Monday , January 22 2018
Home / Top Stories / ملک کو فسطائی مملکت میں تبدیل کرنے ہندوطاقتوں کی سازش کے خلاف مہم

ملک کو فسطائی مملکت میں تبدیل کرنے ہندوطاقتوں کی سازش کے خلاف مہم

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کنونشن کا اختتام ، قراردادیں منظور وزیراعظم کے بااعتماد ظفر سریش والا اجلاس چھوڑ کر جانے کیلئے مجبور

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے
کنونشن کا اختتام ، قراردادیں منظور

وزیراعظم کے بااعتماد ظفر سریش والا اجلاس چھوڑ کر جانے کیلئے مجبور

جئے پور ۔ /22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آج نریندر مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے دائیں بازو طاقتوں کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے ۔ ان ہندو تنظیموں جیسے آر ایس ایس پر ملک کو ’’فسطائی مملکت‘‘ میں تبدیل کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ۔ بورڈ کے دو روزہ کنونشن کے اختتام پر آج کہا گیا ہے کہ ’’دفاعی کمیٹی برائے دستوری حقوق‘‘ ملک بھر میں مہم چلائے گی تاکہ اقلیتوں میں اعتماد کی فضاء بحال ہوسکے ۔ اجلاس کے بعد بورڈ کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری مولانا عبدالرحیم قریشی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال پر ہمیں بے انتہا تشویش ہے ۔

نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد یہ صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے ۔ نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی بھی خود کو غیرمحفوظ محسوس کررہے ہیں ۔ بورڈ نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا کہ دائیں بازو کی طاقتیں مرکز میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد اقلیتوں کے خلاف سرگرم ہوگئی ہیں ۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ہندو تنظیموں جیسے آر ایس ایس کی سازشوں کے خلاف عوامی تائید حاصل کی جائے گی۔ یہ طاقتیں ملک کو سیکولر جمہوریت سے فسطائی مملکت کی سمت لے جارہی ہیں ۔ مولانا عبدالرحیم قریشی نے کہا کہ وی ایچ پی قائدین جیسے اشوک سنگھل ، پروین توگاڑیہ اور سادھوی پراچی اقلیتوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ ہندو تنظیمیں گھر واپسی جیسے پروگرامس منعقد کررہی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور وی ایچ پی قائدین کا یہ زہر صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ عیسائیوں کے خلاف بھی ہے ۔ یہ دراصل سماج کو تقسیم کرنے کی سازش ہے اور اس کے خلاف مہم میں ہم نہ صرف تمام مسلمانوں بلکہ ہندوؤں کی بھی تائید کے خواہاں ہے ۔ اگر دائیں بازو کی طاقتیں اقلیتوں کے خلاف اپنے ایجنڈہ پر کاربند رہیں تو پھر اس کا نتیجہ ملک میں افراتفری کی صورت میں ظاہر ہوگا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے گھر واپسی مسئلہ پر اب تک ایک لفظ نہیں کہا ہے ۔ تاہم بورڈ نے مستقبل قریب میں وزیراعظم سے ملاقات کا امکان مسترد کردیا اور کہا کہ فی الحال اس کی ضرورت نہیں ۔ بورڈ نے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ اگر ضرورت محسوس ہو تو ملاقات بھی کی جاسکتی ہے ۔ جب کبھی ایسی ضرورت محسوس ہوگی بورڈ ضرور وزیراعظم سے نمائندگی کرے گا۔ اجلاس کے موقعہ پر بعض ارکان نے گجرات کے تاجر اوروزیراعظم نریندر مودی کے بااعتماد چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد ظفر سریش والا کی شرکت پر اعتراض کیا ۔

چنانچہ اجلاس میں یہ اعلان کیا گیا کہ بورڈ کے ارکان یا دیگر مہمان جنہیں مدعو نہیں کیا گیا ہے وہ اجلاس سے چلے جائیں ۔ اس اعلان میں کسی انفرادی شخص کا نام نہیں لیا گیا تھا لیکن سریش والا وہاں سے چلے گئے ۔قبل ازیں بورڈ نے وزیراعظم سے ملاقات کرنے سریش والا کی تجویز مسترد کردی۔ مولانا عبدالرحیم قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمیں مودی سے ملاقات کیوں کرنی چاہئیے ۔ جب کبھی ایسی ضرورت ہوگی اس بارے میں ہم غور و خوص کریں گے لیکن فی الحال ایسا کوئی امکان نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ (مودی سے ملاقات) دراصل سریش والا کا ایجنڈہ تھا لیکن بورڈ اس میں دلچسپی نہیں رکھتا ۔ انہوں نے سریش والا کے بحیثیت چانسلر اردو یونیورسٹی تقرر پر بھی اعتراض کیا ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سریش والا سے میٹنگ چھوڑدینے کی خواہش کی گئی تھی انہوں نے کہا کہ ہم نے اجلاس میں موجود ایسے تمام شرکاء کو جو ارکان نہیں ہیں ، چلے جانے کی خواہش کی کیونکہ مدعوئین اور ارکان کے علاوہ کسی کو بھی پروگرام میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔ اس اجلاس میں پرسنل لا سے متعلق بعض امور زیربحث آئے اور ارکان نے اپنی تجاویز پیش کی ۔

’یوگا‘ غیر اسلامی ، اسکولی نصاب سے خارج کرنے کا مطالبہ
٭٭ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے حکومت راجستھان کی جانب سے اسکولس میں سوریہ نمسکار اور یوگا کو لازمی قراردینے کی کوششوں پر شدید اعتراض کیا اور اس اقدام سے فی الفور دستبرداری کا مطالبہ کیا ۔ مولانا عبدالرحیم قریشی نے کہا کہ یوگا غیراسلامی ہے اور حکومت کو اپنے فیصلے سے فی الفور دستبرداری اختیار کرنی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایسے کام کی اجازت نہیں دیتا ۔ مسلمانوں پر اسے مسلط کرنا بالکلیہ غلط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و ترقی کیلئے داخلی استحکام ضروری ہے اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کو چاہئیے کہ وہ اس طرح کے فیصلوں کی بجائے جس کی وجہ سے مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہے ، امن و استحکام پر توجہ مرکوز کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئیے کہ وہ اسکولی نصاب میں ’’ایک مذہب کی کتاب‘‘ کے ابواب شامل کرنے کی کوشش نہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اقلیتی فرقوں میں یہ اعتماد بحال کرنا چاہئیے جس کے ذریعہ وہ اپنے مذہب پر بنا کسی مشکل کے عمل کرسکیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ہندوتوا طاقتیں اقلیتوں کے خلاف ایجنڈے پر عمل کررہی ہیں ۔ بورڈ نے مسلمانوں سے بھی کہا ہے کہ وہ سرکاری اسکولس میں مشرکانہ سرگرمیوں کو قبول نہ کریں اور اس کے خلاف آواز اٹھائیں ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ مسلم نوجوان قانون شکنی کریں ۔ تاکہ مسلم فر قے کو یکا و تنہا کرنے کا موقع مل سکے اور ان کے خلاف مظالم کا دفاع کیا جاسکے ۔ بورڈ نے عوام سے کہا ہے کہ وہ قانون شکنی بالکل نہ کریں ۔ بورڈ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش نہ کرنے کیلئے خود مسلمان ذمہ دارہیں ۔

TOPPOPULARRECENT