Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / ملک کے اکثر اے ٹی ایمس میں نقدی کی قلت برقرار

ملک کے اکثر اے ٹی ایمس میں نقدی کی قلت برقرار

حیدرآباد سب سے زیادہ متاثر، نوٹ بندی کے پانچ ماہ بعد بھی مشکلات

نئی دہلی 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نوٹ بندی فیصلے کے بعد پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ملک بھر کے اے ٹی ایمس میں نقد رقم کی دستیابی کی صورتحال جنوری میں مختصر بہتری کے سواء بدستور ابتر ہے۔ ایک سروے نے یہ انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ اے ٹی ایم سے نقد رقم نکالنے کی سہولت میں جنوری اور فروری کے دوران معمولی بہتری رہی لیکن اپریل سے یہ صورتحال دوبارہ بگڑ گئی۔ شہریوں کے ایک سرکردہ لوکل سرکلس کی طرف سے کئے گئے سروے کے مطابق 43 فیصد شہریوں نے کہاکہ 13 اور 16 اپریل کے دوران اُنھیں اے ٹی ایمس پر نقد رقم دستیاب نہ ہوسکی۔ یہ صورتحال اس سے پہلے یعنی 5 اور 8 اپریل کی صورتحال سے بھی ابتر ہے۔ جب 36 فیصد شہریوں نے کہا تھا کہ اے ٹی ایم سے رقومات نکالنے میں اُنھیں دشواریوں کا سامنا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں کئے گئے اس سروے میں 8,700 شہریوں نے حصہ لیا اور اُنھیں اپنے علاقوں میں اے ٹی ایمس سے رقومات نکالنے میں حائل دشواریوں کا تذکرہ کیا۔ سروے نے مزید کہاکہ رقومات نکالنے کی حد کو آر بی آئی نے 13 مارچ سے برخاست کردیا تھا اور غالباً یہ بھی ابتر صورتحال کی ایک وجہ ہوسکتی ہے کیوں کہ صارفین اب اے ٹی ایم کاؤنٹرس سے بڑے پیمانے پر رقومات نکالنے لگے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں بینکس بھی نقدی کی زیادہ سے زیادہ سربراہی کے لئے مجبور ہوگئی ہے۔ مزید برآں چند بینکوں نے چار سے زائد معاملتوں پر فیس عائد کی ہے جس سے بچنے کے لئے بھی صارفین بیک وقت زیادہ رقم نکالنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس دوران لوکل سرکلس کے ایک اور سروے سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان کے 11 شہروں میں حیدرآباد کے اے ٹی ایمس نقدی کی قلت کے معاملہ میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور پونے دوسرے مقام پر ہے۔ حیدرآباد میں 83 فیصد اور پونے میں 69 فیصد صارفین نے کہا ہے کہ اُنھیں 5 اور 8 اپریل کے دوران اے ٹی ایمس سے نقد رقومات دستیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ اے ٹی ایمس نے بہ آسانی نقدی کی دستیابی کے معاملہ میں دہلی سرفہرست ہے جہاں صرف 11 فیصد افراد نے نقد رقم کی دستبرداری میں مشکلات کی شکایت کی۔

TOPPOPULARRECENT