Tuesday , September 25 2018
Home / ہندوستان / ملک میں 22 برسوں میں 12 لاکھ کسانوں کی خود کشی

ملک میں 22 برسوں میں 12 لاکھ کسانوں کی خود کشی

لوک پال پر عدم عمل آوری کیخلاف 23 مارچ سے ایک بار پھر احتجاج کرنے اناہزارے کی دھمکی
جموں ، 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں بدعنوانی اور ناانصافی کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنے والے 80 سالہ معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے کہا کہ وہ جن لوک پال بل کے نفاذ اور زرعی اصلاحات کے لئے 23 مارچ سے قومی راجدھانی دہلی میں ایک بار پھر ایجی ٹیشن شروع کریں گے ۔ انہوں نے اپنے حمایتیوں سے کہاکہ وہ ایجی ٹیشن کو کامیاب بنانے کے لئے تیاریاں شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسانوں کو ان کی محنت کا جائز صلہ نہیں ملتا جس کی وجہ سے گذشتہ 22 برسوں کے دوران 12 لاکھ کسانوں نے خودکشی کی ہے ۔ انا ہزارے نے چہارشنبہ کے روز یہاں دسہرہ گراؤنڈ میں منعقدہ جن سبھا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ‘ حق اطلاعات کا قانون یعنی آڑ ٹی آئی ہم نے بنایا پورے ملک کے لئے ۔ کیا لوگوں کو اس کا فائدہ نہیں ملا؟ یہ پورے دیش کے لئے قانون بن گیا۔ اس کے لئے میں 8 مہینے تک لڑتا رہا’۔ انہوں نے جن لوک پال بل کے نفاذ کے لئے 23 مارچ سے رام لیلا میدان میں ایک بار پھر ایجی ٹیشن شروع کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ لوک پال کے لئے 16 دن تک بھوک ہڑتال کی۔ اس دوران صرف پانی پر زندہ رہا۔ آخر حکومت کو قانون بنانا پڑا۔ قانون بن گیا مگر اقتدار میں آئے نئے لوگ اس پر عمل نہیں کررہے ہیں۔ اس لئے ایک بار پھر رام لیلا میدان میں احتجاج پر بیٹھنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تم زندہ ہوں، سماج اور دیش کے لئے زندہ ہوں۔ جس دن مروں گا، سماج اور دیش کی بھلائی کے لئے مروں گا۔ اس لئے 23 مارچ سے میں پھرسے احتجاج پر بیٹھ رہا ہوں۔ میرا کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ ابھی تک 8 قانون بن گئے ہیں۔ ان میں آر ٹی آئی اور گرام سبھا کا قانون قابل ذکر ہیں۔ ان کا فائدہ لوگوں کو مل رہا ہے ۔ انا ہزارے نے کسانوں کے حالت زار پر کہاکہ کسان اپنے کھیتوں میں محنت کرتے ہیں، لیکن انہیں صحیح دام نہیں ملتے ۔ 22 برسوں میں 12 لاکھ کسانوں نے خودکشی کی ہے ۔ وہ اس لئے خودکشی کرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی محنت کا جائزہ صلہ نہیں ملتا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT