Monday , December 11 2017
Home / مضامین / ملک میں دلتوں کی مشکلات ہر جماعت چمپئن بننے کی دعویدار لیکن مسائل برقرار

ملک میں دلتوں کی مشکلات ہر جماعت چمپئن بننے کی دعویدار لیکن مسائل برقرار

محمد علیم الدین

ہندوستان میں حالیہ عرصہ میں دلتوں کیلئے مسائل میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ دلتوں کی حالت میں کوئی سدھار آنا تو دور کی بات ہے ‘ ان کے مسائل میں لگاتار اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس حقیقت کے باوجود یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے کہ ملک کی تقریبا ہر سیاسی جماعت دلتوں کے کاز کی چمپئن ہونے کا ادعا کرتی ہے ۔ ہر جماعت چاہتی ہے کہ دلت عوام اس کا ووٹ بینک بن جائیں اور انتخابات کے موقع پر اس کی تائید کی جائے ۔ گذشتہ دنوں گجرات کے اونا ضلع میں دلت نوجوانوں کو بے دردی سے مارپیٹ کا واقعہ پیش آیا ۔ سوائے بی جے پی کے تقریبا ہر سیاسی جماعت نے اپنے طور پر ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی ۔ کسی کیلئے یہ سیاسی فائدہ کا مسئلہ تھا تو کوئی سنجیدگی سے ان کے مسائل کی آواز بننا چاہتا تھا ۔ خود آنندی بین پٹیل بھی ‘ جو اس وقت چیف منسٹر گجرات تھیں ‘ ان متاثرین سے ملنے کیلئے پہونچ گئیں۔ لیکن وہ سیاسی نقصان کی پابجائی کرنے میں ناکام رہیں اور اس مسئلہ پر اپوزیشن جماعتوں نے حتی المقدور فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ حالانکہ ہر جماعت ان کو راغب کرنا چاہتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دلتوں سے امتیاز کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ دلت سماج جب کبھی کچلے جانے کے خلاف مزاحمت کرتا ہے اعلی ذات والوں کا تشدد اور بھی سنگین ہوجاتا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں دلتوں پر حملوں کے واقعات میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں۔

