Thursday , December 13 2018

ملک کی معیشت ‘ ریٹنگ اور حقیقت

ساتھ رہ کر جو اجنبی ہی رہا
ہائے کس ہمسفر کے ساتھ رہے
ملک کی معیشت ‘ ریٹنگ اور حقیقت
گذشتہ چند برسوں سے ہندوستان کی معیشت مختلف مسائل اور رکاوٹوں کا شکار رہی ہے ۔ جس وقت سے نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت نے مرکز میں اقتدار سنبھلا ہے اس وقت سے نت نئے فیصلے کرتے ہوئے ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کو اصلاحات کا نام تو دیا جا رہا ہے لیکن ان کی وجہ سے معاشی رفتار میںسستی پیدا ہوئی ہے ۔ ہندوستان میں جملہ گھریلو پیداوار کم ہو کر رہ گئی ہے ۔ یہاں صنعتی پیداوار پر منفی اثر مرتب ہوا ہے ۔ یہاں ملازمتوں کی صورتحال افسوسناک حد تک کمزور ہوگئی ہے ۔ نوجوانوں کو نئے روزگار مل نہیں پا رہے ہیں اور جو پہلے سے ملازمتیں ہیں وہ بھی نسبتا کم ہوتی چلی گئی ہیں ۔ کئی کمپنیوں کی حالت ابتر ہوچکی ہے ۔ ملک کی برآمدات متاثر ہوکر رہ گئی ہیں ۔ معاشی سرگرمیوں میں انحطاط دکھائی دے رہا ہے ۔ اس صورتحال پر اپوزیشن کی جانب سے مسلسل حکومت کو نشانہ بنایا جا رہا تھا ۔ کئی گوشوں کی جانب سے حکومت سے جواب طلب کیا جا رہا تھا لیکن حکومت نے ان کا کوئی جواب دینے کی بجائے اپنے من مانی فیصلے جاری رکھے تھے ۔ گذشتہ سال نومبر میں حکومت نے صرف ایک اعلان کے ذریعہ سارے ملک کی معیشت کو تعطل کا شکار کردیا تھا ۔ نوٹ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ہر ہندوستانی کو صدمہ سے دوچار کردیا گیا تھا ۔ کوئی شہری ایسا نہیں تھا جس نے اس فیصلے سے مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا نہ کیا ہو۔ حکومت نے نوٹ بندی کے وقت میں نت نئے بہانے اور عذر پیش کئے ۔ عوام کو ہر گذرتے دن کے ساتھ نئی صورتحال سے دو چار کیا گیا ۔ پہلے کالا دھن واپس لانے کی بات کہی گئی ‘ پھر رشوت کے خاتمہ کی کوشش کا بہانہ پیش کیا گیا پھر دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کا نعرہ دیا گیا ۔ نوٹ بندی کی وجہ سے ہوا کچھ نہیں صرف عوام کو مشکلات پیش آئیں اور سرکاری خزانہ پر نئی کرنسی نوٹوں کی طباعت و اشاعت کے ہزاروں کروڑ کے اخراجات کا بوجھ عائد کردیا گیا ۔ جس وقت نوٹ بند کئے گئے تھے اس وقت کہا گہا تھا 1000 روپئے کے نوٹوں سے کالا دھن جمع کرنے میں مدد مل رہی ہے ۔ حکومت نے اب 2000 کے نوٹوں کا چلن عام کردیا ہے اور یہ وضاحت کرنے کے موقف میں نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے کالا دھن جمع کرنے والوں کو کتنی سہولت فراہم ہوگئی ہے ۔
نوٹ بندی کے بعد جی ایس ٹی پر عمل کرنے کیلئے حکومت نے پوری شدت سے کوشش کی ۔ رات 12 بجے سے اس ٹیکس پر عمل آوری کا آغاز کردیا گیا ۔ جی ایس ٹی نے تو نوٹ بندی کے بعد بچے کچے کاروبار کو بھی عملا ٹھپ کردیا ۔ جی ایس ٹی کے نفاذ کے چار ماہ بعد بھی تاجر برادری اس کے طریقہ کار کو سمجھنے تک کے موقف میں نہیں ہے اور نہ حکومت انہیں سمجھانے کی اہل ہے ۔ اس کے باوجود جی ایس ٹی لاگو کردیا گیا ۔ اس کی ٹیکس کی جو شرحیں رکھی گئی تھیں وہ ایک قوم ایک ٹیکس کے نعرہ کے مغائر تھیں۔ ایک ٹیکس کے نام پر تین طرح کے ٹیکس عائد کردئے گئے تھے ۔ اس کے علاوہ چار شرحوں میں ٹیکس عائد کیا جا رہا تھا ۔ اس میں پیچیدگیوں کا عالم یہ تھا کہ خود سرکاری محکموں کو بھی عوام کو سمجھانے کیلئے پریشانیوں کا سامنا تھا ۔ جی ایس ٹی کی وجہ سے جو چھوٹے اور اوسط درجہ کے کاروبار اور تجارت متاثر ہوئے ہیں ان کی وجہ سے لاکھوں افراد کو مسائل کا سامنا ہے ۔ حکومت کے ایک ایک اقدام سے کئی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ کئی ریاستوں میں بیف پر امتناع سے لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ۔ بیف پر امتناع کے بعد چمڑے کی صنعت عملا ٹھپ ہوکر رہ گئی اور ہزاروں افراد اپنے روزگار سے محروم ہوگئے ۔ کچھ یونٹیں اور صنعتیں بند کردی گئیں ۔ مارکٹوں اور بازاروں میں سرمایہ کی قلت کی صورتحال پیدا ہوگئی ۔ ان تمام کاموں کے اثرات ہنوز جاری ہیں۔
تمام تر ابتر اور مایوس کن صورتحال کے پیش نظر حکومت کو تنقیدوں کا سامنا تھا ۔ حکومت کسی بھی گوشے کو اطمینان بخش جواب دینے کے موقف میں نہیں تھی اور صرف اصلاحات کو آگے بڑھانے کا راگ الاپا جا رہا تھا ۔ تاہم اب حکومت نے ریٹنگ ایجنسی کا سہارا لیا ہے ۔ حکومت ریٹنگ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے مخالفین کو تو خاموش کرسکتی ہے اور عوام کی توجہ بھی بانٹ سکتی ہے لیکن وہ حقیقت کو بدل نہیں پائے گی ۔ حقیقت یہی ہے کہ آج ہندوستان میں کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو معاشی انحطاط کی کیفیت کا شکار نہ ہو ۔ کوئی شعبہ ایسی نہیں ہے جہاں پیداوار متاثر نہ ہوگئی ہو ۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس کو مسائل کا سامنا نہ ہو۔ حکومت کو ریٹنگ کا سہارا لیتے ہوئے مخالفین کو خاموش کروانے کی بجائے حقیقی معنوں میں معاشی صورتحال کو بدلنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ریٹنگ سے حقیقت بدلنا کسی کیلئے بھی ممکن نہیں ہوسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT