Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / ممبئی حملوں میں آئی ایس آئی کا رول ‘ پہلی دو کوششیں ناکام

ممبئی حملوں میں آئی ایس آئی کا رول ‘ پہلی دو کوششیں ناکام

ڈیوڈ ہیڈلی کا خصوصی عدالت میں بیان‘ حکومت یا غیر سرکاری اداروں کے بارے میں ابہام کا خاتمہ : کرن رجیجو

ممبئی 8 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی ۔ امریکی دہشت گرد ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے ‘ جو لشکر طیبہ کا اہم کارکن ہے ‘ آج یہ واضح کیا کہ اس کی تنظیم نے کس طرح سے ممبئی میں 26/11 کے دہشت گردانہ حملوں کی منصوہ بندی کی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنایا تھا ۔ ہیڈلی نے بتایا کہ اس کی تنظیم نے دو مرتبہ ناکام کوشش کے بعد تیسری کوشش میں یہ حملے کئے تھے ۔ اس نے بتایا کہ آئی ایس آئی نے ان حملوں میں اہم رول نبھایا تھا ۔ اس سلسلہ میں ہیڈلی نے تین آئی ایس آئی عہدیداروں کے نام بھی بتائے ۔ ہیڈلی ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے سلسلہ میں امریکہ میں 35 سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے ۔ اس نے لشکرطیبہ کے بانی حافظ سعید ‘ ایک اور لشکر کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی اور تنظیم میں اس کے نگران کار سجاد میر کے رول کے تعلق سے بھی تفصیل بتائی ۔ ہیڈلی نے ان واقعات کی تفصیلات بتائیں جو 26 نومبر 2008 تک پیش آئے تھے ۔ ہیڈلی ایک خصوصی جج جی اے ساناپ کی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعہ پیش ہوا ۔ کسی ہندوستانی عدالت میں بیرونی سرزمین سے ویڈیو لنک کے ذریعہ پیش ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے ۔ 55 سالہ ہیڈلی اس کیس میں گواہ معافی یافتہ بن گیا ہے ۔ اس نے انکشاف کیا کہ اسے لشکر طیبہ کی جانب سے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں اور اسلام آباد کے قریب ایبٹ آباد میں تربیت دی گئی تھی اور اس کی نگرانی ’’ حافظ سعید صاحب ‘‘ نے کی تھی ۔ ہیڈلی نے عدالت میں حافظ سعید کی تصویر کی اور لکھوی کی تصویر کی شناخت کی ۔ ہیڈلی نے بتایا کہ وہ کس طرح سے آئی ایس آئی کے تین عہدیداروں میجر علی اور میجر اقبال اور میجر عبدالرحمن پاشاہ سے رابطہ میں آیا تھا ۔ ہیڈلی نے عدالت سے کہا کہ اس نے اپنے اصلی نام داؤد گیلانی کو لشکرطیبہ کے کمانڈروں بشمول لکھوی اور آئی ایس آئی عہدیداروں کی ہدایت کے بعد تبدیل کردیا تھا تاکہ اس حملہ سے قبل یہاں کا دورہ کرسکے ۔ ہیڈلی نے انکشاف کیا کہ 26/11 کو ممبئی پر حملہ کرنے والے دس دہشت گردوں نے حملہ سے دو مرتبہ قبل بھی اس کی منصوبہ بندی کی تھی یہ کوششیں ستمبر اور اکٹوبر میں ہوئی تھیں لیکن وہ ناکام رہیں۔ ایک مرتبہ ان کی کشتی سمندر میں پتھر سے ٹکرا گئی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے ہتھیار اور اسلحہ سے محروم ہوگئے تھے اور پاکستان واپس ہوگئے تھے ۔ ہیڈلی نے کہا کہ میں ہندوستان کو اپنا دشمن سمجھتا تھا ۔ حافظ سعید اور ذکی الرحمن لکھوی بھی ہندوستان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ ’ حافظ سعید صاحب ‘ کی تقاریر سے متاثر ہوکر لشکرطیبہ میں شامل ہوا تھا ۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اور غیر سرکاری سازشیوں کے درمیان فرق کا ڈیوڈ ہیڈلی کے بیان کے بعد خاتمہ ہوچکا ہے ۔ پاکستانی نژاد امریکی لشکر طیبہ کارکن ڈیوڈ ہیڈلی کا بیان پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری سازشیوں کے بارے میں ابہام کا خاتمہ کرچکا ہے ۔ کرن رجیجو نے کہا کہ ہر شخص جانتا تھا کہ اس سازش اور اس پر عمل آوری میں کون ملوث تھا جس کے نتیجہ میں یہ حملے ہوئے تھے اور 166انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں ۔ اس پس منظر میں اور ہیڈلی کے انداز کارکردگی کے پیش نظر ہندوستان کی تحقیقات اور وکلا استغاثہ کو مدد حاصل ہوگی ۔ خصوصی وکیل استغاثہ اجول نکم نے کہا کہ ڈیوڈ ہیڈلی کشمیر میں ہندوستانی فوج سے جنگ کرنا چاہتا تھا لیکن لشکر کمانڈر لکھوی نے یہ کہتے ہوئے اُسے روک دیا تھا کہ وہ اس مہم کیلئے زیادہ عمر کا ہوچکاہے ۔ ہیڈلی کے بیان کی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے وکیل استغاثہ اجول نکم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ دہشت گرد ہیڈلی کشمیر میں تعینات فوج کے خلاف جنگ کرنے کے الزام میں مطلوب تھا ۔

TOPPOPULARRECENT