ملک میں مخلوط حکومت کا دور، آئندہ حکومت بھی مخلوط رہے گی

مرکز میں تیسرے محاذ کی حکومت کو یقینی بنانے ٹی آر ایس کی سرگرمیاں، ڈاکٹر کے کیشو راؤ کولکتہ روانہ

مرکز میں تیسرے محاذ کی حکومت کو یقینی بنانے ٹی آر ایس کی سرگرمیاں، ڈاکٹر کے کیشو راؤ کولکتہ روانہ

حیدرآباد۔/3مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے مرکز میں تیسرے محاذ کی حکومت کے قیام میں اپنی حصہ داری کو یقینی بنانے کیلئے ابھی سے سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ صدر ٹی آر ایس چندر شیکھر راؤ نے پارٹی کے قومی سکریٹری جنرل ڈاکٹر کے کیشو راؤ کو آج کولکتہ روانہ کیا جہاں وہ چیف منسٹر مغربی بنگال اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی سے ملاقات کریں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا مقصد مرکز میں تیسرے محاذ کی حکومت کے قیام کی حکمت عملی کو قطعیت دینا ہے۔ مرکز میں غیر کانگریس اور غیر بی جے پی حکومت کے قیام کے سلسلہ میں ممتا بنرجی سے اہم رول ادا کرنے کی خواہش کی جائے گی۔ وہ دیگر سیکولر جماعتوں سے اس سلسلہ میں مشاورت کرتے ہوئے ابھی سے تیسرے محاذ کی حکومت کے قیام کے لائحہ عمل کو طئے کرے گی۔اسی دوران ٹی آر ایس کی جانب سے مرکز میں تیسرے اور سیکولر محاذ کی تائید کا اعلان سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کانگریس پارٹی کو یہ پیام دینا چاہتی ہے کہ وہ مرکز میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے محاذ کی کسی بھی صورت میں تائید نہیں کرے گی۔ اس مسئلہ پر جب پارٹی کے فلور لیڈر ای راجندر سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مرکز میں مخلوط حکومت کا قیام یقینی ہے اور ان کی پارٹی تیسرے محاذ کی حکومت کی تائید کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تلنگانہ ریاست قائم ہوچکی ہے لہذا تیسرے محاذ میں تلنگانہ کی مخالفت کرنے والی جماعتیں جیسے سی پی ایم اور ترنمول کانگریس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کے بعد اب کسی بھی پارٹی کے ٹی آر ایس سے کوئی اختلافات نہیں ہیں، وہ غیر کانگریس اور غیر بی جے پی جماعتوں کے مرکز میں برسر اقتدار آنے کے حق میں ہے۔ واضح رہے کہ انتخابی مہم کے دوران چندر شیکھر راؤ نے نریندر مودی کی تائید نہ کرنے اور تیسرے محاذ کی تائید کا اعلان کیا تھا۔ انتخابی نتائج سے قبل ہی ٹی آر ایس کی سرگرمیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے لوک سبھا کی زائد نشستوں پر کامیابی کا یقین ہے۔ ٹی آر ایس ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ میں لوک سبھا کی 17نشستوں میں سے 10تا12نشستوں پر پارٹی کو کامیابی حاصل ہوگی۔ عام طور پر علاقائی جماعتیں مرکز میں قیام حکومت کے سلسلہ میں کسی بھی پارٹی کی تائید کے بارے میں لمحہ آخر تک اپنے موقف کا اظہار نہیں کرتیں لیکن ٹی آر ایس نے انتخابی نتائج سے قبل ہی اپنے موقف کا اعلان کرتے ہوئے دیگر پارٹیوں کو حیرت میں مبتلاء کردیا ہے۔ ای راجندر نے کہا کہ ملک میں مخلوط حکومتوں کا دور ہے اور آئندہ حکومت بھی مخلوط حکومت ہوگی۔ ٹی آر ایس چاہتی ہے کہ مرکز میں سیکولر حکومت قائم ہو اور تیسرے محاذ کی حکومت کے قیام کی صورت میں ٹی آر ایس حکومت میں حصہ دار ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT