Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / ممبئی بم دھماکوں کے ملزمین پر گرفت اور فسادیوں پر عنایت

ممبئی بم دھماکوں کے ملزمین پر گرفت اور فسادیوں پر عنایت

یعقوب میمن کی پھانسی کے معاملہ میں شدید ناانصافی، سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری کا تاثر

نئی دہلی ۔ 30 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی بم دھماکوں کے ملزم یعقوب میمن کی سزائے موت کو ناانصافی سے تعبیر کرتے ہوئے سی پی ایم نے آج مطالبہ کیا ہیکہ شہر ممبئی میں 1992ء کے فسادات کیلئے ذمہ دار افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے اور بتایا کہ یہ بم دھماکہ، فرقہ وارانہ فسادات کا ردعمل تھا۔ جنرل سکریٹری سی پی ایم مسٹر سیتارام یچوری نے کہا اکہ اگرچیکہ یعقوب کے معاملہ میں قانون نے اپنا کام کیا ہے، لیکن دوسرے کیسوں میں بھی ملک کی سالمیت اور یکجہتی برقرار رکھتے ہوئے اسی طرح کے عزم و ارادہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ممبئی میں فرقہ وارانہ فسادات 1993ء کے سلسلہ وار بم دھماکوں پر جسٹس سری کرشنا کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں یہ نشاندہی کی گئی ہیکہ بم دھماکے دراصل بابری مسجد کی شہادت کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کا ردعمل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سری کرشنا کمیٹی کی رپورٹ میں یہ واضح کردیا گیا ہیکہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کے عوامل، ممبئی میں بم دھماکوں کیلئے کارفرما تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ ان فسادات میں میمن خاندان کو ہراساں و پریشان کیا گیا تھا اور بیرونی طاقتوں نے بم دھماکوں کیلئے انہیں استعمال کیا ہے۔ سی پی ایم لیڈر نے سوال کیا کہ ممبئی دھماکوں کی وجہ سے یعقوب کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا لیکن بابری مسجد کی مسماری کے بعد ممبئی میں پھوٹ پڑے فرقہ وارانہ فسادات کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف رسانی کا نظام نہ صرف غیرجانبدار ہونا چاہئے بلکہ اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا جانا چاہئے تاکہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد قائم رہ سکے۔ مسٹر یچوری نے الزام عائد کیا کہ حکومت سے ہندوتوا دہشت گردانہ کیسوں میں بالخصوص مالیگاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے اور 2002ء میں گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات میں ماخوذ سابق وزیر مایاکوڈنانی کے معاملہ میں سست روی سے کام لے رہی ہے۔ یہ انصاف کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔ انصاف ہر ایک کے ساتھ مساوی ہونا چاہئے۔ اگر آپ ایک فریق کیلئے انصاف فراہم کررہے ہیں تو دوسرے فریق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے اور انصاف رسانی کا نظام جانبداری سے بلند ہونا چاہئے۔

مسٹر سیتارام یچوری نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا کیونکہ مہاتما گاندھی کو ایک ہندو جنونی، اندرا گاندھی کو ایک سکھ انتہا پسند اور راجیو گاندھی کو ایل ٹی ٹی ای کے شدت پسندوں سے ہلاک کیا تھا۔ لہٰذا دہشت گردی کسی ایک مذہب اور علاقہ تک محدود نہیں ہے۔ علاوہ ازیں سی پی ایم کے ترجمان پیپلز ڈیموکریسی کے اداریہ میں پولیٹ بیورو ممبر پرکاش کرات نے کہا کہ یعقوب میمن کو پھانسی ایک شدید ناانصافی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ان 100 ممالک میں شامل ہوجانا چاہئے جہاں پر سزائے موت کو برخاست کردیا گیا۔ سی پی ایم کے رکن پارلیمنٹ محمد سلیم نے کہا کہ صدرجمہوریہ اے پی جے عبدالکلام بھی سزائے موت کی منسوخی کے حق میں تھے اور حکومت کو چاہئے کہ عبدالکلام کے نظریہ کو ان کے ساتھ دفن نہ کرے۔ مسٹر سیتارام یچوری نے نیشنل لاء یونیورسٹی طلباء کے مطالعاتی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں یہ نشاندہی کی گئی ہیکہ سزائے موت پانے والوں کی اکثریت کا تعلق سماج کی عام طبقات سے ہے جن کا کوئی اثرورسوخ نہیں ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT