Tuesday , November 21 2017
Home / جرائم و حادثات / ملک پیٹ ای سیوا رہزنی مقدمہ ‘ وقار احمد کے دو ساتھی بری

ملک پیٹ ای سیوا رہزنی مقدمہ ‘ وقار احمد کے دو ساتھی بری

ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سشن جج کا فیصلہ ۔ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام
حیدرآباد ۔ /7 جولائی (سیاست نیوز) نامپلی کریمنل کورٹ کے ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹین سیشن جج ڈاکٹر ٹی سرینواس راؤ نے وقار احمد کے دو ساتھیوں کو 14 سال قبل درج کئے گئے ملک پیٹ ای سیوا رہزنی مقدمہ میں باعزت بری کردیا ۔ یکم جنوری 2003 ء کو تحریک غلبہ اسلام کے وقار احمد نے اپنے دو ساتھیوں سید عمر شمیم اور اترپردیش کے ونود کمار ساہو کی مدد سے ملک پیٹ واٹر ٹینک میں واقع ای سیوا میں رہزنی کی واردات انجام دیتے ہوئے 2 لاکھ 68 ہزار روپئے لوٹ لئے تھے ۔ ابتداء میں اس کیس کو چادر گھاٹ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا اور 2010 ء میں وقار احمد اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد اس کیس میں ملوث ملزمین کا پتہ چلنے پر کیس کو سی سی ایس کے اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کے حوالے کردیا گیا تھا ۔ ایس آئی ٹی نے تینوں ملزمین کے خلاف ملک سے غداری ، مجرمانہ سازش اور رہزنی کے دفعات کے تحت چارج شیٹ داخل کی تھی اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے ای سیوا سے لوٹی گئی رقومات کا استعمال کیا گیا ہے ۔ ایس آئی ٹی نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ جھانسی اترپردیش سے ونود کمار ساہو سے ایک بندوق بھی حاصل کی گئی تھی جسے رہزنیوں میں استعمال کیا گیا تھا ۔ عدالت نے استغاثہ کے 20 گواہوں کا معائنہ کیا اور وقار کا نام اس کیس سے حذف کردیا کیونکہ اسے /7 اپریل 2015 ء کو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اس وقت انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا گیا تھا جب اسے ورنگل سنٹرل جیل سے نامپلی کریمنل کورٹ منتقل کیا جارہا تھا ۔ وکیل دفاع ایڈوکیٹ محمد آصف علی نے عدالت میں اپنے موکل کے حق میں دلائل پیش کرتے ہوئے یہ بتایا کہ استغاثہ نے چارج شیٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ رہزنی کے وقت ملزمین اپنے چہروں پر نقاب (منکی کیاپ) لگائے ہوئے تھے اور اس کے باوجود گواہوں نے انہیں شناخت پریڈ میں کیسے ان کی نشاندہی کی ۔ عدالت نے پبلک پراسیکیوٹر اور وکلائے دفاع ایڈوکیٹ آصف علی اور محمد رفعت اللہ ایڈوکیٹ کی بحث کے بعد سید عمر شمیم اور ونود کمار ساہو کو باعزت بری کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT