Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / ملیالم اداکارہ کی درخواست پر سپریم کورٹ میں آج سماعت

ملیالم اداکارہ کی درخواست پر سپریم کورٹ میں آج سماعت

ایک کروڑ ملیالم مسلمانوں میں مقبول گیت پر غیر ملیالی افراد کا اعتراض ناقابل فہم : پریہ پرکاش
نئی دہلی 20 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ملیالی اداکارہ پریہ پرکاش ورئیر کی ایک درخواست پر سپریم کورٹ میں کل چہارشنبہ کو سماعت ہوگی جس میں اُنھوں نے سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو کی بنیاد پر اپنے خلاف کی جانے والی کسی امکانی فوجداری کارروائی پر التواء کی درخواست کی ہے۔ پریہ پرکاش ورئیر کو حال ہی میں ایک ملیالم فلم کے نغمہ کے سبب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر سنسنی خیز کردار کی حیثیت سے کافی شہرت حاصل ہوئی ہے۔ اس اداکارہ کے وکیل حارث بیران نے اس مسئلہ پر فوری سماعت کی درخواست کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے کل سماعت سے اتفاق کرلیا۔ 18 سالہ اداکارہ نے گزشتہ روز عدالت عظمیٰ سے رجوع ہوتے ہوئے تلنگانہ میں اپنے خلاف درج کردہ ایف آئی آر کو کالعدم کرنے کی درخواست کی تھی۔ نیز انھوں نے دیگر ریاستوں کو بھی اپنے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے سے باز رکھنے کی استدعا کی تھی۔ ورئیر نے جو کیرالا کے ضلع تھریسور کے ایک کالج میں بی کام کی طالبہ ہے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ ملیالم فلم ’’اورواڈاروو‘‘ کے ایک نغمہ ’مانکیا مالا رایا پووی‘ کے خلاف درج ایف آئی آر پر کارروائی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس گیت کے بول کو اشتعال انگیز اور ایک مخصوص مذہبی طبقہ کے جذبات مجروح کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ پریہ پرکاش نے اپنی درخواست میں کہاکہ 14 فروری کو حیدرآباد کے فلک نما پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کیا گیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ اس سے ایک مخصوص طبقہ کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ پریہ نے مزید کہاکہ ممبئی میں رضا اکیڈیمی کے ایک سکریٹری نے بھی اسی روز فوجداری شکایت درج کروائی ہے جس میں ممبئی پولیس کمشنر سے اس اداکارہ نے ادعا کیاکہ کیرالا کی ایک کروڑ مسلم ملیالی آبادی نے اس گیت کو پسند کیا جبکہ تلنگانہ، مہاراشٹرا اور دیگر غیر ملیالم ریاستوں کے بعض افراد اور چھوٹی تنظیمیں غیر درست اور مسخ شدہ تشریحات کی بنیاد پر شکایات درج کرواتے ہوئے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا الزام عائد کررہے ہیں۔ مسلم برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا الزام بے بنیاد ہے کیوں کہ یہ گیت کیرالا کے مالابار علاقہ کا روایتی نغمہ ہے اور ایک ’مپیلا‘ گیت جو 40 سال سے مقبول ہے جس کو مسلم برادری کی طرف سے نہ صرف پسند کیا جاتا ہے بلکہ گایا بھی جاتا ہے لیکن اب اس کو توہین آمیز کہا جارہا ہے جو ناقابل فہم ہے۔

TOPPOPULARRECENT