بہار میں ہوئی انتخابی شکست کے بعد بی جے پی دلت برادری کے ووٹ حاصل کرنے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔ اسی کوشش کے ایک حصے کے طور پر یکم جون کو بی جے پی صدر امیت شاہ نے وزیر اعظم نریندرمودی کے حلقہ انتخاب وارناسی کا دورہ کیا اور وہاں انہوں نے ایک گاؤں میں زمین پر بیٹھ کر دلتوں کے گروپ کے ساتھ لنچ کیا ۔ بی جے پی صدر نے اپنے طور پر حالات کو سدھارنے کی کوشش کی اور وہ یو پی انتخابات میں اس طبقہ کی تائید حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن اس کے ایک ماہ بعد ہی حالات قابو سے باہر ہوگئے ۔ امیت شاہ اور نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں چار دلت نوجوانوں کو خود ساختہ گاو رکھشکوں کے ایک گروپ نے غیر انسانی انداز میں مارپیٹ کی ۔ یہ گروپ گجرات شیوسینا یونٹ سے تعلق رکھتا تھا ۔ شیوسینا این ڈی اے کی حلیف ہے ۔ اس کے بعد کرناٹک کا نمبر آیا ۔ 17 جولائی کو کرناٹک میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک دلت خاندان پر بیف کھانے کا الزام عائد کیا اور بہیمانہ مارپیٹ کی ۔ کرناٹک میں کانگریس کی حکومت ہے اور یہاں پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی نے دلت خاندانوں کے ساتھ کچھ وقت گذارتے ہوئے ان کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اس کے بعد بہار کی باری آئی جہاں جنتادل یو اور راشٹریہ جنتادل کی حکومت ہے ۔ یہاں 20 جولائی کو دلت نوجوانوں کو موٹر سائیکل چوری کرنے کے الزام میں نہ صرف مارپیٹ کی گئی بلکہ ان پر پیشاب بھی کیا گیا ۔ یہ سب کچھ اعلی ذات والوں نے کیا ۔ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بھی ہنگامہ آرائی ہوئی اور ان ہنگاموں کے دوران بی جے پی کے لیڈر دیا شنکر سنگھ نے ہندوستان کی سب سے اہم دلت لیڈر بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے تعلق سے ایسا ریمارک کردیا جو انتہائی ناقابل برداشت تھا ۔ انہوں نے مایاوتی کو ایک فاحشہ سے بدتر قرار دیا ۔
یہ تمام واقعات ایک وسیع تر منظرنامہ کی عکاسی کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے دلتوں سے زبانی اظہار ہمدردی تو کی جاتی ہے لیکن ہندوستان کی جو سماجی و معاشی حقیقت ہے وہی سماجی تنازعہ کا باعث بن رہی ہے اور اب یہ معاملہ اپنے عروج کو پہونچ رہا ہے ۔ درج فہرست ذاتوں و درج فہرست قبائل کو عام طور پر ’ دلت ‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ برادری ہندوستان کی جملہ آبادی کا 25 فیصد حصہ بنتی ہے ۔ تاہم آزادی کے سات دہوں کے بعد بھی دلتوں کی آبادی کا ایک تہائی حصہ دیہاتوں میں مقیم ہے اور 84 فیصد کی ماہانہ آمدنی پانچ ہزار روپئے سے بھی کم ہے ۔ حالانکہ دستور میں پسماندہ طبقات کو تحفظات کے نام پر کچھ ضمانتیں بھی دی گئی ہیں لیکن منڈل کمیشن کی سفارشات کے بعد سے اس کے ثمرات زیادہ اثر و رسوخ والے دلتوں کے حصے میں ہی آئے ہیں۔ دلت برادری اتر پردیش ‘ بہار ‘ پنجاب اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں کسی بھی سیاسی جماعت کی قسمت چمکانے کا موقف رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جماعت ان کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ان سے اظہار ہمدردی بھی کیا جاتا ہے لیکن یہ سب کچھ زبانی ہوتا ہے ۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی ہندوستان میں دلتوں کی سیاسی اہمیت کی ایک مثال ہے ۔ 2009 میں بی جے پی کو دلتوں کے 12 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے اور وہ اقتدار سے محروم ہوگئی تھی ۔ 2014 کے انتخابات میں بی جے پی کو دلتوں کے ووٹوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ۔ اس نے 24 فیصد ووٹ حاصل کئے اور پسماندہ طبقات کیلئے مختص 84 پارلیمانی حلقوں میں اسے 40 پر کامیابی حاصل ہوگئی ۔ ان میں اتر پردیش کے 17 حلقے بھی شامل ہیں بی جے پی نے ان تمام ریاستوں کے 70 محفوظ حلقوں میں 41 پر کامیابی حاصل کی ہے جہاں 2014 کے بعد سے اس نے اقتدار حاصل کیا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دلت جس طرف جائیں اقتدار اور کامیابی اس کی ہوجاتی ہے ۔

دلتوں کی تائید بی جے پی کو ملنے کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ 2014 میں جس سال بی جے پی اقتدار میں آئی درج فہرست ذاتوں کے خلاف 47,064 جرائم پیش آئے ہیں اس طرح ان میں 44 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ دلتوں کے خلاف جتنے جرائم ہوئے ہیں ان میں 30 فیصد تو بی جے پی کے اقتدار والی چار ریاستوں راجستھان ‘ مدھیہ پردیش ‘ گجرات اور چھتیس گڑھ میں پیش آئے ہیں۔ ایسے میں دلتوں کی تائید حاصل کرنے بی جے پی کی کوششوں کو نقصان ہوگا ۔ دلتوں کی بی جے پی کو تائید کے باوجود حقائق اس بات کے عکاس ہیں کہ اعلی ذات والوں نے انہیں نشانہ بنانے میں شدت پیدا کردی ہے جو ہمیشہ ہی بی جے پی کے اصل حمایتی رہے ہیں ۔ بی جے پی کی صفوں میں مظالم حالانکہ دلتوں کیلئے نئی بات بھی نہیں کہے جاسکتے کیونکہ اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتیں ان کے تعلق سے استعمال کرو اور چھوڑدو کی پالیسی اختیار کرتی ہیں۔
دلتوں کا احتجاج اب مختلف شکلیں اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ جاریہ سال جنوری میں دلت اسکالر روہت ویمولہ کی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں خود کشی پر سارے ملک میں برہمی کی لہر پیدا ہوگئی تھی ۔ پارلیمنٹ میں اس پر مباحث ہوئے ۔ وزیر اعظم مودی کو اس پر اظہار خیال کرنا پڑا ۔ اونا واقعہ کے بعد گجرات میں گائے کی چمڑی نکالنے والے دلتوں نے اس کام سے ہاتھ روک لیا ۔ انہوں نے مردہ گائیں سرکاری دفاتر کے سامنے ڈال دیں کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ گاو رکھشکوں کی کارروائیوں سے ان کا روزگار متاثر ہو رہا ہے ۔ مدھیہ پردیش میں 50 دلت خاندانوں نے چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان سے اپنے آپ کو ہلاک کرلینے کی ’’ اجازت ‘‘ طلب کی کیونکہ ان کا الزام تھا کہ غنڈہ عناصر نے ان کی اراضیات پر قبضہ کرلیا ہے جو پندرہ سال قبل حکومت نے انہیں الاٹ کی تھیں۔ ان کی اراضیات پر قبضہ کرنے والوں میں بنجارہ برادری کے افراد بھی شامل ہیں حکومت ایسے متاثرہ دلتوں کی کوئی مدد نہیں کر پا رہی ہے ۔ اعداد و شمار کے بموجب پنجاب میں 31.9 فیصد دلت ہیں۔ ہماچل پردیش میں 25.2 فیصد ‘ مغربی بنگال میں 23.5 ‘ اتر پردیش میں 20.7 اور ہریانہ میں 20.2 فیصد دلت ہیں۔ جو سماجی و معاشی اعداو شمار ظاہر کئے گئے ہیں ان کے بموجب آج بھی ہندوستان کے کئی حصوں میں دلتوں کی حالت انتہائی ابتر ہے ۔ ان کی معاشی حالت میں کوئی سدھار نہیں آرہا ہے اور وہ انتہائی نامساعد حالات ہی میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زائد از 60 فیصد دلت آبادی کسی بھی طرح کی معاشی سرگرمی میں حصہ نہیں لیتی ۔

بی جے پی نے اتر پردیش انتخابات پر نظر رکھتے ہوئے دلتوں کو رجھانے کی کوشش کی تھی جسے حالیہ عرصہ میں بڑے جھٹکے بھی لگے ہیں۔ بہار میں انتخابی شکست اور حیدرآباد میں روہت ویمولہ کی خود کشی کے بعد بی جے پی صدر امیت شاہ نے آر ایس ایس قائدین سے مشاورت کی تھی ۔ یہ مشاورت اتر پردیش میں دلتوں کی تائید حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کی کوشش تھی کیونکہ بی جے پی کسی بھی قیمت پر دلتوں کی حمایت سے محروم ہونا نہیں چاہتی ۔ آر ایس ایس نے سابق آر ایس ایس سربراہ مدھوکر دتاتریہ دیورس کے 100 ویں یوم پیدائش کے موقع پر مختلف اقدامات کا اعلان کیا ۔ آر ایس ایس ورکرس سے کہا گیا ہے کہ وہ دلت خاندانوں کو اپنائیں۔ ان کے ساتھ کھانا کھائیں۔ گاووں میں امتیاز کے خلاف ’ ایک کنواں ‘ ایک مندر اور ایک شمشان ‘ کا نعرہ بھی دیا گیا ۔ اتر پردیش میں آر ایس ایس ۔ بی جے پی رابطوں کے نگران کرشنا گوپال شعور بیدار کرنے کیلئے دلت چیتنا یاترا کا بھی اہتمام کر رہے ہیں۔
بی جے پی کی یہ ساری کوششیں دلتوں کی تائید انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے اور اقتدار حاصل کرنے تک محدود ہیں۔ وہ کسی بھی قیمت پر دلتوں کو رجھائے رکھنا چاہتی ہے تاکہ اسے یو پی میں اقتدار حاصل ہوجائے ۔ وہ سنجیدگی سے دلتوں کے مسائل حل کرنے اور انہیں ان کا مساوی حق دینے یا ان کے خلاف ہونے والے مظالم کو روکنے کیلئے کوئی موثر کارروائی کرتی نظر نہیں آ رہی ہے ۔ جو حالات آج سارے ملک میں ہیں وہ اسی بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ بی جے پی کیلئے دلتوں کی تائید حاصل کرنا اب آسان نہیں رہے گا ۔ دلت برادری شائد اب ایک بار پھر بی جے پی پر اندھا بھروسہ کرنے تیار نہیں ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT