Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / ملک کی سنگین صورتحال ، حکومت تاریکی میں غرق ، ادارہ جاتی میکانزم مفلوج

ملک کی سنگین صورتحال ، حکومت تاریکی میں غرق ، ادارہ جاتی میکانزم مفلوج

وزیراعظم مودی کے پاس تمام اختیارات مرکوز ، وزراء کے متضاد بیانات ، پاکستان کا نام لینے سے پس و پیش : کانگریس

نئی دہلی ۔ 4 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ سے نمٹنے کے معاملہ میں حکومت کے طریقہ کار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کانگریس نے آج کہا کہ اس واقعہ کے بارے میں متضاد بیانات سے ادارہ جاتی میکانزم مفلوج ہونے کا پتہ چلتا ہے کیوں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سارے اختیارات اپنے پاس مرکوز کررکھے ہیں ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے داخلی سلامتی کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ مرکز دہشت گردی کے خطرات کو بے اثر کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا ۔ کانگریس ترجمان اجئے ماکن نے حکومت کے خلاف انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی میکانزم ختم ہوگیا ہے ۔ حکومت پوری طرح تاریکی میں ڈوب چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جات ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کے دریعہ نہیں بلکہ الگ الگ طور پر کام کررہے ہیں اور یہ انتہائی تشویشناک پہلو ہے ۔ وزیر داخلہ کو تک یہ پتہ نہیں کہ اب تک کتنے دہشت گردوں کو ختم کیا گیا ہے ۔ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ آپریشن ختم ہوگیا یا نہیں ۔ وزیر داخلہ کی جانب سے فوجی کارروائی ختم ہونے کے اعلان کے بعد معتمد داخلہ یہ کہتے ہیں کہ کارروائی ابھی جاری ہے ۔ اجئے ماکن نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی اجلاس میں کہا کہ اگر وزیر داخلہ کو خود یہ نہیں معلوم کہ کیا ہورہا ہے تو اس سے موجودہ حکومت میں ادارہ جاتی میکانزم کے مفلوج ہونے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تاریکی میں ہے اور سب ایک دوسرے پر گر رہے ہیں ۔ حکومت کے بعض گوشوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اس وقت کیا ہورہا ہے اور صورتحال سے کس طرح نمٹا جارہا ہے ۔ اجئے ماکن نے کہا کہ 56 گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہوا کہ کابینی کمیٹی برائے سلامتی کا اجلاس منعقد ہوا یا نہیں ۔ ایسے سنگین مواقع پر ادارہ جاتی میکانزم کو فوری جواب دینا ہوتا ہے لیکن وزیر اعظم نے تمام اختیارات اپنے ہاتھوں میں مرکوز رکھے ہیں ۔ کابینی کمیٹی برائے سلامتی اس کی ایک مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم ہر کام پی ایم او کے ذریعہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہاں تک کہ متعلقہ وزراء کو بھی باخبر رکھنا ضروری نہیں سمجھا جارہا ہے ۔ پٹھان کوٹ فضائیہ کے اڈہ پر مابقی دو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جس وقت جاری تھی مرکزی معتمد داخلہ راجیو مہرشی نے کہا تھا کہ یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا مزید کوئی دہشت گرد موجود ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب کہ ایک دن پہلے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ٹویٹ کیا تھا کہ آپریشن مکمل ہوچکا ہے اور پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ۔ بعد ازاں انہوں نے یہ ٹویٹ حذف کردیا ۔ اجئے ماکن نے کہا یہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے کہ مرکزی حکومت کے کئی وزراء نے کہا کہ آپریشن ختم ہوچکا جب کہ یہ اب بھی جاری ہے ۔ اس طرح کے متضاد بیانات سے حکومت کے اندر ایسے سنگین سیکوریٹی چیلنجس کے موقع پر باہمی رابطہ کے فقدان کا اظہار ہوتا ہے ۔ انہوں نے حملہ میں پاکستان کے رول کے بارے میں حکومت کی خاموشی پر سوالات اٹھائے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وزیراعظم ، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ اس حملہ میں پاکستان کا نام لینے میں پس و پیش کررہے ہیں جب کہ دہشت گردوں کے پاکستان سے تعلق کے کئی شواہد ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کے نمبر سے پٹھان کوٹ کے لیے ٹیکسی بک کی تھی ۔ آخر ہندوستان کی حکومت پاکستان کے بارے میں خاموش کیوں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT