Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / ملک کی حفاظت کیلئے افواج سرحد بھی پار کرسکتی ہیں : راجناتھ سنگھ

ملک کی حفاظت کیلئے افواج سرحد بھی پار کرسکتی ہیں : راجناتھ سنگھ

کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ۔ پاکستان میں حافظ سعید کو سیاسی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے ۔ وزیر داخلہ کا رائزنگ انڈیا کانفرنس سے خطاب

نئی دہلی 17 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) دہشت گردی کے سرغنہ حافظ سعید کو سیاسی طور پر ابھارنے کیلئے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ ملک کی سکیوریٹی فورسیس ضرورت پڑنے پر لائین آف کنٹرول کو عبور کرسکتی ہیں تاکہ ملک کی علاقائی سالمیت کا تحفظ کیا جاسکے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ نریندر مودی حکومت چاہتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا مستقل حل دریافت کیا جائے اور اس نے ایک مصالحت کار کا تقرر کیا ہے جو کسی سے بھی بات چیت کیلئے تیار ہے جو خود بات کرنا چاہیں۔ انہوں نے نیوز 18 رائزنگ انڈیا چوٹی کانفرنس میں کہا کہ ہم نہ صرف ملک کی اندر سے حفاظت کرتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر ملک کی حفاظت کرنے سرحد پار بھی کرسکتے ہیں۔ ستمبر 2016 میں ہندوستانی فوج نے لائین آف کنٹرول کے پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل حملے کئے تھے اور جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملوں کی انتقامی کارروائی میں کافی نقصان پہونچایا تھا ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ پاسکتان کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھے جائیں لیکن وہ ملک اس میں دلچسپی نہیں رکھتا ۔ اس کے برخلاف وہ لشکرطیبہ کے بانی اور ممبئی حملوں کے سرغنہ حافظ سعید کو سیاسی اعتبار سے تسلیم کر رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دئے گئے شخص کی سیاسی حیثیت بنا رہا ہے ۔ حافظ سعید کو اب ایک سیاسی جماعت قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ وہ انتخابات میں مقابلہ کریگا اور پارلیمنٹ جائیگا ۔ حقانی نیٹ ورک کو بھی یہاں پروان چڑھایا جا رہا ہے اور تحفظ فراہم کیا جارہا ہے ۔ یہ نیٹ ورک بھی سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ہے اور یہ سب کچھ حیرت انگیز ہے ۔ راج ناتھ سنگھ نے تاہم کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی کو بین الاقوامی فورمس میں لاتے ہوئے بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔ ماضی میں کوئی بھی پاکستان کی دہشت گردی پر اظہار خیال نہیں کرتا تھا لیکن اب امریکہ نے پاکستان کی مذمت کی ہے ۔ کشمیر میں مصالحت کار کے طور پر سابق انٹلی جنس سربراہ دنیشور شرما کے تقرر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مصالحت کار ہر اس فرد یا گروپ سے بات کرینگے جو بات کرنے کا خواہشمند ہو ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مختلف کوششوں کے باوجود کشمیر کو ہندوستان سے الگ نہیں کیا جاسکا ہے ۔ کشمیر ‘ ہندوستان کے ساتھ تھا ‘ کشمیر ہندوستان کے ساتھ ہے اور کشمیر ہمیشہ ہندوستان کے ساتھ ہی رہیگا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بچے ان کے اپنے بچوں کی طرح ہیں اور کسی کو بھی ان کو باغی بنانے کا موقع نہیں دیا جائیگا ۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ معصوم کشمیری نوجوانوں کو جہاد کی ترغیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ پہلے انہیں اسلام میں جہاد کے حقیقی معنی کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خود انہوں نے چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی سے شخصی طور پر کہا ہے کہ پہلی مرتبہ سنگباری میں حصہ لینے والے نوجوانوں کے خلاف مقدمات کو نظر انداز کردیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس درخواست کے بعد ریاستی حکومت نے تقریبا 9,730 افراد کے خلاف مقدمات سے دستبرداری اختیار کرلی ہے جو پہلی مرتبہ درج کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلی مرتبہ ایسا کرنے والوں کو معاف کردیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ دوسروں سے متاثر ہوگئے ہوں۔ یہ لوگ نوجوان ہیں۔ انہیں ایک اور موقع دیا جانا چاہئے ۔ راج ناتھ سنگھ نے شمال مشرق میں تخریب کاری کے خاتمہ اور ماؤیسٹوں سے نمٹنے میں بھی مودی حکومت کی کامیابیوں کا تذکرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نکسلائیٹس کے خلاف جو لڑائی ہے اسے گولیوں سے نہیں جیتا جاسکتا اسی لئے اس سلسلہ میں کئی ترقیاتی اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے ۔ حکومت ان علاقوں تک پہونچنے کی کوشش کر رہی ہے جہاں آزادی کے بعد سے اب تک نہیں پہونچا جاسکا تھا ۔ نکسل ازم ایک سنگین اور بڑا مسئلہ ہے لیکن گذشتہ چار سال میں اس معاملہ میں بھی مرکزی حکومت نے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرق میں بھی تشدد میں تقریبا 75 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔

یو پی ضمنی انتخابی نتائج کا اعادہ نہیں ہوگا
ہم نے سبق سیکھ لیا ہے ۔ سینئر بی جے پی لیڈر راجناتھ کا ادعا
نئی دہلی 17 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ بی جے پی نے اترپردیش کے لوک سبھا ضمنی انتخاب میں ہوئی شکست سے سبق سیکھا ہے اور اس بات کو یقینی بنائیگی کہ ایسے نتائج دوبارہ نہ آنے پائیں۔ راج ناتھ سنگھ نے یہاں انڈیا رائزنگ کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہوگیا ۔ آگے نہیں ہوگا ۔ ہمیں پتہ چلا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ‘‘ ۔ بی جے پی کو ضمنی انتخابات میں گورکھپور اور پھولپور حلقوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جہاں سماجوادی پارٹی کو بی ایس پی کی تائید حاصل تھی ۔ یہ نشستیں چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اور ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد موریہ نے خالی کی تھیں کیونکہ وہ کونسل کیلئے منتخب ہوگئے تھے ۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے ان انتخابات کو ایک سبق قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا نتیجہ تھا ۔ کانگریس صدر راہول گاندھی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت پر مسلسل تنقیدوں کے باوجود وقت ہی بتائیگا کہ ہندوستان کس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی ہمارے اپوزیشن لیڈر ہیں اور وہ ہم پر تنقیدیں کرتے رہیں گے لیکن اس کا اثر کتنا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائیگا ۔ اس سوال پر کہ اگر وہ خود وزیر اعظم بن جائیں تو کیا کرینگے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ زیادہ خوش فہم لیڈر نہیں ہیں۔ تاہم اگر انہیں کوئی ذمہ داری دی جاتی ہے تو اسے پورا کیا جانا چاہئے ۔ ہمارے وزیر اعظم بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT