Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / ملک کے بینکوں میں کالا دھن اور غیر محسوب رقومات کھاتوں میں جمع رہنا ممکن نہیں

ملک کے بینکوں میں کالا دھن اور غیر محسوب رقومات کھاتوں میں جمع رہنا ممکن نہیں

حیدرآباد ۔ 22 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : ملک کے مختلف بینکوں میں موجود کالا دھن اور غیر محسوب رقومات کا اب اسی طرح کھاتوں میں جمع رہنا ممکن نہیں رہے گا ۔ چونکہ بینک کھاتوں کو آدھار کارڈ سے مربوط کرنا لازمی قرار دیا جارہا ہے اور دوسری جانب ڈیجیٹیل ، آن لائن محصولات آمدنی کی تفصیلات جمع کرنے والوں کے لیے بھی آدھار نمبر کا اندراج لازمی قرار

حیدرآباد ۔ 22 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : ملک کے مختلف بینکوں میں موجود کالا دھن اور غیر محسوب رقومات کا اب اسی طرح کھاتوں میں جمع رہنا ممکن نہیں رہے گا ۔ چونکہ بینک کھاتوں کو آدھار کارڈ سے مربوط کرنا لازمی قرار دیا جارہا ہے اور دوسری جانب ڈیجیٹیل ، آن لائن محصولات آمدنی کی تفصیلات جمع کرنے والوں کے لیے بھی آدھار نمبر کا اندراج لازمی قرار دے دیا گیا ہے ۔ محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے کئے گئے ان اقدامات کا اثر معاشرے کے اس طبقہ پر یقینا ہوگا جو مختلف بینکوں میں بے نامی کھاتوں کے ذریعہ رقمی معاملت انجام دیا کرتے تھے ۔ حکومت نے آدھار کارڈ اور پیان کارڈ کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کے احکام کے ذریعہ ملک بھر میں موجود بے نامی کھاتوں کی نشاندہی اور ایک سے زائد کھاتوں کا استعمال کرنے والوں کو جکڑنے کی آسان راہ تلاش کرلی ہے ۔ محصولات آمدنی ( انکم ٹیکس ) کی تفصیلات ہر سال بہ پابندی جمع کروانے والوں کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی ٹیکس دہندگان ان حالات سے پریشان ہوں گے لیکن وہ لوگ جو ٹیکس چوری کے لیے مختلف راستے تلاش کرتے ہوئے حکومت کو دھوکہ دے رہے تھے انہیں اب بچاؤ کا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا بلکہ انہیں اپنے تمام بینک کھاتوں کو آدھار سے مربوط کرنا ہوگا اور جب بینک کھاتوں سے بڑے رقمی لین دین ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں پیان کارڈ کی تفصیل از خود کھاتے سے مربوط ہو ہی جاتی ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ٹیکس کی وصولی میں بہتری پیدا کرنے کے علاوہ ملک کے اندر موجود غیر محسوب دولت کو نکالنے کے لیے کئے جانے والے ان اقدامات کا اثر تجارتی برادری پر ہوگا اور تجارتی برادری میں حکومت کے متعلق ناراضگی پیدا ہوسکتی ہے ۔ اب تک جو ٹیکس دہندگان ڈیجیٹل دستخط کے حامل تھے انہیں ای ریٹرنس داخل کرنے کا اختیار تھا لیکن اب آدھار کارڈ سے ٹیکس نظام کو مربوط کیے جانے کے بعد کوئی بھی فرد نئے آن لائن انکم ٹیکس فارم کے ذریعہ اپنی تفصیلات جمع کرواسکتا ہے ۔ انکم ٹیکس سے آدھار کارڈ کو مربوط کردئیے جانے کے بعد اب شہریوں کی تمام تفصیلات ایک آدھار نمبر میں جمع ہوجائیں گی اور آدھار کارڈ کی قدر میں بھی اضافہ ہوگا چونکہ اب تک حکومت کی جانب سے جاری کردہ آدھار کارڈز کو صرف شناخت وغیرہ کی حد تک محدود تصور کیا جارہا تھا لیکن اب یہ آدھار کارڈ ملک میں موجود غیر محسوب اثاثوں کی نشاندہی کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT