Tuesday , May 22 2018
Home / ہندوستان / ملک میں 3,200 کروڑ کے TDS اسکام کا انکشاف

ملک میں 3,200 کروڑ کے TDS اسکام کا انکشاف

مالیاتی اسکامس کا سلسلہ جاری
447 کمپنیوں کی جانب سے اپنے ملازمین کے ٹیکسیس کی تخفیف کے بعد بھی حکومت کو عدم ادائیگی: محکمہ انکم ٹیکس
ممبئی 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) محکمہ انکم ٹیکس نے ایک اور مالیاتی اسکام کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کی 447 کمپنیاں مجموعی طور پر 3,200 کروڑ کے مالیاتی بدعنوانی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آئی ٹی ڈپارٹمنٹ نے اس طرح کی 447 کمپنیوں نے پتہ چلایا ہے جنھوں نے اپنے ملازمین سے تو ٹی ڈی ایس منہا کیا لیکن حکومت کے خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ ان کمپنیوں نے ملازمین کے منہا کئے گئے ٹی ڈی ایس کو اپنے ہی کاروبار میں مشغول کردیا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس کی ٹی ڈی ایس شعبہ نے ان کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں اور کئی معاملات میں وارنٹس بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔ انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت ان معاملوں میں تین مہینوں سے لے کر جرمانے کے ساتھ 7 سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ خاطی کمپنیوں اور اُن کے مالکین کے خلاف آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 276B کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ آئی پی سی کی دفعات کے تحت دھوکہ دہی اور فوجداری مقدمات بھی درج کررہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اسکام میں ملازمین کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہے اِس لئے آئی پی سی کی دفعات بھی لگائی جائیں گی۔ ٹائمز نیوز نیٹ ورک کی اطلاع کے مطابق خاطی کمپنیوں میں سے ایک بلڈر بھی ہے جس کا سیاسی اثر و رسوخ ہے۔ مذکورہ بلڈر نے ملازمین کی تنخواہوں سے منہا کئے گئے ٹی ڈی ایس کے 100 کروڑ روپئے اپنے کاروبار میں مشغول کئے۔ دیگر خاطیوں میں پروڈکشن ہاؤز سے لے کر انفراسٹرکچر کمپنیوں کے مالکین بھی شامل ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس سے وابستہ ایک عہدیدار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ حال ہی میں انجام دیئے گئے ویریفکیشن سروے میں 447 کمپنیوں کے کیسیس سامنے آئے ہیں۔ ان کمپنیوں نے ملازمین کے ٹی ڈی ایس کے 3200 کروڑ روپئے تنخواہوں سے منہا کرلئے لیکن اُس رقم کو حکومت کے پاس جمع کروانے کے بجائے اپنے کاروبار میں مشغول کئے۔ اُن کے مطابق یہ اعداد و شمار اپریل 2017 ء سے مارچ 2018 ء تک کا ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے بازیابی کے لئے کارروائی شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق خاطی کمپنیوں کے بینک کھاتے منجمد کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ کئی معاملوں میں کمپنیوں نے ٹی ڈی ایس کا پیسہ ورکنگ کیپٹل میں مشغول کردیا۔ جبکہ کچھ کمپنیوں نے اپنی غلطی قبول کرتے ہوئے معافی طلب کی ہے اور ٹی ڈی ایس کی رقم انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ جبکہ کچھ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مارکٹ کی صورتحال صحیح نہ ہونے کی وجہ سے وہ اِس رقم کو ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ جبکہ کئی معاملوں میں ملازمین کی تنخواہوں سے منہا کئے گئے ٹی ڈی ایس کا نصف حصہ ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے کھاتے میں منتقل کردیا گیا جبکہ مابقی رقم کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم محکمہ انکم ٹیکس نے مذکورہ تمام خاطی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایسے کئی اسکامس منظر عام پر آسکتے ہیں جو ملک کی معیشت کے لئے کافی نقصان دہ ثابت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT