Tuesday , November 21 2017
Home / دنیا / ممبئی حملوں کا بم ساز دولت اسلامیہ کے منصوبہ پر یوروپ بھی آیا تھا : رپورٹ

ممبئی حملوں کا بم ساز دولت اسلامیہ کے منصوبہ پر یوروپ بھی آیا تھا : رپورٹ

لندن ۔ 11 اپریل (سیاست ڈٹ کام) پاکستان کا ایک شہری جو بم سازی میں ماہر تھا اور جس نے 2008ء ممبئی بم حملوں میں نمایاں رول ادا کیا تھا، وہ ان سینکڑوں تربیت یافتہ دہشت گردوں میں شامل تھا، جس نے پناہ گزینوں کے ساتھ یوروپ میں داخلہ لیکر دولت اسلامیہ کے منصوبوں پر عمل آوری کرنے کی پوری کوشش کی تھی تاکہ یوروپ کو بھی لرزہ براندام کیا جاسکے۔ محمد عثمان غنی کا تعلق لشکرطیبہ اور لشکرجھانگوی سے رہا ہے، اسے آسٹریا میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دولت اسلامیہ کی جس ’’حملہ آور‘‘ ٹیم کو گذشتہ سال پیرس حملوں سے قبل یوروپ روانہ کیا گیا تھا، ان میں عثمان غنی بھی شامل تھا جو پاکستان کا ایک اہم بم ساز تھا۔ یاد رہے کہ ممبئی حملوں میں لشکرطیبہ ملوث تھی جس میں مجموعی طور پر 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 34 سالہ عثمان غنی اور دولت اسلامیہ کا ایک مشتبہ جنگجو 28 سالہ عادل حدادی سے آسٹریائی اور فرانسیسی حکام نے پیرس حملوں کے بعد پوچھ گچھ کی تھی جس میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ 3 اکٹوبر کو عثمان غنی اور حدادی یونانی جزیرہ لیروس پہنچے تھے اور وہ اسی کشتی میں سوار تھے جس میں پیرس کے دو خودکش حملہ آور سوار تھے جن کے فرضی نام احمد المحمد اور محمدالمحمود بتائے گئے تھے اور یہ دونوں وہی تھے جنہوں نے پیرس کے ایک اسٹیڈیم کے روبرو خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ یونانی پولیس کے ذریعہ گرفتاری کے بعد عثمان غنی اور حدادی کو 28 اکٹوبر کو رہا کردیا گیا تھا اور انہیں یوروپ کا سفر جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ پیرس حملوں کے بعد دونوں دوبارہ آسٹریا میں دیکھے گئے جہاں انہوں نے سالزبرگ کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پناہ حاصل کرنے کی درخواست دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT