Monday , November 20 2017
Home / سیاسیات / ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی ضرورت: وینکیا نائیڈو

ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی ضرورت: وینکیا نائیڈو

گوا میں یکساں سیول کوڈ نافذ ہے ۔شادی ، طلاق اور وراثت پرمخصوص قانون نامناسب
نئی دہلی۔ 30 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے راجیہ سبھا میں آج یکساں سیول اور فوجداری ضابطوں کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ بی آر امبیڈکر ملک کے لئے ایسے ضابطوں کے خواہش مند تھے۔ آنجہانی بی آر امبیڈکر کے 125 ویں یوم پیدائش کے موقع پر ’ہندوستانی دستور کی پابندی کا عہد‘ کے زیرعنوان بحث کے دوران وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ’’ڈاکٹر امبیڈکر سیول اور فوجداری دونوں ہی قوانین میں یکسانیت چاہتے تھے۔ تجربات کے کئی سال بعد بھی کیا ہم نے کوئی انصاف کیا ہے اور آیا اس سمت پیشرفت کئے ہیں؟ اور آیا کہ سیول قانون میں کہیں یکسانیت ہے؟‘‘وینکیا نائیڈو نے استفسار کیا کہ شادی بیاہ، وراثت، طلاق اور نان و نفقہ کے بارے میں یکساں قانون کے ضابطوں کی تیاری کے لئے بات چیت کرنا اور قبول کرنا آیا ممکن بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جی نہیں! تاحال ہم ایسا کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں، خواہ اس کے جو کچھ بھی وجوہات ہیں‘‘۔ وزیر پارلیمانی اُمور نے کہا کہ وہ ہندو قانون جیسے کسی ایک مخصوص قانون کی حمایت نہیں کرتے کہ اس کو تمام دوسروں پر غلبہ ہوجائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بھی اس سمت پیشرفت کی کوئی کوشش بھی کی گئی ہے حالانکہ سپریم کورٹ متعدد مرتبہ اس ضمن میں کہہ چکا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گوا میں یکساں سیول کوڈ نافذ ہے۔ انہوں نے شاہ بانو کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے اور پارلیمان کی جانب سے قانون میں ترمیم کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’’عملی طور پر یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ، مختلف طبقات یہاں ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں‘‘۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ وہ ایک وزیر سے کہیں زیادہ بحیثیت رکن پارلیمنٹ ان نظریات کا اظہار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امبیڈکر کی نظر میں ذات پات ، قوم دشمنی کے مترادف تھی۔ کیا ہم اس نظریہ سے انصاف کررہے ہیں یا پھر ذات پات ، مذہب اور علاقوں کی بنیاد پر سیاست تو نہیں کررہے ہیں۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس پر سب کو غور کرنا ہوگا۔ صنفی مساوات پر نائیڈو نے کہا خاتون صرف ایک خاتون ہوتی ہے خواہ وہ ہندو ، مسلمان، عیسائی یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتی ہو، خاتون بہرحال خاتون ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ معمارانِ دستور پارلیمنٹ ، عدلیہ اور دیگر دستوری اداروں کا احترام چاہتے تھے۔ ہم نے کہاں تک ان اداروں کو مستحکم کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT