Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک میں فرقہ پرستی، ناانصافی اور عدم رواداری کیخلاف رائے عامہ پر زور

ملک میں فرقہ پرستی، ناانصافی اور عدم رواداری کیخلاف رائے عامہ پر زور

ہمہ لسانی ادیبوں، شاعروں کو ترقی پسندی کا احیاء کرنا ناگزیر، پروفیسر بیگ احساس کا توسیعی لیکچر، پدم شری مجتبیٰ حسین و دیگر کا خطاب
حیدرآباد 20 مارچ (سیاست نیوز) انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیراہتمام ’’ترقی پسندی کی عصری معنویت‘’ پر منعقدہ اجلاس میں اس مشترکہ احساس کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی فسطائیت، فرقہ پرستی، ناانصافی اور عدم رواداری کے خلاف رائے عامہ کو منظم اور متحد کرنے کے لئے ملک کی تمام زبانوں کے ادیبوں، شاعروں کو ترقی پسندی کا احیاء کرنا ناگزیر ہے۔ بابری مسجد کے انہدام سے لے کر دادری کے المناک واقعہ تک رجعت پسند اور فرقہ پرست طاقتوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ ملک کے یہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس کے خلاف تمام مکاتب خیال کے امن پسندوں کو مل جُل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ اُردو ہال حمایت نگر میں منعقدہ اس اجلاس کی صدارت پدم بھوشن سی ایچ ہنمنت راؤ سابق رکن پلاننگ کمیشن نے کی۔ انھوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہاکہ ہندوستان کے دستور میں فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک منصوبوں کو محسوس کرتے ہوئے سیکولرازم کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ملک میں رہنے والے تمام طبقات کے ساتھ انصاف ہوسکے۔ انھوں نے کہاکہ آج ملک میں انسانی اقدار کو پامال کیا جارہا ہے، فرقہ پرست طاقتوں نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال کر غریب اور پسماندہ طبقات کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کی سازش رچائی ہے چنانچہ روہت ویمولا کی خودکشی اور جے این یو کے اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار کا احتجاج اسی سماجی بے چینی کا ایک جمہوری اظہار ہے۔ سماجی جہدکار جناب بی نرسنگ راؤ نے کہاکہ عصر حاضر میں اگر جمہوریت اور سیکولرازم کو محفوظ رکھنا ہے تو نئی نسل کو تیار کرنا ہوگا تاکہ ہندوستانی تہذیب اور رواداری کی اعلیٰ روایات کو جاری رکھا جاسکے۔ انھوں نے کہاکہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان فاشزم کی طرف گامزن ہے حالانکہ مودی کے آنے کے بعد ہندوستان میں فاشزم پوری قوت و طاقت کے ساتھ آگیا ہے جس کا اظہار اکثریتی طبقہ کے بعض نادان قائدین اور فرقہ پرست جماعتوں کے غیر ذمہ دار افراد کے بیانات اور طرز عمل سے ہورہا ہے۔ بی نرسنگ راؤ نے کہاکہ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران ادیبوں، شاعروں اور امن پسند دانشوروں پر جو حملے کئے گئے وہ دراصل امن و انصاف کی آواز کو کچلنے کی کوشش ہے۔ انھوں نے ساہتیہ اکیڈیمی کے ایوارڈ یافتہ مصنفین اور ادیبوں کو خراج تحسین پیش کیا جنھوں نے فرقہ پرستی کے خلاف بطور احتجاج اپنے ایوارڈس واپس کردیئے۔ انھوں نے اس موقع پر ہندوستان کی آزادی اور آزادی کے بعد اُردو زبان کے مؤثر رول کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ ملک کی واحد زبان ہے جس نے قومی یکجہتی اور جمہوری اقدار کو مستحکم کرنے میں تاریخ ساز رول ادا کیا ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر پدم شری جناب مجتبیٰ حسین نے کہاکہ آج ہندوستانی سماج میں وسیع النظری اور تنگ نظری کے درمیان جنگ جاری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تحریک کا احیاء کیا جائے۔ پروفیسر بیگ احساس نے کہاکہ ملک کے موجودہ حالات انتہائی کربناک اور بدترین ہوتے جارہے ہیں۔ عالمیانہ کے نام پر صارفین کا استحصال کیا جارہا ہے۔ سامراجیت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ انھوں نے اپنے طویل خطبہ میں کہاکہ گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد سے ملک کے کئی علاقوں میں فسادات رونما ہوئے اور اب تو گجرات کی فرقہ پرستی دہلی تک پہنچ چکی ہے اسی لئے ہندوستانی عوام کو کئی چیالنجس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جن میں صرف غربت و افلاس ہی نہیں بلکہ فرقہ پرستی، ظلم و زادتی اور سماجی ناانصافی شامل ہے۔ پروفیسر خالد قادری، جناب مصحف اقبال توصیفی، ششی نارائن سوادھین، ودھیش رانی نے مباحث میں حصہ لیا۔ انھوں نے کہاکہ عصر حاضر میں ترقی پسندی کی اہمیت اور ضرورت زیادہ ہے۔ انھوں نے پروفیسر بیگ احساس کے توسیعی خطبہ کو فکرانگیز اور حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ ڈاکٹر بی بی رضا خاتون اسسٹنٹ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی نے اپنے مخصوص انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیئے اور مقررین کا تعارف کروایا۔ ابتداء میں محترمہ قمر جمالی جنرل سکریٹری انجمن ترقی پسند مصنفین تلنگانہ نے سامعین کا خیرمقدم کیا اور ترقی پسند تحریک کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی۔ اس نمائندہ اجلاس میں پروفیسر اشرف رفیع، ڈاکٹر مصطفیٰ کمال، لکشمی دیوی راج، تراب الحسن، نسیمہ تراب الحسن، سابق رکن پارلیمنٹ عزیز پاشاہ، جسٹس ای اسماعیل، جناب عابد صدیقی، ڈاکٹر سید حسام الدین، محبوب حسین اصغر، قاری صدیق، ڈاکٹر ناظم علی، ڈاکٹر سیادت علی، احمد صدیقی مکیش، شاہد حسین، عبدالرحیم خاں سابق پرنسپل اردو آرٹس کالج، پروفیسر مجید بیدار، سید امتیازالدین کے علاوہ کئی معززین، ادیبوں ، شعراء اور دانشوروں کی بڑی تعداد شریک تھی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT