Monday , November 20 2017
Home / مضامین / ملک کے بٹوارے کے سخت مخالف تھے

ملک کے بٹوارے کے سخت مخالف تھے

خان عبدالغفار خان

سن 1947 ء میں جس وقت برصغیر کا بٹوارہ ہندوستان اور پاکستان کی شکل میں ہورہا تھا تو اس وقت اگر کسی کو اس ملک کی تقسیم پر سخت افسوس اور صدمہ تھا تو وہ دو افراد تھے۔ اتفاقاً دونوں ہی کانگریس پارٹی اور جنگ آزادی کے ستون تھے۔ ان دو افراد کا نام مولانا ابوالکلام آزاد اور خان عبدالغفار خان عرف بادشاہ خان (جن کو ان کے وطن میں باچا خان بھی کہا جاتا تھا)۔ گاندھی جی پہلے تو بٹوارے کے مخالف تھے لیکن جناح کی ضد کے آگے اُنھوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور آخر بٹوارہ تسلیم کرلیا۔ لیکن مولانا آزاد اور بادشاہ خان کے علاوہ کئی اور کانگریس قائدین تھے جو بٹوارہ کے خلاف تھے۔ ان میں جئے پرکاش نرائن اور رام منوہر لوہیا آگے آگے تھے۔ یعنی ملک کی تقسیم پر کانگریس پارٹی میں ایک بغاوت کا سماںتھا۔ چنانچہ گاندھی جی کے ذمہ یہ کام سونپا گیا کہ وہ کانگریس باغی لیڈران کو ورکنگ کمیٹی میٹنگ میں اپنا ووٹ ڈال کر تسلیم کرلیں۔ چنانچہ گاندھی جی نے ان باغی لیڈران کو بلا بلا کر سمجھانا شروع کردیا۔ لوہیا اور جئے پرکاش تو خاموش ہوگئے۔ لیکن مولانا آزاد اور بادشاہ خان محض دو افراد تھے، جنھوں نے گاندھی جی کی درخواست نامنظور کردی اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں برصغیر کی تقسیم کے خلاف ووٹ ڈالا۔ یہ عجیب تاریخی حقیقت ہے کہ اس ملک کے بٹوارے کے خلاف محض دو ووٹ پڑے تھے اور بٹوارے کی مخالفت کرنے والے دونوں افراد مسلمان تھے۔
بہرکیف، اکثریت نے بٹوارہ تسلیم کیا اور ہندوستان دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ اس حقیقت کو سب نے بادل ناخواستہ تسلیم بھی کرلیا لیکن پھر بھی ایک شخص ایسا تھا کہ جس کو ملک کے بٹوارے پر سکون نہیں آرہا تھا۔ اس شخص کا نام تھا خان عبدالغفار خان جو بادشاہ خان کے نام سے مشہور تھے۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ ان کو سکون نہیں مل رہا تھا بلکہ بادشاہ خان (جو سرحدی گاندھی بھی کہلاتے تھے) بٹوارے پر سخت برہم تھے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی میٹنگ ختم ہونے کے بعد یہ لحیم شحیم تقریباً سات فٹ دراز پٹھان اپنا غصہ روک نہ سکا اور میٹنگ کے فوراً بعد سیدھے گاندھی جی کے پاس پہونچا اور غصے سے کانپتے ہوئے گاندھی جی سے بہ آواز بلند کہا : ’’آپ نے ہم کو بھیڑیئے کے آگے پھینک دیا‘‘ بٹوارہ ہوگیا۔ ہند و پاک نفرت کی آگ میں جل اُٹھے۔ بادل ناخواستہ بادشاہ خان اپنے وطن بلوچستان چلے گئے جو اب پاکستان کا حصہ ہے، لیکن انھوں نے گاندھی جی سے بٹوارے کے مطابق جو کہا تھا وہ من و عن سچ ثابت ہوا۔بٹوارے کے 66 برس بعد بلوچستان خون میں نہایا ہوا ہے۔ طالبان اور بلوچی پٹھان اب ہاتھوں میں AK47 لئے گلی گلی گھوم رہے ہیں۔ ان کے جنون کا یہ عالم ہے کہ وہ بادشاہ خان کا نام بھی سننے کو تیار نہیں ہیں۔ کوئی ایک ماہ قبل خان عبدالغفار خان کے آبائی وطن میں ان کے نام سے منسوب جو باچا خان یونیورسٹی ہے اس میں گھس کر طالبان نے گولی چلائی جس میں کئی طالب علم مارے گئے اور وہ اب یہ مانگ کررہے ہیں کہ باچا خان یونیورسٹی کا نام بدلا جائے۔ خان عبدالغفار خان کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی۔ بلوچی پٹھان ہی کیا پورا پاکستان بھیڑیوں کے ہاتھوں میں ہے ، جہاں AK47 اور بموں کا راج ہے۔ جہاد کے نام پر طالبان اور نہ جانے کیسے کیسے دہشت گرد گروہ پورے ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں اور پورا ملک دشت گرد بھیڑیوں کے ہاتھوں میں ہے۔آج پاکستان میں کوئی خان عبدالغفار خان کا نام لیوا نہیں تھا۔ صاحب ! کیا شخصیت تھی اس پٹھان کی۔ سن 1985 ء میں جب وہ آخری بار ہندوستان آئے تو راقم الحروف کو اس عظیم الشان شخصیت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ میں نے بادشاہ خان کا انٹرویو بھی لیا۔ مجھ کو وہ ملاقات آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ وہ ڈسمبر کا مہینہ تھا اور دہلی میں شدید سردی پڑ رہی تھی۔ اس وقت راجیو گاندھی ملک کے وزیراعظم تھے۔ وہ بادشاہ خان کی آمد کے وقت دہلی سے باہر تھے۔ چنانچہ بادشاہ خان اس وقت کے مرکزی وزیر ارون نہرو کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب میں ارون نہرو کے گھر انٹرویو کیلئے پہونچا تو صبح کا وقت تھا ،لیکن دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ سادہ لوح بادشاہ خان ڈسمبر کی اس دھوپ میں ایک معمولی سے پلنگ پر تشریف فرما تھے۔ پاس ہی ایک حقہ رکھا ہوا تھا جو ٹھنڈا ہوچکا تھا۔ میرے ساتھ انٹرویو کے دوران بھی وہ غصہ میں نظر آرہے تھے اور بار بار یہی شکایت کررہے تھے کہ یہ وہ ہندوستان نہیں جس کا خواب آزادی سے قبل ہم نے اور گاندھی جی نے دیکھا تھا‘‘۔
جی ہاں ! بادشاہ خان، تاریخ نے برصغیر ہند کے ساتھ عجیب و غریب مذاق کیا۔ پہلے ہندوستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا۔ خون کی ندیاں بہیں اور ہند و پاک دو ملک ہوگئے۔ جواہر لال نہرو نے بڑی خوبی سے ہندوستان میں جمہوریت اور سیکولرازم کی بنیاد رکھ کر ہندوستان کو ایک جدید ریاست کے رُخ پر ڈالنا شروع کیا لیکن سرحد کے اُس پار جناح جلد ہی موت کی نیند سو گئے اور آہستہ آہستہ پاکستان فوج کے چنگل میں چلا گیا اور پھر ملک کا یہ حشر ہوا کہ ملک پر جہاد کے نام پر دہشت گردوں کا قبضہ ہوگیا۔ آج پاکستان پر طالبان اور حافظ سعید جیسوں کا قبضہ ہے اور بادشاہ خان کا کوئی نام لیوا نہیں ہے۔ شکر ہے کہ ہندوستان کے حالات اتنے بُرے نہیں ہیں ، لیکن آثار یہاں بھی کوئی بہت اچھے نہیں ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں سیکولرازم پر اس ملک میں بھی کالے بادل کے سائے نظر آتے ہیں۔ اب ہندوستان میں بھی چناؤ جیتنے کے لئے مذہب کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے۔ یہ ایک خطرناک بات ہے۔ جیسے پاکستان میں پہلے ضیاء الحق نے نظام مصطفیٰ کا نعرہ لگایا اور پھر پاکستان آخر جہادیوں کے ہاتھ چلا ، گیا ویسے ہی ہندوستان میں بھی عدم رواداری بڑھتی جارہی ہے۔ سیاست میں ایک ایسا طبقہ بڑھتا جارہا ہے جو اس ملک کی صدیوں پرانی تہذیب و روایات پر یقین نہیں رکھتا۔ جیسا بادشاہ خان نے مجھ سے 1985 ء میں کہا تھا کہ یہ گاندھی کے خوابوں کا ہندوستان نہیں ہے تو وہ بات اب سچ نظر آتی ہے۔ پاکستان کے متعلق بادشاہ خان کی جو پیشین گوئی تھی وہ تو سچ ثابت ہوئی کہ پاکستان بھیڑیوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جو اپنے کو جہادی کہتے ہیں۔ کہیں اب ہندوستان بھی ایسی قوتوں کے ہاتھوں میں نہ چلا جائے، خدا کرے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آثار کچھ اچھے نہیں ہیں …!

TOPPOPULARRECENT