Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / ملی جلی تہذیب اور تنوع ہی ہندوستانی سماج کی طاقت

ملی جلی تہذیب اور تنوع ہی ہندوستانی سماج کی طاقت

کیرالا کے شمولیاتی ماڈل کی ستائش۔ اردو یونیورسٹی میں اقلیتوں کی تعلیمی ترقی پر سمینار

کیرالا کے شمولیاتی ماڈل کی ستائش۔ اردو یونیورسٹی میں اقلیتوں کی تعلیمی ترقی پر سمینار
حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( پریس نوٹ) : تہذیبی تنوع اور کثرت میں وحدت ہی ہندوستان کی طاقت ہے۔ یہ ہماری کمزوری نہیں ہے۔ 21 ویں صدی ہندوستان کی ہے۔ تاہم ہر سطح پر شمولیاتی ترقی کے بغیر ہندوستان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر امیتابھ کنڈو، ڈائرکٹر، سنٹر فار اسٹڈی آف ریجنل ڈیولپمنٹ و صدر نشین مابعد سچر جائزہ کمیٹی نے آج مولانا آزادنیشنل اردو یونیورسٹی میں ایک قومی سمینار کے افتتاحی اجلاس میں بحیثیت مہمانِ خصوصی کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ دو روزہ سمینار ’’اقلیتوں کی تعلیمی ترقی : پالیسی، اقدامات اور اثرات‘‘ کا اہتمام شعبۂ سیاسیات و نظم و نسق عامہ، اردو یونیورسٹی نے وزارت اقلیتی امور، حکومت ہند کے تعاون سے کیا ہے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر خواجہ محمد شاہد، پرو وائس چانسلر نے کی۔ ڈاکٹر فضل غفور، صدر مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی، کالی کٹ، کیرالا مہمانِ اعزازی تھے۔ پروفیسر کنڈو نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ طبقاتی اور علاقائی سطح پر اگر عوامی امنگوں کی تکمیل نہیں کی گئی تو ہندوستان کی ترقی متاثر ہوگی۔ انہوں نے گجرات کے ترقیاتی ماڈل کے تعلق سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امیتابھ بچن جیسی مشہور ہستی ہوسکتا ہے کہ گجرات کی برانڈ امبیسڈر ہو لیکن کیرالا کی شمولیاتی ترقی نے امرتیہ سین جیسے ماہر معاشیات کو بھی اپنا قائل کیا ہے۔ ڈاکٹر فضل غفور نے کیرالا ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں چند خامیاں بھی موجود ہیں جن پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کیرالا کے مسلمان اگرچہ مابقی ہندوستان کے مسلمانوں سے علیحدہ ہیں لیکن وہ برطانوی حکومت کے خلاف ہندوستان کی قومی تحریک میں سرگرم رول ادا کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر خواجہ محمد شاہد نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کسی بھی ادارے کی کامیابی کے لیے تنظیم کی زبردست اہمیت ہے۔ انہوں نے ایک اہم موضوع پر سمینار کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی اور توقع ظاہر کی کہ دو روزہ سمینار کے دوران پیش کیے جانے والے مقالوں میں اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کا واقعیت پسندانہ جائزہ لیتے ہوئے مسائل کے عملی حل پیش کیے جائیں گے۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار نے جو افتتاحی اجلاس میں شریک نہ ہوسکے، سمینار کی کامیابی کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ افتتاحی اجلاس کا آغاز قاری شجاعت کی تلاوت اور ترجمہ سے ہوا۔ ڈاکٹر کنیز زہرہ صدر شعبۂ سیاسیات و نظم و نسق عامہ و کو آرڈینیٹر نے سمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر سید نجی اللہ، اسسٹنٹ پروفیسر و آرگنائزنگ سکریٹری نے خیر مقدم کیا اور شکریہ ادا کیا۔ محترمہ شبانہ فرحین، اسسٹنٹ پروفیسر نے کاروائی چلائی۔ملک بھر سے اساتذہ اور اسکالرس کی بڑی تعداد سمینار میں شریک تھی۔

TOPPOPULARRECENT