Friday , January 19 2018
Home / ہندوستان / ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر نصابی اصلاحات کی ضرورت

ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر نصابی اصلاحات کی ضرورت

بنگلور۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدرجمہوریہ محمد حامد انصاری نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ملک کا اعلیٰ تعلیمی نظام ہنوز رسائی، معیار، مساوات و یکسانیت کے مسائل سے دوچار ہے جس کے خاتمہ کیلئے بڑے پیمانے پر تعلیمی و نصابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آر وی کالج آف انجینئرنگ (آر وی سی ای) کی گولڈن جوبلی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر حامد ان

بنگلور۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدرجمہوریہ محمد حامد انصاری نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ملک کا اعلیٰ تعلیمی نظام ہنوز رسائی، معیار، مساوات و یکسانیت کے مسائل سے دوچار ہے جس کے خاتمہ کیلئے بڑے پیمانے پر تعلیمی و نصابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آر وی کالج آف انجینئرنگ (آر وی سی ای) کی گولڈن جوبلی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر حامد انصاری نے کہا کہ ’’1947ء کے بعد سے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں ہم نے کافی پیشرفت کی ہے چنانچہ اعلیٰ تعلیمی نظام کے معاملے میں ہندوستان آج دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ ہمارے پاس 652 یونیورسٹیز اور یونیورسٹی سطح کے ادارہ جات ہیں جو 33,000 سے زائد کالجوں کو الحاق دیتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس کے باوجود ہمارا اعلیٰ تعلیمی نظام، رسائی مساوات و یکسانیت اور معیار جیسے تین مسائل سے متاثر ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کی سطح اگرچہ 17 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اس کے باوجود اوسط عالمی سطح 26 فیصد سے بہت پیچھے ۔ مسٹر انصاری نے کہا کہ ’’ریاستوں، شہری و دیہی علاقوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے فیصد میں ہنوز بھاری تفاوت ہے

جبکہ سماج کے محروم المراعات طبقات اور خواتین کے داخلوں کا فیصد قومی اوسط سے بہت کم ہے۔ اعلیٰ تعلیمی شعبہ میں بہتر و اعلیٰ تربیت یافتہ فیکلٹی کا فقدان ہے۔ انفراسٹرکچر ناقص ہے اور تعلیمی نصاب ازکارِرفتہ فرسودہ ہے جو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے‘‘۔نائب صدر ہند نے کہا کہ ’’ٹیکنالوجی کا استعمال ہنوز محدود ہے۔ ہندوستانی جامعات میں تحقیق و تدریس کے معیارات، بین الاقوامی معیارات سے کہیں زیادہ کم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ملک بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں امتحانی اصلاحات، پسند پر مبنی کریڈٹ سسٹم، میقاتی نظام کا نفاذ اور تعلیمی نظام پر نظرثانی اور اس میں بلندی پیدا کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر تعلیمی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔ مسٹر حامد انصاری نے کہا کہ ’’کسی استثنیٰ سے قطع نظر ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارہ جات کی اکثریت، عالمی سطح کی بہ نسبت معیار کے شعبہ میں کمزور اور ناقص ہے‘‘۔ نائب صدر ہند نے یہ افسوسناک اور حیرت انگیز انکشاف میں کہا کہ ہمارے ملک میں ہر سال سائنس اور انجینئرنگ کے تقریباً 7 لاکھ طلبہ فارغ التحصیل ہوئے ہیں لیکن ایک صنعتی سروے کے مطابق ان میں صرف 25 فیصد ہی ایسے ہوتے ہیں جنہیں ان کی صلاحیت اور قابلیت کی بنیاد پر روزگار حاصل ہوسکتا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT