Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک کی معیشت کے استحکام میں غیر مقیم ہندوستانیوں کا رول محدود ہونے کا امکان

ملک کی معیشت کے استحکام میں غیر مقیم ہندوستانیوں کا رول محدود ہونے کا امکان

سال رواں حسب روایت زیادہ دولت بھیجنے کے امکانات کم ۔ اقوام متحدہ کے سروے میں انکشافات
حیدرآباد۔19جون(سیاست نیوز) ہندستانی معیشت کو مستحکم بنانے میں غیر مقیم ہندستانیوں کا انتہائی اہم کردار ہے لیکن غیر مقیم ہندستانی کب تک اس کردار کو بخوبی نبھا سکیں گے؟ عالمی سطح پر معاشی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جاریہ سال غیر مقیم ہندستانی شہری اپنے ملک کو جتنی دولت روانہ کیا کرتے تھا اتنی دولت روانہ نہیں کر پائیں گے۔اقوام متحدہ کی جانب سے کروائے گئے ایک سروبے کے مطابق سال 2016کے دوران غیر مقیم ہندستانی جو دنیا کے مختلف ممالک میں قیام پذیر ہیں نے اپنے ملک کو 62.74بلین ڈالر یعنی کم و بیش 4لاکھ کروڑ روپئے روانہ کئے ہیں جو کہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک ملحقہ ادارہ کی جانب سے جاری کردہ مطالعاتی رپورٹ کے مطابق غیر مقیم ہندستانیوں کی جانب سے روانہ کیا جا نے والے زر مبادلہ گھریلو شرح پیداوار کا 3.3حصہ ہو رہی ہے جو کہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ رپورڈ کے بموجب خلیجی ممالک ہندستانی شہریوں کے لئے اولین ترجیح ہیں اور وہ خلیجی ممالک میں ملازمت کے حصول پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جبکہ ان میں مقبول ترین ملک امریکہ ہے جہاں پہنچنے کے لئے وہ کوشش کرتے ہیں ۔ انٹرنیشنل فنڈ فار اگریکلچرل ڈیولپمنٹ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق چھوٹے ملازمیں بھی اپنے آبائی مقام کو کم از کم 200تا 300ڈالر روانہ کرتے ہیں اور ان کی تعداد 60فیصد کے قریب ہے۔ہندستانی شہری جو مختلف ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی جانب سے روانہ کی جانے والی رقومات کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ ان کی جانب سے اپنے خاندانوں کو روانہ کردہ رقومات ان کے خاندانوں کے معاشی استحکام کے علاوہ تعلیمی ترقی میں بھی اہم رول ادا کرتا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر سالانہ 450بلین ڈالر بطور زر مبادلہ منتقل کئے جاتے ہیں جن میں 62.74 بلین ڈالر ہندستان کا حصہ سال گذشتہ رہا جبکہ امریکہ کو سب سے زیادہ زر مبادلہ کی منتقلی کرنے والا ملک تصور کیا جاتا ہے کہ کیونکہ دنیا بھر کے کئی ممالک کے شہری امریکہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ اپنے آبائی ممالک کو اپنی کمائی روانہ کرتے ہیں۔ مطالعہ کے مطابق سال 2008سے 2016تک کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان برسوں کے دوران اپنے ممالک کو رقومات کی منتقلی میں 10فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور آئندہ برسو ںمیں مزید گراوٹ کا اندیشہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہندستان زر مبادلہ وصول کرنے والے ممالک میں سرفہرست بنتا جارہا ہے لیکن ان حالات میں تیزی سے تبدیلی آنے کے خدشات بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT