Saturday , November 18 2017
Home / دنیا / ملیشیا ‘ مدرسہ کی آگ میں فوت 21 لڑکوں کی تدفین

ملیشیا ‘ مدرسہ کی آگ میں فوت 21 لڑکوں کی تدفین

کوالا لمپور 16 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک خانگی اسلامی رہائشی مدرسہ میں آگ لگنے کی وجہ سے ہلاک 21 کمسن لڑکوں کی آج ملیشیا میں تدفین عمل میں آئی ۔ ملک بھر میں یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مذہبی اسکولس اور مدارس کو باقاعدہ بنایا جائے ۔ مسخ شدہ نعشوں کو ڈی این اے معائنوں کے بعد ان کے لواحقین کے حوالے کیا گیا ۔ اسلامی تنظیموں اور غمزدہ افراد خاندان نے مہلوکین کیلئے دواخانہ کی مسجد میں نماز جنازہ ادا کی اور پھر ان کی نعشیں تدفین کیلئے روانہ کی گئیں۔ کہا گیا ہے کہ گیارہ لڑوں کی تدفین کوالا لمپور کے باہر عمل میں آئی جہاں سینکڑوں غمزدہ افراد خاندان اور دوسرے لوگ جمع تھے ۔ اس کے علاوہ ایک اور قبرستان میں دو بھائیوں اور ان کے ایک رشتہ دار کی تدفین عمل میں آئی ۔ اسٹار نیوز پیپر نے یہ اطلاع دی ۔ دوسروں کو ان کے آبائی شہروں کو لیجایا گیا ۔ تدفین کے انتظامات ملک کے اسلامی امور کے حکام کی جانب سے کئے گئے ۔ جمعرات کی صبح اولین ساعتوں میں ایک حفظ قرآن کے مدرسہ میں آگ لگ گئی تھی جہاں مسلم لڑکے حفظ کر رہے تھے ۔ یہاں باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا جس کی وجہ سے طلبا پھنس گئے تھے ۔ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ یہ اسکول کسی لائسنس اور فائر سیفٹی پرمٹ کے بغیر کام کر رہا تھا اور اس کی اوپری منزل پر ایک دیوار غیر قانونی طور پر تعمیر کردی گئی تھی جس کے نتیجہ میں طلبا کو باہر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ دستیاب نہیں ہوسکا ۔ نیشنل نیوز ایجنسی برناما کی جانب سے جاری کردہ ایک فہرست میں کہا گیا ہے کہ 21 مہلوک بچوں کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھیں اور مہلوکین میں دو اساتذہ بھی شامل تھے ۔ پولیس نے مہلوک بچوں کی عمریں 13 سے 17 سال کے درمیان بتائی ہیں۔ عمروں میں اس فرق کے تعلق سے ابھی کوئی وضاحت نہیں ہوسکی ہے ۔ ملیشیا میں اسلامی مدرسے خانگی طور پر چلائے جاتے ہیں اور وزارت تعلیم ان کی نگرانی نہیں کرتی کیونکہ یہ سرکاری مذہبی حکام کے تحت آتے ہیں۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک میں 500 مدرسے ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہیں جبکہ دوسرے بے شمار مدرسے ملک بھر میں کام کر رہے ہیں جن کا کوئی رجسٹریشن نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT