Thursday , August 16 2018
Home / Top Stories / ملک کے روشن مستقبل کیلئے جرأت مندانہ قدم قابل ستائش: ٹرمپ

ملک کے روشن مستقبل کیلئے جرأت مندانہ قدم قابل ستائش: ٹرمپ

کم جونگ اُن نے صدر امریکہ کو دورۂ شمالی کوریا کی دعوت دی
سیئول ؍ واشنگٹن۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) شمالی کوریا کے قائد کم جونگ اُن نے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کو شمالی کوریا کے دورہ کی دعوت دی جسے ٹرمپ نے قبول کرلیا ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے آج یہ اطلاع دی اور یہ بھی کہا کہ ان اقدامات سے ’’سرد جنگ کے دشمنوں‘‘ کے تعلقات میں خوشگوار تبدیلی دیکھی جارہی ہے جو یقیناً نہ صرف دونوں ممالک کی حکومتوں اور عوام بلکہ ساری دنیا کیلئے فال نیک ثابت ہوگی۔ یاد رہے کہ 12 جون کو سنگاپور میں ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی ملاقات نے دنیا کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی تھی۔ ایک طرف جہاں کم جونگ نے کوریا کی جزیرہ نما کو نیوکلیئر توانائی سے مکمل طور پر پاک کرنے کا وعدہ کیا ہے، وہیں امریکہ نے بھی شمالی کوریا کو تحفظ کی پوری پوری طمانیت دی ہے۔ ’’اس ہاتھ دے، اس ہاتھ لے‘‘ کے مصداق دونوں ممالک کے قائدین کی اس ملاقات پر قبل ازیں کئی بار شک و شبہات کے بادل چھائے رہے۔ ملاقات ہوگی یا نہیں ہوگی۔ بس یہی بات ہر ایک کی زبان پر تھی۔ شمالی کوریا کو جس طرح امریکہ یکا و نتہا کردینے کی دھمکی دی تھی وہ شاید رنگ لائی۔ آج اس دور میں دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے پڑوسی ملک یا دیگر چھوٹے اور بڑے ممالک سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ ٹرمپ نے مسلم ممالک کیساتھ چاہئے جو بھی رویہ اختیار کیا ہو، لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ مسلمہ سے کہ انہوں نے ابتداء میں کچھ تجسس برقرار رکھتے ہوئے کم جونگ اُن سے ملاقات کیلئے رضامندی کے ذریعہ یہ ظاہر کردیا کہ موصوف خود بھی امن کے خواہاں ہیں جس کی ایک اور مثال وائیٹ ہاؤز میں ترتیب دیئے گئے۔ افطار کے ذریعہ بھی دی جاسکتی ہے حالانکہ گزشتہ سال ٹرمپ نے افطار پارٹی دینے سے گریز کیا تھا۔ بہرحال ایک طرف یہاں کم جونگ نے انہیں شمالی کوریا کے دورہ کی دعوت دی ہے، وہیں ٹرمپ نے بھی کم جونگ کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے (کم جونگ) اپنے ملک کے روشن مستقبل کی جانب ایک انتہائی جرأت مندانہ قدم بڑھایا ہے جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے، وہ کم ہے۔ حالانکہ قبل ازیں ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’اب خدا خدا کرکے کفر ٹوٹ چکا ہے‘‘ لہذا وہ کم جونگ سے مستقبل میں کئی بار ملاقات کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے کم جونگ کو ایک باصلاحیت اور حب الوطن شخصیت بھی قرار دیا۔ ایرفورس ون پر سوار ہونے کے بعد اپنے ایک ٹوئیٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی برسرکار امریکی صدر اور شمالی کوریا کے قائد کے درمیان اپنی نوعیت کی اس پہلی ملاقات نے ساری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ ٹرمپ نے حالانکہ صدر بننے کے بعد سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اور اس کے علاوہ دیگر کچھ اور ممالک بھی ان کے دورے میں شامل تھے، لیکن شمالی کوریا کے قائد کم جونگ اُن سے سنگاپور میں ہوئی ملاقات نے سب ملاقاتوں کو 7 کردیا۔ دونوں قائدین کی ایک نیوٹرل (غیرجانبدار) مقام یعنی سنگاپور میں ہوئی ملاقات سے یہ بات اب تقریباً طئے ہے کہ مستقبل قریب میں کم جونگ امریکہ کا اور ڈونالڈ ٹرمپ شمالی کوریا کا دورہ کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT