Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ملک گیر سطح پر اولا اور اوبر ڈرائیورس کی ہڑتال

ملک گیر سطح پر اولا اور اوبر ڈرائیورس کی ہڑتال

حیدرآباد میں گاڑیوں کی آمد و رفت برقرار ، مقروض ڈرائیورس کا معاہدہ کے مطابق عمل کا مطالبہ
حیدرآباد۔19مارچ(سیاست نیوز) ملک بھر میں اولا اور اوبر ڈرائیورس کی ہڑتال کا حیدرآباد میں کوئی خاص اثر دیکھا نہیں جا رہاہے لیکن جو ڈرائیور ہڑتال کے باوجود گاڑیاں چلا رہے ہیں ان گاڑیوں کے کرایہ میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے ۔ قومی سطح پر ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں اولا اور اوبر ڈرائیورس نے گذشتہ یوم سے ہی غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا آغاز کردیا ہے اور ملک کے تمام بڑے شہروں میں یہ ہڑتا ل جاری ہے لیکن حیدرآباد میں نصف سے زائد اولا اور اوبر ڈرائیور خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں ان کا کہناہے کہ کمپنی پر دباؤ ڈالنے کیلئے کی جانے والی کوشش کے دوران ان کے روز مرہ کے کاروبار کو نقصان ہوگا اسی لئے وہ نقصان سے بچنے کام کر رہے ہیں۔ ہڑتال کا حصہ نہ بننے والے ڈرائیورس کا کہنا ہے کہ اولا اور اوبر کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر عدم عمل آوری سے زیادہ ڈرائیونگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے باعث یہ ہڑتال شروع کی گئی ہے لیکن ہڑتال کے سبب مزید نقصانات سے دو چار ہونا پڑے گا اسی لئے شہر حیدرآباد کے بیشتر اولا اور اوبر ڈرائیور خدمات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہڑتال کے باعث ٹیکسی گاڑیوں میں ہونے والی کمی کے سبب مسافرین کو کچھ اضافہ کرایہ ادا کرنا پڑ رہا ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ عام دنوں میں جو مصروف اوقات کے دوران اولا اور اوبر کی جانب سے کرایہ وصول کیا جا تا تھا وہی کرایہ اب دن بھر کے دوران وصول کیا جارہاہے جس کے سبب مسافرین پر اضافی مالی بوجھ عائد ہورہا ہے لیکن مسافرین کی تعداد میں کوئی کمی ریکارڈ نہیں کی گئی ہے بلکہ جو لوگ اولا اور اوبر استعمال کرنے کے عادی ہیں انہیں بہ آسانی حیدرآباد میں ٹیکسی دستیاب ہورہی ہے جس سے یہ کہا جا رہاہے کہ شہر میں اولا اور اوبر کی ہڑتال کا کوئی اثر محسوس نہیں کیا جا رہاہے۔ اولا اور اوبر کے ڈرائیورس کا کہناہے کہ ہڑتال میں حصہ لینے کی صورت میں مزید نقصانات ہو سکتے ہیں اسی لئے ہڑتال میں حصہ لینے سے گریز کیا جا رہاہے اور یومیہ آمدنی پر کوئی اثر نہ ہو اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہڑتال میں حصہ نہ لینے والے ڈرائیورس کا کہناہے کہ وہ ہڑتالی ڈرائیورس کے مطالبات سے اتفاق رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں دونوں کمپنیاں ڈرائیورس کے مطالبات کی یکسوئی کو یقینی بنائیں کیونکہ ڈرائیورس نے جو گاڑیاں اولا اور اوبر کے ساتھ لگائی ہیں وہ بینک قرضہ جات کے ذریعہ حاصل کردہ ہیں اورانہیں بینکوں کے اقساط کی ادائیگی کو ممکن بنانا ہے اسی لئے ان کے مطالبات قبول کئے جانے چاہئے اور حسب وعدہ ڈرائیورس سے اشتہارات میں حصہ کا جو معاہدہ کیا گیا تھا اس کے مطابق انہیں حصہ ادا کیا جاناشروع کیاجائے تاکہ ڈرائیورس خدمات کو مزید بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔

TOPPOPULARRECENT