Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / ملک میں ’معاشی افراتفری‘ ، مودی حکومت بے حس

ملک میں ’معاشی افراتفری‘ ، مودی حکومت بے حس

بے وقت اور بے مقصد فیصلہ ، راجیہ سبھا میں 7 گھنٹے بحث ،اپوزیشن کی شدید تنقید
نئی دہلی ۔ 16 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا کے سرمائی سیشن کا آج طوفانی انداز میں آغاز ہوا جہاں متحدہ اپوزیشن نے بڑی کرنسی بند کرنے حکومت کے فیصلہ کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ اس کی وجہ سے ملک میں ’’معاشی افراتفری‘‘ پیدا ہوگئی۔ اس کے علاوہ کرنسی کا چلن بند کرنے کے اعلان سے پہلے افشاء کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ اس کی تحقیقات کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہئے۔ حکومت نے 8 نومبر کے اعلان کے افشاء کا الزام مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ہر شخص کو تعجب ہوا یہی وجہ ہیکہ شروع میں مشکلات پیش آئی۔ کانگریس، جنتادل (یو)، آر جے ڈی، ایس پی، بی ایس پی، ترنمول کانگریس، بائیں بازو اور انا ڈی ایم کے نے متحدہ طور پر حکومت کے فیصلہ کی مذمت کی بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی جنہوں نے 500 اور 1000 روپئے کی کرنسی کا چلن اچانک بند کرنے کا اعلان کیا۔ اپوزیشن نے کہا کہ یہ ایک بے وقت اور بے مطلب قدم تھا جس کی وجہ سے عام آدمی، کسان اور غریب افراد بری طرح متاثر ہوئے۔ اپوزیشن ارکان کی نوٹس پر دیگر امور کو معطل کرتے ہوئے کرنسی کی منسوخی پر مباحث شروع ہوئے۔ حکومت نے اس اقدام کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ قومی مفاد میں ایسا کیا گیا ہے

تاکہ کرپشن اور کالادھن پر قابو پایا جاسکے جس کا ملک میں دہشت گرد سرگرمیوں سے راست تعلق ہے۔ بی جے پی یونٹس اور بی جے پی کے دوستوں کو قبل از وقت یہ اطلاع فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے تحقیقات کیلئے جے پی سی کا مطالبہ  کیا۔ ایوان میں 7 گھنٹے مباحث غیرمختتم رہے اور اپوزیشن ارکان مسلسل یہ مطالبہ کررہے تھے کہ وزیراعظم کو اس وقت یہاں موجود ہونا چاہئے تاکہ وہ ارکان کی بات سن سکیں۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ نریندر مودی کو جو آج راجیہ سبھا نہیں آئے تھے، کم از کم کل موجود رہنا چاہئے۔ کانگریس لیڈر آنند شرما نے بحث شروع کرتے ہوئے مودی پر طنز کے تیر چھوڑے اور کہا کہ ایک عام آدمی کو درپیش مسائل کے معاملے میں وہ بے حس ہیں۔ انہوں نے بے وقت اور بے معنی قدم اٹھاتے ہوئے ملک میں معاشی افراتفری پھیلادی  اور چند افراد کو فائدہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی حکومت انتہائی بے حس ہے۔ مودی جاپان میں بلٹ ٹرین میں سفر کررہے ہیں اور یہاں معمر مرد و خواتین 3 بجے رات سے محض اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کرنسی کی خاطر قطاروں میں ٹھہرے ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اس دعویٰ کے بارے میں بھی سوال کیا کہ ایسا کرنے سے کالادھن پر قابو پایا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑی کرنسی 2000 روپئے کی شکل میں جاری کی گئی ہے جو دیکھنے میں اس کاغذ کی طرح ہے جس پر ’’چورن‘‘ فروخت کیا جاتا ہے۔ (تفصیلی خبر صفحہ 5 پر) کانگریس کے پرمود تیواری، جنتادل (یو) لیڈر شرد یادو اور سی پی آئی ایم سیتارام یچوری نے بھی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ آنند شرما نے کہا کہ سوئس بینک میں جن کے کھاتے ہیں ان کے ناموں کا انکشاف کیا جانا چاہئے۔ حکومت مارکٹ میں زیرگشت 86 فیصد کرنسی کو کالادھن قرار دے رہی ہے اور ہر شخص کو مجرم کا نام دیا جارہا ہے۔ آج 9 دن ہوگئے اور روزانہ بینکس و اے ٹی ایمس کے باہر قطار بڑھتی ہی جارہی ہے۔ وزیرتوانائی پیوش گوئل نے حکمراں جماعت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے اپوزیشن کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ اس فیصلہ کے پس پردہ کوئی سیاست نہیں ہے اور صرف قومی مفاد میں اٹھایا گیا قدم ہے جس سے آگے چل کر ملک کو مدد ملے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے اس اقدام سے شرح سود کم ہوگی، افراط زر پر قابو پایا جاسکے گا اور ٹیکس شرح بھی کم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر 5 لوگ ٹیکس نہیں دیتے تو اس کا بوجھ مابقی 95 فیصد عوام پر عائد ہوتا ہے۔ اگر ٹیکس ادا کئے جائیں تو مرکز کے پاس بہبودی کاموں کیلئے کافی رقم ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT