Saturday , December 15 2018

ممبئی حملوں میں نشانہ بننے والا یہودی سنٹر پھر تیار

ممبئی ، 26 اگست (سیاست ڈاٹ کام) چھ برس قبل ممبئی حملوں میں نشانہ بننے والے یہودی سنٹر کو آج بروز منگل دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ 2008ء میں اس سنٹر پر کیے گئے حملے میں چھ افراد مارے گئے تھے۔ نومبر 2008ء میں ممبئی میں کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں یہ یہودی مرکز بھی ایک ہائی پروفائل ٹارگٹ تھا۔ یہاں ہونے والے حملے کے نتیجے میں ’نریمان ہاؤس‘ ن

ممبئی ، 26 اگست (سیاست ڈاٹ کام) چھ برس قبل ممبئی حملوں میں نشانہ بننے والے یہودی سنٹر کو آج بروز منگل دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ 2008ء میں اس سنٹر پر کیے گئے حملے میں چھ افراد مارے گئے تھے۔ نومبر 2008ء میں ممبئی میں کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں یہ یہودی مرکز بھی ایک ہائی پروفائل ٹارگٹ تھا۔ یہاں ہونے والے حملے کے نتیجے میں ’نریمان ہاؤس‘ نامی یہ سنٹر بری طرح متاثر ہوا تھا جبکہ اس سنٹر کے منتظم ربی گاوَریل ہولٹزبرگ اور ان کی حاملہ اہلیہ رِیویکی بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ ممبئی میں مختلف مقامات پر تین دن تک جاری رہنے والے ان حملوں میں مجموعی طور پر 166 افراد مارے گئے تھے جبکہ پورے کا پورا شہر غم میں ڈوب گیا تھا۔ اس یہودی مرکز کی تعمیر نو میں معاونت کرنے والے یہودیوں کی آرتھوڈوکس خبد تحریک کے مقبول رکن ربی موشے کوٹلارسکائی کہتے ہیں کہ اس ’خبد ہاؤس‘ کا دوبارہ کھلنا لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ برائی دائمی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ یہ تمام دنیا کے لیے ایک پیغام ہے۔

آپ چیلنجوں پر قابو پا لیتے ہیں، چاہے وہ بہت بھیانک ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کوٹلارسکائی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ اس ’مرکز کی تعمیر نو کا پراجیکٹ دراصل اس امید کا غماز ہے کہ برائی دائمی نہیں ہوتی‘۔ ہندوستان کے اقتصادی مرکز ممبئی میں کولابا نامی ایک مصروف مارکیٹ میں قائم یہ یہودی سنٹر 2003ء میں کھولا گیا تھا۔ اس وقت ہولٹزبرگ نے اس مقام کو مقامی کمیونٹی اور یہودی سیاحوں کے لیے انتہائی خوبصورتی اور خلوص کے ساتھ سجایا تھا۔ چھبیس نومبر 2008ء کو دہشت گردوں نے ممبئی کے متعدد دیگر مقامات کے ساتھ ساتھ اس سنٹر کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ تب ان حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں اس سنٹر میں موجود چھ افراد مارے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT