Monday , November 20 2017
Home / مضامین / ملک پر عملاً آر ایس ایس کی حکومت

ملک پر عملاً آر ایس ایس کی حکومت

غضنفر علی خان
بی جے پی تو اس وقت حکمران پارٹی ہے ۔ بی جے پی کا ہر شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ آر ایس ایس سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اگر اس دعوے کو مان بھی لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ اس پر یہ تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ
سر آئینہ تیرا عکس ہے ، پس آئینہ کوئی اور ہے
ساری پالیسیاں جو بی جے پی حکومت اختیار کررہی ہے ،وہ آر ایس ایس کا مخفی ایجنڈہ ہے ،کیونکہ بی جے پی 2014 کے زبردست انتخابی کامیابی کے پس پردہ آر ایس ایس کا ہاتھ تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آر ایس ایس کا شمار ملک کی ان سیاسی طاقتوں میں ہوتا ہے جو بے حد منظم ہے اور جس کا اپنا ایک کیڈر ہے جس کا مقصد ملک سے سیکولرازم کو ختم کرکے یہاں ہندوتوا قائم کرنا ہے ۔ خود بی جے پی تو یہ کام نہیں کرسکتی البتہ آر ایس ایس بی جے پی کے کندھوں پر بندوق رکھ کر اپنا مقصد ضرور حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ اس کوشش میں آر ایس ایس کامیاب بھی ہورہی ہے ۔ موجودہ مرکزی کابینہ میں شامل وزراء ، آر ایس ایس ہی کے تربیت یافتہ ہیں ،خود وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی تربیت اسی طرح ہوئی ان کی تعلیم بھی اسی آر ایس ایس کی دین ہے ۔ ان ساری باتوں کے باوجود آج بھی بی جے پی کا اصرار ہے کہ اس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے ۔ اگر کنٹرول نہ ہوتا تو حکومت کے تقریباً تمام وزراء اور وزیراعظم مودی اس طرح سے ’’دست بستہ‘‘ ہو کر قطار در قطار آر ایس ایس کے اس اجلاس میں شریک نہ ہوتے ،جس میں آر ایس ایس نے حکومت کی کارکردگی کی ستائش کی ۔ وزراء کی پیٹھ ٹھونکی ان کے کام کی تعریف کی اور مجموعی طور پر مرکزی حکومت کی کارکردگی پر طمانیت کا اظہار کیا ۔ نریندر مودی انفرادی طور پر تمام مرکزی وزیر کے آر ایس ایس کے اجلاس پر حاضری دینے کے بعد وہاں پہنچے اور نہایت ادب و احترام سے اپنے کام کی سند قبولیت حاصل کی ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں وزیراعظم اور ان کے کابینی رفقاء کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ آر ایس ایس کو بی جے پی جوابدہ نہیں ہے بلکہ ملک کے ان عوام کو جوابدہ ہے جنھوں نے کانگریس کو بالکلیہ طور پر مسترد کرکے بی جے پی کو اقتدار حوالے کیا ۔ اپنی کارکردگی کی ستائش اور تحسین تو پارٹی کو عوامی عدالت سے حاصل کرنی چاہئے تھی  ۔

عوام کو نظر انداز کرتے ہوئے آر ایس ایس کے دربار سے رجوع ہو کر بی جے پی نے آر ایس ایس سے سند حاصل کرکے یہ تاثر دیا کہ ملک کے عوام کی تمناؤں ، امیدوں کو بی جے پی کوئی خاطر میں نہیں لاتی بلکہ صرف اپنے مربی کی خوشنودی کے حصول کو اپنا مقصد سمجھتی ہے ۔ آر ایس ایس نے حکومت کی کارکردگی پر جو اظہار طمانیت کیا وہ کسی بھی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا ۔ تمام محاذوں پر بی جے پی حکومت یکسر ناکام ہے ۔ قیمتوں میں اضافہ کا مسئلہ دھرا کا دھرا ہے بلکہ اس میں اور شدت پیدا ہوگئی ۔ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی نازک ہے ۔ بی جے پی کا کوئی بھی لیڈر جب چاہے کوئی ایسا بیان دیتا ہے جس سے ملک کے حالات ابتر ہوسکتے ہیں ۔ اس محاذ پر بھی مودی حکومت ناکام ہے ۔ مذہبی منافرت ہیکہ شدت اختیار کررہی ہے ۔ تعصب و تنگ نظری جو پہلے کم تھی اب اس میں شدت سے نظر آرہی ہے ۔ خارجہ پالیسی کے جھول ابھی ختم نہیں ہوئے ۔ اگر آر ایس ایس کو بی جے پی  حکومت کی تعریف کرنی ہو تو وہ نریندر مودی کو یہ مشورے دے سکتی تھی کہ وہ اپنے بیرونی دوروں کو ختم کریں ۔ ان دوروں سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوا  ۔داخلی طور پر اتنے مسائل درپیش ہیں کہ وزیراعظم کو تو ہمہ وقتی طور پر ملک میں رہنا چاہئے ۔ جتنے دورے حکومت کے قیام کے بعد نریندر مودی نے کئے ، اتنے دورے ملک کے کسی اور وزیراعظم نے ماضی میں نہیں کئے ۔ ان دوروں پر بے حساب خرچ ہوتا ہے ۔ اس سلسلہ میں اعداد و شمار بھی آچکے ہیں ۔ سچ بات تو یہ ہے کہ کیوں مودی ملک کے باہر رہنے اور تفریح طبع کے لئے ملک کی دولت اس بے رحمی سے لٹارہے ہیں ۔ اگر آر ایس ایس اس موجودہ حکومت کو اطمینان بخش سمجھتی ہے تو اس کو پہلے حکومت سے حساب کتاب دریافت کرنا چاہئے اور حقائق کا پتہ چلانے کے بعد مودی حکومت یا خود وزیراعظم مودی کو ’’بہتر حکمرانی‘‘ کا مشورہ دینا چاہئے تھا ۔ آر ایس ایس کے لئے موجودہ حالات غنیمت ہیں کہ کوئی اسکا ہم خیال ، کوئی پروردہ آغوش جماعت اس کے ایجنڈے پر عمل تو کررہی ہے ۔ آر ایس ایس کو اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ اس کو ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں کبھی حکمرانی کا موقع نہیں مل سکتا کیونکہ آر ایس ایس کی سیاسی فکر اور ملک کے عوام کا سیاسی نظریہ ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ 68 برس میں (آزادی کے بعد) ملک کے عوام نے سیکولرازم اور ’’کثرت میں وحدت‘‘ کے نظریہ کو اپنایا ۔ اسکو کسی اور نظریہ کا شکار نہیں بنایا جاسکتا ۔ سیکولرازم ملک کے عوام کی رگ و پے میں دوڑ رہا ہے ۔ اس کیفیت کو بدلا نہیں جاسکتا ۔ قومی رہنما گاندھی جی سے آر ایس ایس کو بغض رہا ۔ بلکہ ان کے قتل کی ذمہ داری بھی عصری تاریخ کے معتبر مورخین نے آر ایس ایس پر ہی ڈالی ہے ۔ ناتھورام گوڈسے جو گاندھی جی کا قاتل تھا آر ایس ایس ہی کا کارندہ تھا جسکے بارے میں حال ہی میں آر ایس ایس نے یہ انتہائی غیر انسانی بات کہی تھی کہ ’’گوڈسے نے گاندھی جی کے بجائے اگر جواہر لال نہرو کو گولی ماری ہوتی تو بہتر ہوتا‘‘ ۔

کیونکہ نئے ہندوستان کی بنیاد جواہر لال نہرو ہی نے رکھی تھی ۔ سیکولر جمہوریت کو  انھوں نے ہی پروان چڑھایا تھا ۔ جو آر ایس ایس کے محدود ذہن نے کبھی قبول نہیں کیا ۔ آج بھی کانگریس یا سیکولر طاقتوں سے آر ایس ایس کو یہ بغض و عداوت ہے کہ انھوں نے ملک میں ہندو راج قائم کرنے کی راہیں مسدود کردی ہیں ۔ آر ایس ایس کو بخوبی اندازہ ہے کہ ملک کے عوام کے اس کھلے ذہن کے سانچے کو نہیں بدلا جاسکتا ہے لیکن آر ایس ایس نے اپنی کوشش کبھی ترک نہیں کی  ۔ نریندر مودی اور بی جے پی ہمیشہ کانگریس پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ کانگریس پارٹی  کی قیادت سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے ہاتھ میں نہیں تھی بلکہ اصل حکمرانی پس پردہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ مسز سونیا گاندھی کیا کرتی تھیں ۔ اگر سونیا گاندھی  اپنی پارٹی کا پس پردہ کنٹرول کیا کرتی تھیں تو یہ اتنی بری بات نہیں جتنی بی جے پی پر آر ایس ایس کا ریموٹ کنٹرول ہے ۔ حالانکہ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ سونیا گاندھی پوری طرح پارٹی پر کنٹرول کیا کرتی تھیں ۔ کچھ بھی ہو سابق حکومت کے دور میں کوئی ’’ماورائے دستور‘‘ اتھاریٹی تو نہیں تھی ۔ جبکہ موجودہ حکومت ایک ماورائے دستور اقتدار کے مکمل کنٹرول میں ہے ۔ کیا ضرورت تھی کہ کئی مرکزی وزرا نے آر ایس ایس سے سند پسندیدگی حاصل کی کیوں کہ یکے بعد دیگرے آر ایس ایس کے اقتدار کے آگے گھٹنے ٹیکتے رہے ۔ اگر ملک کے عوام بی جے پی سے یہ سوال کریں کہ حکومت وقت کے نمائندوں نے ایک غیر دستوری پارٹی کے دفتر پر کیوں حاضری دی ۔ تو اسکا کیا جواب ہوسکتا ہے ۔ سوائے اس کے کہ بی جے پی تسلیم کرے کہ اس کا ریموٹ کنٹرول آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہے ۔ وہ (بی جے پی) عوام کو نہیں بلکہ آر ایس ایس کو جوابدہ ہے ۔ اگر آر ایس ایس حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہوجائے تو بی جے پی کے وارے نیارے ہوجائیں گے ۔ ایک غیر دستوری اور اقتدار سے دور آر ایس ایس کی بارگاہ میں یوں بی جے پی اسکے لیڈروں اور سب سے بڑھ کر وزیراعظم کا حاضر ہونا ملک کے وقار پر کاری ضرب ہے ۔ ایسا کرکے بی جے پی نے جہاں یہ تاثر دیا کہ وہ آر ایس ایس کی کٹھ پتلی ہے وہیں یہ احساس بھی دلایا کہ زاید دستوری سیاسی طاقت کو وہ قبول کرتی ہے  ۔آر ایس ایس کی بالادستی کو تسلیم کرتی ہے ۔ ان واقعات کے بعد اب اس بات کی ضرورت نہیں رہی کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے تعلقات پر کوئی بحث ہو ۔ اظہر من الشمس ہے کہ بی جے پی اپنے چہرے پر جمہوریت کا پردہ ڈال کر ہندوستانی عوام کو دھوکہ دے کر وہ سب کچھ کررہی ہے جو آر ایس ایس چاہتی ہے ۔ یہ کسی پارٹی کی حکومت نہیں آر ایس ایس کی حکومت  ہے  ۔یہ ملک کے لئے کتنی بدبختی کی بات ہے کہ اس پر بھی کوئی تبصرہ کرنا فضول ہوگا لیکن ملک کے سیکولر عوام آر ایس ایس کے اس کنٹرول کا انتقام بی جے پی  سے آئندہ انتخابات میں لیں گے  ۔

TOPPOPULARRECENT