Sunday , October 21 2018
Home / Top Stories / ملک کی تعمیر کا حصہ بنے رہنے کا مسلم نو جوانوں کا عہد

ملک کی تعمیر کا حصہ بنے رہنے کا مسلم نو جوانوں کا عہد

نئی دہلی: ہندوستان میں مسلم طلبہ و طالبات کی سب سے بڑی تنظیم اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا(ایس آئی او)نے قومی دارالحکومت سے مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کی عظمت عزت نفس کی بازیافت کے لئے صدا لگا تے ہوئے رد عمل کی نفسیات سے دور رہنے کی تلقین کی

۔ہندوستان بھر کے تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کی فعال طلبہ تنظیم کی جانب سے یہ اپیل جماعت اسلامیہ کے جانب سے منعقدہ کل ہند کانفرنس میں کی گئی۔اس کانفرنس میں دس ہزار مسلم تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیوں نے شرکت کی۔اس موقع پر ایس آئی او کے سربراہ نحاس مالہ نے کہا کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ یہ فتنوں کا دور ہے۔

مگر فتنوں کا دور ہمیشہ نہیں رہتا ۔ ہمیں قرآ ن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی محنت جاری رکھنا ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کا یہ سفر 35سال قبل شروع ہواتھا۔خوابوں کا سفر تھا۔اس سفر میں ہم نے بہت قربانیاں دیں ہیں۔لاکھوں نوجوانوں نے اپنا وقت اور صلاحیت دی ہے۔اور اب ہم منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ایس آئی او کے جنرل سکریٹری خلیق احمد نے کہا کہ اس پر آشوب دور میں جبکہ ملک میں فرقہ پرستی پھیلائی جارہی ہے۔ایسے میں ہم ایس آئی او کے افراد کو حساسیت کے ساتھ غور کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ انسانیت کا تحفظ ہمارا اہم مقصد ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر مولانا جلال الدین عمری نے کہا کہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سارے نوجوان خالص اسلامی فکر کے ساتھ یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ہمارے یہ نو جوان ملک و ملت کا قیمتی اثاثہ ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ا س بد لتے حالات ملک کی تعمیر کے لئے وہ اپنی خدمات انجام دیں گے۔انھوں نے کہا کہ ایس آئی او مسلم طلبہ کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔جو انسانیت کے تحفظ کے لئے کام کرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد سماج اور معاشرہ کی تعمیر ہے لیکن افسوس آج ملک میں تعلیم کا مقصد کہیں کھو گیا ہے ۔

کیوں کہ معلم و متعلم دونوں اس مقصد سے نا آشنا ہے۔اسی وجہ ہم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود فرقہ واریت کا شکار ہو رہے ہیں ۔جماعت اسلامی کے نائب امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ملک کے گوشہ گوشہ کے نوجوان اسلامی تحریک کی لہلاتی فصل ہیں۔جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

کانفرنس میں مدعو فلسطینی سفیر عدنان ابو الہجاء کی جگہ ما تحت سفیر ڈاکٹر وائل نے فلسطین کے کاز کے لئے ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات کی ستائش کر تے ہوئے کہا کہ فلسطین کے مسئلہ میں پوری دنیا کے انسانیت نواز ہمارے ساتھ ہیں ۔مگر امریکہ کے تاجر پیشہ صدر ٹونالڈ ٹرمپ اور اسرائیل کی ناجائز نیت کی وجہ سے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کھلے عام انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔جس کے لئے اسرائیل مہ دار ہیں ۔اس کانفرنس میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن عین وقت پر ان کے رہائش گاہ چھاپہ مارا گیا۔جس کی وجہ سے انہوں نے اس میں شرکت کر نے سے معذرت خواہی کی۔

TOPPOPULARRECENT