیز قومی راجدھانی کے بڑے گرجا گھروں کے سامنے اب مسلح پولیس تعینات کی جائے گی ۔

یہ ایک ’’ نیامعمول ‘‘ہے۔جیسا کہ ٹائمز آف انڈیا میں صبا نقوی نے کرسمس کے موقع پر اشارہ کرتے ہوئے ا س بات کی وضاحت کی ہے کہ ملک میں بنیاد ی طور پر کچھ تبدیلیاں کردی گئی ہیں‘ جہاں بھی وہ اقتدار میں ہیں یا ائینی عہدوں پر فائز ہیں‘ اقلیتوں کو نفرت کے ساتھ مسلسل نظر انداز یا اپنے سے دور کررہے ہیں ‘ یہ نفرت انتہا پر پہنچ چکی ہے۔اے این ائی نے ریورٹ شائع کی ہے کہ دیوالی کی تقریب کے موقع پر راشٹرا پتی بھون خصوصی ساخت کے رنگ برنگی لائٹوں سے جگمگائے گا۔ درایں اثناء یہ بات سامنے ائی ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ ( جنھوں نے امریکہ کے سابق صدر برک اوباما کے ذریعہ عید کے موقع پر دئے گئے عشائیہ اور وہائٹ ہاوس میں دیوالی کے موقع پر کی جانے والی لائٹنگ کی تقریب میں شام ہونے کا اپنا پروگرام منسوخ کردیاتھا) وہائٹ ہاوس میں دیوالی کا تہوار منائیں گے‘‘۔

تجزیہ نگاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ ہندوستان میں عیسائی مخالف تشدد کے معاملے میں 2017بدترین سال ثابت ہوا ہے اور امید کی کوئی کرن بھی نظر نہیںآتی ہے ۔ ایک عالمی چیرٹی کا موثر ادارے جو کہ دنیا بھر میں عیسائیوں کے علاج کے لئے سب سے پسماندہ 50ملکوں کی فہرست تیار کرتاہے ‘ اس کا کہنا ہے ہندوستان میں 2017کے ابتدائی چھ ماہ میں یاتو عیسائیوں کو ہراساں کیاگیا یا پھر ان پر حملے کیے گئے یہ واقعات پورے 2016میں رونما ہونے والے واقعات سے کہیں زیادہ تھے۔حالانکہ یہ بات بہت پہلے ہی کہی جاسکتی تھی ‘ لیکن کتھولک بشپ کانفرنس آف انڈیا کے صدر کارڈینٹل بسیلیو نیلمس نے یہ بات بہت تاخیر سے نہیں کہی ہے کہ عیسائی عقیدہ کے مقلدین پر پڑھتے ہوئے حملے نہایت شرمناک ہوگئے ہیں۔

شاید وہ اس سے بھی زیادہ کچھ کہہ سکتے تھے لیکن وہ ان دو کیتھولک پادریوں اور سمینار میں شرکت کرنے والے ان تیس اراکین کی باتیں سن رہے تھے جوکہ مدھیہ پردیش کے ستنا میں موت کے منھ میں جانے سے بال بال بچ گئی تھے۔ وہ وہاں پر کرسمس کیرول گانے کے لئے گئے تھے۔ ان پر نہ صرف حملہ کیاگیا بلکہ ان کی کاروں کو نذر آتش کردیاگیاتھا لیکن موجودہ سیاست کا حقیقی المیہ یہ ہے کہ مقامی لوگوں کو عیسائی مذہب قبول کرانے کے جھوٹے الزام میں جیل بھیج دیا گیاتھا۔یہ ایک مضحکہ خیز منظر نامہ ہی نہیں بلکہ ایک خطرناک سازش تھی۔

ہندوستان نے 2017ک نفرت کے ایک سال کے طور پر گزاردیا۔ گجرات میں اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ اور آنے والے نئے ال کے آخر میں2019میں ہونے والے عام انتخابات کے لئے پہئے سے ہی ماحول ساز گار کرلیاگیا ہے۔ وزیر اعظم نریند ر مودی نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو یہ چیلنج دے کر آپ ’’ رام مندر چاہتے ہیں یا نہیں‘‘ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنا شروع کردیا ہے۔ خودساختہ گاؤرکشوں نے پورح ملک میں اور کبھی کبھی قومی راجدھانی میں بھی مسلمانوں اور دلتوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنانا ایک معمول بنالیا ہے۔ چونکہ مجرموں کو بری کرنے کی راوش اپنی انتہا پر پہنچ چکی ہے ‘ اس لئے ہندو وادی نظریہ کے حامل پولیس فورس کے نوجوان کیڈر ‘ دلتوں ‘ مسلمانوں او رعیسائیوں کو تشدد کا شکار بناکر انہیں جیل میں ڈال دیتے ہیں۔

مذہبی اقلیتوں کی تشویش میں مسلسلل اضافہ اس لئے ہورہا ہے کیوں کہ موجودہ حکومت میں ان کا اعتماد کم ہوگیا ہے ۔ لہذا حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے اعتماد ک بحال کرے’’جب این ڈی اے کے تحت اٹل بہاری واجپائی کی حکومت تھی اور ملک کی بہت سی ریاستوں میں بھی ان کی ہی حکومت تھی تو گذشتہ بیس برسوں کے دوران عیسائی ایک خوف کے ساتھ مگر پرجوش طریقہ سے کرسمس کی تقریب مناتے تھے۔آج صورت حال یہ ہے کہ پورے ملک کے گرجا گھروں میں سی سی ٹی وی نصب کردئے گئے ہیں اور ان کی دیواروں پر ننگے تار بچھادے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں قومی راجدھانی کے بڑے گرجا گھروں کے سامنے مسلح پولیس تعینات کی جائے گی ‘ یہ ایک نیا معمول ہی تو ہے۔

آڑیسہ کے کندھمال2007-08میں تواتر کے ساتھ دومرتبہ تباہی کا یہ منظر نامہ سامنے آیاتھا ‘ جس میں120افراد ہلاک ہوئے اور ابروریزیاں کی گئی تھیں‘320گرجا گھروں کو نذر آتش کیاگیا تھا‘6000مکانات منہدم کئے گئے تھے اور انتظامیہ کے افسران کے سامنے مجموعی طور پر سنگھ پریوار کے کارکنان نے انجام دئے تھے ۔ جرائم سے بری کئے جانے کی روش کا اس وقت بول بالا ہے جس کی تقویت نریندر مودی سے مل رہی ہے جوکہ نفرت انگیز طریقے سے کرسمس کو طویل گڈ گورننس میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک ان کے سرپرست آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوات کی بات ہے تو انہوں نے اعلانیہ طور پر یہ کہہ دیا ہے کہ ہر ایک ہندوستانی ہندو ہے اور ان کے کارکنان نے نفرت انگیزتقرریں کرکے اسے عملی جامعہ بھی پہنادیا ہے۔

یونائٹیڈ کرسچن فورم( یو سی ایف)کی رپورٹ کے مطابق 2014سے اب تک عیسائیوں پر حملے کیے جانے کے 700سے زائد واقعات ہیں ۔ گذشتہ سال اسی طرح کے 216واقعات رونما ہونے کی رپورٹ ملی تھی اور امسال تادم تحریر اسی نوعیت کے 216واقعات وقوع پذیر ہونے کی رپورٹ مل چکی ہے۔ ملک کی 29ریاستوں میں سے کم از کم19ریاستوں میں تسلسل کے ساتھ عیسائیوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں ۔ تمل ناڈو نومبر تک اس طرح کے 41واقعات کے ساتھ سرفہرست ہے۔ اس کے بعد چھتیس گڑھ میں39اترپردیش میں27مدھیہ پردیش میں22اور مہارشٹرا میں16واقعات رونما ہوئے۔

اسی سال 7فبروری کو مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں اس بات کا اعتراف کیاتھا کہ گذشتہ تین برسوں سے زیادہ مدت میں2000سے زائد فرقہ وارانہ تشدد کی وارداتوں کے سبب 278افراد ‘ جن میں سے زیادہ تر مسلمان تھے‘ ہلاک اور 6500سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ ’’ ورلڈ واچ لسٹ 2017‘‘کی فہرست کے ممالک میں ہندوستان کا نام ایسے 15ملک کے طور پر درج ہے ‘ جہاں پر اپنے عقیدہ پر عمل کرنا نہایت خطرناک ہے۔ جب کہ چند سال قبل ہندوستان کا نام31ویں درجہ پر ہوا کرتا تھا۔ دوسو سے زیادہ ووارداتوں کے بارے میں عیسائیوں کے ذریعہ بار بار اطلا ع دئے جانے کے باوجود پولیس ے حملہ کرنے والے صرف43مجرموں کے خلاف ایف ائی آر درج کی تھی ۔کہاجاتا ہے کہ جنگ کی بہترین حکمت عملی یہ ہے دشمنوں میں تفریق پیدا کردی جائے۔

اب عیسائی نشانہ پر ہیں اسی طرح مسلمان بھی نشانہ پر ہیں۔لیکن یہ دنوں ہی بے چینی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں جوکہ تاریخ اعتبار سے ایک دیگر غلطی ہے۔ آج کی دنیا میں دیوانہ پن کا ایک اسلامی فوبیا ہے او رہندوستانی عیسائی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں لیکن ایسی صورت حال میں مسلمانوں نہ تو خود احتسابی کررہے ہیں اور نہ ہی اپنے متعلقہ فرقوں یاگروپوں کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ معمولی طور پر وہ اگر سمجھتے ہیں تو یہ کہ وہ تفرقہ میں اسی طرح مبتلارہیں تو ایسی صورت میں تودشمن ہی ہر حالت میں جیت ہی جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT