Wednesday , December 12 2018

ملک کی کئی ریاستوں میں خشک سالی کا امکان ‘ ہنگامي منصوبے

نئی دہلی۔ 6؍جولائی (سیاست ڈاٹ کام)۔ ملک کے کئی حصوں میں اس سال بڑی شدت سے خشک سالی کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ مانسون کی کمزور پیش قیاسی کے ساتھ غذائی اجناس کی پیداوار میں بھی کمی کا خدشتہ بڑھ گیا ہے ۔ اس کے علاوہ پینے کا پانی اور برقی پیداوار کی شرح بھی گھٹ جائے گی ۔ مرکزی حکومت نے خشک سالی کی صورتحال پر ریاستوں سے رابطہ قائم کرکے مسئلہ

نئی دہلی۔ 6؍جولائی (سیاست ڈاٹ کام)۔ ملک کے کئی حصوں میں اس سال بڑی شدت سے خشک سالی کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ مانسون کی کمزور پیش قیاسی کے ساتھ غذائی اجناس کی پیداوار میں بھی کمی کا خدشتہ بڑھ گیا ہے ۔ اس کے علاوہ پینے کا پانی اور برقی پیداوار کی شرح بھی گھٹ جائے گی ۔ مرکزی حکومت نے خشک سالی کی صورتحال پر ریاستوں سے رابطہ قائم کرکے مسئلہ کی یکسوئی کی کوشش شروع کردی ہے ۔ مہاراشٹرا ‘ مدھیہ پردیش‘ گجرات ‘ راجستھان اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں کئی لاکھ ہیکٹرس پر پھیلی زرعی اراضی کے بنجر ہوجانے کا امکان ہے ۔ ان ریاستوں میں اس موسم کا ایک خطرہ پانی نہیں گرا ہے ‘ اس لئے یہ ریاستیں شدید خشک سالی کی زد میں آرہی ہیں ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک بھر میں اب تک کی بارش بہت ہی کم درج کی گئی ہے اور یہ 43فیصد ہی ہوئی ‘ مختلف ریاستوں کے عہدیداروں نے اُمید ظآہر کی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اگر بارش خاطرخواہ طور پر ہوئی ہے تو زرعی فصلوں میں جان آجائے گی ۔ مانسون کی تاخیر سے آمد کی وجہ سے بعض علاقہ خشک ہوچکے ہیں ۔

پہلے ہی مانسون کی کمی کی رپورٹس منظر عام پر آچکیہیں جس کی وجہ سے غذائی اشیاء ‘ ترکاریاں اور میوہ جات کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے ۔ مرکزی حکومت نے ان حالات میں تشویش و فکر کو غیر ضروری قرار دیا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ بارش آنے والے دنوں میں اپنا اثر دکھائے گی ۔ اس کے علاوہ اس نے خشک سالی صورتحال سے نمٹنے کیلئے منصوبے بھی بنانے شروع کئے ہیں جیسے کسانوں کوڈیزل اور تخم سبسیڈی دی جائے گی ۔ اگر ریاستوں کی جانب سے خشک سالی کا اعلان ہوتا ہے تو ان کی ہرممکنہ مدد کی جائے گی ۔ دوسری جانب مرکز نے ضروری اشیاء‘ قانون میں ترمیم جیسے اقدامات میں آنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اناج کی ذخیرہ اندوزی اور پبلک مارکیٹنگ کے خلاف مختلف کارروائیاں کی جاسکیں ۔ اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد مرکزکی نئی حکموت کو کئی چیلنجس کا سامنا ہے ۔ ریاستوں کے ساتھ ربط کاری کے ذریعہ کئی ہنگامی منصوبے بنائے جارہے ہیں ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے گذشتہ ہفتوں میں کہا تھا کہ مانسون ابھی تو شروع ہوا ہے اس میں تاخیر ہوئی ہے ‘ اس لئے اس پر کسی قسم کی بحرانی ظاہر کرنا قبل از وقت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT