ملک کی ہندی پٹی میں کانگریس کی شاندار فتح، بی جے پی کو بدترین ہزیمت،5اسمبلی انتخابی نتائج

راہول کی پہلی اہم جیت، تین ہندی ریاستوں میں بی جے پی اقتدار سے محروم، تشکیل حکومت کیلئے کانگر یس کوشاں ، میزورم میں ایم این ایف اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس کامیاب

میزورم میں ایم این ایف کو 10 سال بعد دوبارہ اقتدار

نئی دہلی 11 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) 2019 ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کے لئے وقار کا مسئلہ سمجھے جانے والے پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں بی جے پی کو سخت ہزیمت اُٹھانی پری جب اپوزیشن کانگریس نے چھتیس گڑھ اور راجستھان میں بھاری اکثریت سے فتح کے ساتھ بی جے پی سے اقتدار چھین لیا۔ مدھیہ پردیش میں انتہائی سخت مقابلہ کے درمیان کانگریس کو بی جے پی پر سبقت حاصل ہوچکی ہے اور ممکن ہے کہ وہ اس ریاست میں گزشتہ 15 سال سے برسر اقتدار بی جے پی سے حکومت چھین لے گی۔ اس طرح ایک طویل وقفہ کے بعد تین ہندی ریاستوں میں اس کی حکومت قائم ہوگی۔ جنوبی ریاست تلنگانہ میں علاقائی جماعت ٹی آر ایس نے کانگریس کے زیرقیادت اپوزیشن اتحاد عوامی محاذ کو بھاری اکثریت سے شکست دے دی۔ شمال مشرقی ریاست میزورم میں میزو نیشنل فرنٹ نے کانگریس کو شکست دے کر 10 سال کے وقفہ کے بعد اقتدار پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ جس کے ساتھ ہی شمال مشرق کی تمام سات ریاستوں سے کانگریس اقتدار کا صفایا ہوگیا ہے۔ 90 رکنی چھتیس گڑھ اسمبلی میں کانگریس کو 62 اور بی جے پی کو صرف 13 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ اپوزیشن جماعت کی دو تہائی اکثریت سے فتح کے بعد بی جے پی کے چیف منسٹر رمن سنگھ نے گورنر کو استعفیٰ پیش کردیا۔ اُنھوں نے بی جے پی کی بدترین شکست کی ذمہ داری سے اپنی پارٹی کی قومی قیادت کو بری رکھتے ہوئے کہاکہ ریاستی مسائل اور ایجنڈہ پر انتخابات لڑے گئے تھے جس کا دہلی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 200 رکنی راجستھان اسمبلی میں کانگریس کو 100 سے زائد نشستوں پر فتح حاصل ہوچکی ہے۔ بی جے پی کو تقریباً 60 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ کانگریس کے فاتح امیدواروں میں جوہری لعل جاٹ، پرشانت بیرور شامل ہیں۔ راجستھان میں کانگریس کی فتح کو اشوک گہلوٹ اور سچن پائلٹ کے درمیان اتحاد کا مظاہرہ سمجھا جارہا ہے۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس کل منعقد ہوگا۔ جس میں آئندہ چیف منسٹر کے انتخاب پر غور کیا جائے گا جس میں شرکت کرنے والے اے آئی سی سی مبصرین ہائی کمان کو رپورٹ پیش کریں گے اور چیف منسٹر کا انتخاب کانگریس کے صدر راہول گاندھی کی مرضی پر منحصر ہوگا۔ 230 رکنی مدھیہ پردیش اسمبلی میں موجودہ چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان کو شکست ہوگئی جبکہ کانگریس نے تشکیل حکومت کا دعویٰ کرنے گورنر سے وقت طلب کیا ہے ۔مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کمل ناتھ نے کہاکہ ان کی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT