Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / ملک میں کانگریس کے بجائے بی جے پی نظریات کو عام کرنے کی ضرورت

ملک میں کانگریس کے بجائے بی جے پی نظریات کو عام کرنے کی ضرورت

نئی دہلی 9 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ملک کو کانگریس سے آزاد کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کے نئے صدر امیت شاہ نے آج کہاکہ کانگریس کلچر کو بی جے پی کلچر سے تبدیل ضروری ہے اور اُن کی اولین ترجیح چار ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیابی دلانا ہے۔ امیت شاہ نے پارٹی کے نیشنل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہ

نئی دہلی 9 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ملک کو کانگریس سے آزاد کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کے نئے صدر امیت شاہ نے آج کہاکہ کانگریس کلچر کو بی جے پی کلچر سے تبدیل ضروری ہے اور اُن کی اولین ترجیح چار ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیابی دلانا ہے۔ امیت شاہ نے پارٹی کے نیشنل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ طویل عرصہ سے کانگریس کی سوچ ملک کی سیاست پر اثرانداز رہی ہے اور یہ ہمارے ملک کی سیاست کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس کلچر کو اب بی جے پی کلچر سے بدلنے کا وقت آگیا ہے۔

امیت شاہ نے دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین بشمول نتیش کمار (بہار) اور اکھلیش یادو (اترپردیش) پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اِن دو ریاستوں میں پارٹی کو اقتدار دلانا اب ضروری ہے۔ پارٹی کیڈر سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی کو اب دیگر ریاستوں جیسے آندھراپردیش میں تشکیل حکومت کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک کو ابھی کانگریس سے چھٹکارا دلانا باقی ہے۔ پارٹی کیڈر کو چاہئے کہ وہ مجوزہ اسمبلی انتخابات میں اِس نکتہ کو نوٹ کرلیں۔ واضح رہے کہ 4 ریاستوں جموں و کشمیر، ہریانہ، مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ امیت شاہ نے اترپردیش میں 80 کے منجملہ 73 لوک سبھا نشستوں پر بی جے پی کو کامیابی دلانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ اب جن چار ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں

وہاں ہمیں بی جے پی کو قطعی اکثریت یقینی بنانا ہوگا۔ یہی ہماری اولین ترجیح ہے لیکن ہمارا طویل مدتی مقصد یہ ہے کہ سارے ملک میں اچھی حکمرانی فراہم کی جائے۔ اُنھوں نے اِس بات پر خوشی کا اظہار کیاکہ عام انتخابات میں 14 نشستوں پر کانگریس کھاتہ بھی نہیں کھول پائی تھی۔ یہاں تک کہ پارٹی لوک سبھا میں قائد اپوزیشن کا موقف حاصل کرنے کے حق سے بھی محروم ہوگئی۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکز میں مودی حکومت اچھی حکمرانی کو یقینی بنائے گی اور پارٹی کارکنوں کو چاہئے کہ وہ عوام تک رسائی حاصل کرتے ہوئے چار ریاستوں میں کامیابی کا چیلنج قبول کریں۔ نہرو ۔ گاندھی خاندان اور عبداللہ خاندان کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے امیت شاہ نے کہاکہ اِن دو خاندانوں نے اِس بات کو یقینی بنایا ہے کہ دولت غریبوں تک نہ پہونچے۔ ہمیں اِس حقیقت کو زیادہ نمایاں کرنا ہوگا۔ اُنھوں نے مودی ٹیم کی ستائش کی جس نے گزشتہ 75 دن میں ایک مضبوط روڈ میاپ کے لئے بنیاد رکھی اور اِس پر آئندہ دنوں میں قوم کی تعمیر ہوگی۔ اُنھوں نے اترپردیش میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ اِسی طرح بہار کا حوالہ دیتے ہوئے اُنھوں نے نتیش کمار پر تنقید کی جو اب لالو پرساد یادو سے قریب ہورہے ہیں۔ یہی نتیش کمار انتخابات میں لالو پرساد کے جنگل راج کو ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار پر آئے تھے ۔ اب وہ لالو پرساد یادو سے دوستی کررہے ہیں اور اُنھیں کوئی پس و پیش نہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ سیاست میں اعداد و شمار سے زیادہ اُصولوں کی اہمیت ہوتی ہے اور ہمیں اِس غیر اخلاقی اتحاد کو بے نقاب کرنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT