Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / ملک کی ترقی کیلئے تشدد کو کم از کم 10 سال کیلئے ترک کرنے کی ضرورت : مودی

ملک کی ترقی کیلئے تشدد کو کم از کم 10 سال کیلئے ترک کرنے کی ضرورت : مودی

٭ دہشت گردوں اور ماؤیسٹوں سے تشدد کا راستہ ترک کردینے کی اپیل ٭ غریب خاندانوں کیلئے وزیر اعظم جن دھن اسکیم ‘ بینک اکاؤنٹ اور ایک لاکھ کا انشورنس ٭ منصوبہ بندی کمیشن برخواست :عصری تقاضوں کے مطابق نئے ادارہ کے قیام کا اعلان ٭ یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی کا اولین خطاب

٭ دہشت گردوں اور ماؤیسٹوں سے تشدد کا راستہ ترک کردینے کی اپیل
٭ غریب خاندانوں کیلئے وزیر اعظم جن دھن اسکیم ‘ بینک اکاؤنٹ اور ایک لاکھ کا انشورنس
٭ منصوبہ بندی کمیشن برخواست :عصری تقاضوں کے مطابق نئے ادارہ کے قیام کا اعلان
٭ یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی کا اولین خطاب

نئی دہلی 15 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل پر یوم آزادی کے موقع پر پرچم لہرانے کے بعد اپنے اولین خطاب میں ملک میں منصوبہ بندی کمیشن کو برخواست کردینے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ترقیاتی عمل میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور ذات پات و فرقہ وارانہ تشدد کو ختم کرنے کی ضرورت پر بھی انہوں نے زور دیا ۔ اقتدار سنبھالنے کے تین ماہ کے اندر نریندر مودی نے اپنی تقریر میں ترقی اور معیشت کو مستحکم کرنے کے تعلق سے اپنے عزائم کا اظہار کیا اور کہا کہ ہندوستان عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ کا ٹھکانہ بننا چاہئے ۔

مابعد آزادی نسل کے پہلے وزیر اعظم کی حیثیت سے نریندر مودی نے غریبوں کو بھی معاشی شمولیت کے دائرہ میں لانے اسکیم کا اعلان کیا اور کہا کہ غریبوں کو ایک بینک اکاؤنٹ کھول کردیا جائیگا جو ایک لاکھ روپئے تک کے انشورنس کا حامل رہیگا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایم پی ماڈل ولیج اسکیم کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ ہر رکن پارلیمنٹ کے علاقہ میں ایک گاوں کو ہر سال ترقی دی جائیگی ۔ یوم آزادی کے موقع پر ہندی زبان میں اپنی 65 منٹ کی تقریر کے دوران نریندر مودی نے ماؤیسٹوں اور دہشت گردوں سے کہا کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کردیں اور قومی دھارے میں شامل ہوجائیں ۔ انہوں نے عصمت ریزی اور جنین مادر میں لڑکیوں کی ہلاکت کے واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ سماج کی ترقی میں لڑکیوں کا اہم رول ہے ۔ وزیر اعظم نے اسکولس وغیرہ میں بیت الخلا کی سہولت فراہم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اس کام میں کارپوریٹس بھی حصہ لیں گے ۔

اپنے معاشی ایجنڈہ کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 64 سال سے کام کرے والے سوویت دور کی یادگار منصوبہ بندی کمیشن کو ایک نئے ادارہ سے بدل دیا جائیگا اور نئے ادارہ میں بین الاقوامی اور ملکی سطح پر تبدیل شدہ معاشی حالات کا خیال رکھا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان کوترقی کرنا ہے تو ملک کی ریاستوں کو آگے آنا ہوگا ۔ وفاقی ڈھانچہ کی اہمیت آج گذشتہ 60 سال میں سب سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ ہم بہت جلد ایک ایسا ادارہ قائم کرینگے جو منصوبہ بندی کمیشن کا بدل ہوگا ۔ ایک نئے ڈھانچہ کو شکل دینے کا اعلان کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ نیا ڈھانچہ نئے خیالات ‘ سوچ اور امیدوں کو یکجا کرنے کے علاوہ تخلیقی صلاحیتوں کو ابھاریگا اس کے علاوہ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوجوانوں کی طاقت اور عوامی ۔ خانگی شراکت کو بھی فروغ دیا جائیگا۔ وزیر اعظم نے معاشی ترقی کے ضمن میں غریبوں کیلئے وزیر اعظم جن دھن یوجنا اسکیم کا اعلان کیا جس کے تحت غریب خاندانوں کو ایک بینک اکاؤنٹ ‘ ایک ڈیبٹ کارڈ اور ایک لاکھ روپئے تک انشورنس فراہم کیا جائیگا ۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ وہ ملک کو اتفاق رائے کی بنیادوں پر چلانا چاہیں گے پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر نہیں ۔ وزیر اعظم نے کسی بلٹ پروف آئینہ کے بغیر خطاب کیا اور کہا کہ وہ بحیثیت وزیر اعظم نہیں بلکہ ایک خدمت گار کی حیثیت سے مخاطب ہیں۔ انہوں نے ملک کی ترقی میں اپنے پیشرو وزرائے اعظم اور سابقہ حکومتوں کے رول کا بھی خاص طور پر تذکرہ کیا ۔

تمام سیاسی جماعتوں سے تعاون طلب کرتے ہوئے انہوں نے پارلیمنٹ کے کل ختم ہونے سشن کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اس سے ہماری سوچ اور ارادوں کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اتفاق رائے کی مستحکم بنیادوں پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہم نے سبھی جماعتوں بشمول اپوزیشن کو ساتھ لیتے ہوئے بے مثال کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس کا سارا کریڈٹ صرف وزیر اعظم یا حکومت کو نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی جاتا ہے ۔ اپوزیشن کے قائدین اور ارکان پارلیمنٹ کو بھی جاتاہے ۔ وہ تمام ارکان پارلیمنٹ اور جماعتوں کے قائدین کو سلام کرتے ہیں جن کی مدد سے حکومت کے پہلے پارلیمنٹ سشن کا کامیاب اختتام ہوا ۔ ملک کے کچھ واقعات میں پیش آئے حالیہ واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ فرقہ واریت اور ذات پات کا نظام ملک کی ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے ۔ ہم نے مذہب کی بنیاد پر اور ذات پات کی بنیاد پر تشدد دیکھا ہے ۔

ایسا کب تک ہوگا ؟ ۔ اس سے کس کو فائدہ ہوگا ؟ ۔ ہم اب تک بہت لڑ چکے ہیں ۔ بہت جانیں تلف ہوچکی ہیں اگر آپ ماضی کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ اس سے کسی کو بھی کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا ہے ۔ اسی تشدد کے نتیجہ میں ہمیں تقسیم کا شکار ہونا پڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کی ترقی کی خاطر اپیل کرتے ہیں کہ تشدد پر 10 سال تک کیلئے پابندی ہونی چاہئے ۔ کم از کم ایک مرتبہ ہمیں ان برائیوں سے دور ہونا چاہئے ۔ ہمیں امن ‘ اتحاد اور یکجہتی رکھنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے الفاظ پر یقین کیا جائے تو ہم اگر تشدد کا راستہ ترک کرکے بھائی چارہ کا راستہ اختیار کریں تو ہم ترقی حاصل کرسکتے ہیں۔ دہشت گردی اور نکسل ازم کیتعلق سے مودی نے سوال کیا کہ یہ تشدد کب تک جاری رہیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے والوں کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے نیپال کی مثال دی جہاں ماؤیسٹوں نے تشدد کا راستہ ترک کردیا ہے

اور اب وہ نئے دستور کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے گمراہ نوجوانوں کیلئے مثال ہے ۔ عصمت ریزی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہم اس طرح کے واقعات سنتے ہیں تو ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کرنی ہے تاہم اس کیلئے سماج کو بھی اپنا رول ادا کرنا ہوگا ۔ والدین کو سماجی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنے لڑکوں کی بہتر پرورش کرنی چاہئے ۔ مودی نے کہا کہ ہر دہشت گرد اور ہر ماؤیسٹ کسی کا بیٹا ہے جو خون خرابہ پر اتر آیا ہے ۔ اپنے کندھے پر بندوق لگانے کی بجائے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ تشدد کا راستہ ترک کرکے ترقی کی سمت سفر کریں۔ خود کو دہلی میں ’ بیرونی ‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کے دو ماہ کے بعد انہیں اب حکومت کے کام کاج کا حقیقی اندازہ ہوا ہے ۔

یہ واضح کرتے ہوئے کہ ان کے ریمارکس کو سیاسی تناطر میں نہیں دیکھا جانا چاہئے مودی نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کہ حکومت کے اندر درجنوں حکومتیں کام کر رہی ہیں۔ لوگ اپنے محکموں کو اپنے ذاتی اقتدار کی حیثیت سے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ مختلف محکموں میں انتشار ہے اور آپسی لڑائیاں ہیں۔ یہ لڑائیاں سپریم کورٹ تک چلی گئی ہیں۔ ایسے میں ہم آگے کس طرح بڑھ سکتے ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ دیواریں گرانی شروع کردی ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جارہے کہ حکومت ایک ادارہ کے طور پر کام کرے ۔ حکومت کو ایک خیال ‘ ایک سمت اور ایک نظریہ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے ۔ مودی نے عام آدمی کو با اختیار بنانے کئی اقدامات کا اعلان کیا ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملک گیر سطح پر مہارتوں کو ابھارنے ’ اسکل انڈیا ‘ مہم بھی شروع کی جائیگی ۔

TOPPOPULARRECENT