Wednesday , December 12 2018

ممبئی میں مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے گرفتاریاں

ممبئی 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی میں انتخابات سے قبل مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے پولیس جبراً گرفتاریاں عمل میں لارہی ہے۔ اِس طرح کی گرفتاریاں جمعرات کی شب کی گئیں۔ 80 مسلمانوں کو ممبئی کے مضافات میں واقع ممبرا میں رشید کمپاؤنڈ سے اُٹھالیا گیا اور اِنھیں زبردستی حراست میں رکھ کر انتخابات سے قبل لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ سے نمٹنے

ممبئی 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی میں انتخابات سے قبل مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے پولیس جبراً گرفتاریاں عمل میں لارہی ہے۔ اِس طرح کی گرفتاریاں جمعرات کی شب کی گئیں۔ 80 مسلمانوں کو ممبئی کے مضافات میں واقع ممبرا میں رشید کمپاؤنڈ سے اُٹھالیا گیا اور اِنھیں زبردستی حراست میں رکھ کر انتخابات سے قبل لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے احتیاطی اقدام کرنے کا ادعا کیا گیا۔ مسٹر عبید اعظمی بھی ان گرفتار شدہ 80 مسلمانوں میں شامل تھے جنھیں بعدازاں رہا کیا گیا۔ پولیس نے انھیں جمعہ کی صبح تک حراست میں رکھا تھا۔ عبید اعظمی نے بتایا کہ میں جب گھر واپس ہوا تو میری رہائش گاہ کے اطراف پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات پایا۔ جیسے ہی میں اپنے مکان میں داخل ہوا، پولیس والوں نے مجھ سے زبردستی گھسیٹ کر ویان میں بٹھالیا۔ مقامی پولیس اسٹیشن لے جاکر صبح پانچ بجے رہا کردیا۔

پولیس نے مسلمانوں کو جس طریقہ سے گرفتار کیا اور انھیں گھسیٹ کر لے گئی وہ ذلت آمیز تھا۔ مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے پولیس کی یہ کارروائی قابل مذمت ہے۔ اِس واقعہ کی تھانے پولیس نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دنوں میں اِس طرح کی کارروائیاں معمول کا عمل ہوتی ہیں۔ تلاشی مہم کے دوران پولیس نے چند افراد کو گرفتار کیا تھا۔ وکیل اور سماجی کارکن شہزاد پورن والا نے کہاکہ اُنھوں نے انسانی حقوق کمیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ اِس کے علاوہ قومی اقلیتی کمیشن سے بھی شکایت کی گئی کہ پولیس نے نفسیاتی طور پر ہراساں کرتے ہوئے مسلمانوں کو ذہنی اذیت پہنچائی ہے۔ جن افراد کو گرفتار کیا گیا وہ تمام پروفیشنلس ہیں۔ اُن میں ضعیف افراد بھی تھے اور 75 سال کی عمر کے لوگ بھی تھے۔ ورکرس روز مرہ کی روٹی روزی کمانے والے ہائی اسکول کے طلبہ، گریجویٹس اور امتحان کی تیاری کرنے والے طلباء بھی شامل تھے۔

TOPPOPULARRECENT