Wednesday , April 25 2018
Home / شہر کی خبریں / ملے پلی آئی ٹی آئی اراضیات کی لیز ختم کرنے کا جائزہ

ملے پلی آئی ٹی آئی اراضیات کی لیز ختم کرنے کا جائزہ

اراضیات کے حصول کو یقینی بنانے حکومت کوشاں کونسل میں وزیر داخلہ نرسمہا ریڈی کا جواب
حیدرآباد۔20مارچ(سیاست نیوز) حکومت ملے پلی آئی ٹی آئی کی اراضیات جو لیز پر دی گئی ہیں ان کی لیز کو ختم کرنے کے امور کا جائزہ لے رہی ہے اور اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ اراضی واپس حاصل کی جائے جو کہ غیر مجاز افراد کے زیر استعمال ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ مسٹراین نرسمہا ریڈی نے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں رکن قانون ساز کونسل مسٹر ایم ایس پربھاکر کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں یہ بات کہی اور بتایا کہ متمول اداروں کو جو لیز فراہم کی گئی ہے اس کی تنسیخ کے متعلق حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جائیں گے اور اراضی کے حصول کو یقینی بنایاجائے گا۔ مسٹر این نرسمہا ریڈی نے بتایا کہ 20سالکیلئے محکمہ لیبر کی جانب سے ملے پلی آئی ٹی آئی کی اراضی کا ایک حصہ 5ایکڑ 15گنٹہ اراضی 1970میں اے پی ایس ایس آئی ڈی سی کے حوالہ کیا گیا تھا وار یہ لیز کی مدت 1990 میں ہی ختم ہوچکی ہے لیکن اس دوران ادارہ کی جانب سے چھوٹے صنعتی کارخانوں کو یہ اراضیات حوالہ کی گئی اور ان معمولی صنعتی اداروں کے نگران اسوسیشن کی صورت میں حکومت سے رجوع ہوئے اور کہا کہ انہیں یہ اراضی بازار کی قیمت 800 روپئے فی مربع گز اور 12فیصد سالانہ شرح سود عائد کرتے ہوئے 1نومبر 1987 سے وصول کرلیا جائے اور اراضی انہیں دیدی جائے جس پر حکومت نے ان کی اس پیشکش کو مسترد کردیا جس پر ان افراد نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے حکم التواء حاصل کیا ہے اور اس حکم التواء کو برخواست کرواتے ہوئے ان اراضیات کے حصول کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔مسٹر ایم ایس پربھاکر نے ملے پلی آئی ٹی آئی کی قیمتی اراضیات کو تجارتی مقاصد کے لئے حوالہ کئے جانے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے نوجوانو ں کو ہنر مند بنانے کیلئے کروڑہا روپئے خرچ کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن شہر کے بیچ موجود آئی ٹی آئی کی انتہائی قیمتی اراضیات کے تحفظ کو ممکن بنانے کے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیںجو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔مسٹر ایم ایس پربھاکر نے ریاستی وزیر داخلہ مسٹر این نرسمہا ریڈی کو مشورہ دیا کہ وہ قلب شہر میں واقع اس قیمتی اراضی کے حصول کیلئے اقدامات کریں اور اگر حکومت کی جانب سے دیگر سرکاری اداروں کو ہی اراضیات کی منتقلی عمل میں لائی جا رہی ہے تو ایسی صورت میں ملے پلی آئی ٹی آئی کی اراضی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حوالہ کرتے ہوئے اس علاقہ میں ڈبل بیڈ روم امکنہ اسکیم کا پراجکٹ شروع کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے خانگی ‘ کارپوریٹ اداروں کو آئی ٹی آئی کی اراضی کی حوالگی کے معاہدہ کو فوری منسوخ کیا جائے کیونکہ کروڑہا روپئے کی سرکاری اراضی سے کارپوریٹ ادارے فائدہ حاصل کررہے ہیںجو کہ مناسب نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT