Saturday , June 23 2018
Home / سیاسیات / ملک میں حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کیلئے بی جے پی ذمہ دار

ملک میں حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کیلئے بی جے پی ذمہ دار

٭ زعفرانی پارٹی کی مقبولیت میں بتدریج کمی ٭ مہنگائی بھی مودی کو عوام سے دُور کررہی ہے

٭ زعفرانی پارٹی کی مقبولیت میں بتدریج کمی
٭ مہنگائی بھی مودی کو عوام سے دُور کررہی ہے
نئی دہلی۔ 14 اگست (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں آج بی جے پی پھر ایک بار تنقیدوں کا نشانہ بنی ۔ ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات پر مباحث کے دوران ایوان میں شوروغل برپا ہوا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے حکمراں بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ فرقہ وارانہ اشتعال انگیزیاں کررہی ہے۔ بی جے پی کو نشانہ بنانے والے قائدین میں سماج وادی پارٹی قائد ملائم سنگھ یادو ، انڈین یونین مسلم لیگ کے لیڈر ای ٹی محمد بشیر اور کانگریس کے محمد اسرار الحق شامل تھے۔ کانگریس نے فرقہ وارانہ تشدد پر مباحث کا مطالبہ کیا تھا۔ کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی نے بھی گزشتہ ہفتہ ایوان کے وسط میں پہنچ کر احتجاج کیا تھا

اور مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ان کے اس غلط رویہ پر کوئی کارروائی بھی نہیں کی تھی۔ کل شام شروع ہونے والی اس بحث کا راج ناتھ سنگھ کو آج جواب دینا تھا لیکن وہ پارلیمنٹ میں حاضر نہ ہوسکے کیونکہ وہ اس وقت دواخانہ میں زیرعلاج ہیں۔ مباحث کا آغاز کرتے ہوئے ملائم سنگھ یادو نے الزام عائد کیا کہ اُتر پردیش کے حالیہ فرقہ وارانہ فساد ات میں بی جے پی کا ہاتھ ہے۔ اسی دوران بی جے پی حکومت اپنی مقبولیت بتدریج کھوتی جارہی ہے ۔ مہنگائی نے بھی وزیراعظم نریندر مودی کو عوام سے دُور کرنا شروع کردیا ہے۔ انتخابات سے قبل عوام سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل پر عوام ناراض ہیں۔ بی جے پی فی الحال اپنا اثر کھو رہی ہے۔ ماہر معاشیات بیبک ڈیبرو نے کہا کہ جون میں نئے وزیراعظم نے ازخود ایک اصلاحاتی ایجنڈہ وضع کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔کل جمعہ کے دن مودی لال قلعہ کی فصیل سے اپنی حکومت کی پالیسیوں کا اعلان کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT