Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / ممبئی میں چار دن گوشت کی فروخت پر امتناع

ممبئی میں چار دن گوشت کی فروخت پر امتناع

جین فرقہ کی خوشامد:شیوسینا، حکومت کے فیصلہ پرکانگریس کا احتجاج، قریشی برادری برہم
ممبئی ۔ 8 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں بیف (بڑے جانور کا گوشت) پر امتناع کے بعد جین کمیونٹی کے مجوزہ تہوار کے پیش نظر چار دن کیلئے میٹ (چھوٹے جانور کا گوشت) پر امتناع عائد کردیا گیا ہے۔ جین فرقہ کے علاوہ بی جے پی کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جارہا تھا لیکن حکومت کے اس فیصلہ پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے اور حلیف شیوسینا نے اسے ’’خوشامد پسندی‘‘ اور ’’مذہبی دہشت گردی‘‘ قرار دیا۔ بریہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کمشنر اجوئے مہتا نے یہ احکامات اس وقت جاری کئے جبکہ چند دن قبل متصلہ ضلع تھانے میں انتظامیہ نے 11 تا 18 ستمبر 8 دن گوشت کے فروخت پر امتناع عائد کردیا۔ جین فرقہ ان دنوں برت’’پریوشن‘‘ کا اہتمام کرتا ہے۔ ممبئی بی جے پی یونٹ کے جنرل سکریٹری امر جیت مشرا نے بی ایم سی کے اس فیصلہ کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ جین فرقہ کے مذہبی جذبات کا تحفظ کرنے کیلئے یہ امتناع عائد کیا گیا ہے ۔

اسے کسی مخصوص فرقہ کے خلاف کیا گیا فیصلہ نہیں سمجھا جاناچاہئے۔ بی ایم سی کے جاری کردہ احکامات کے مطابق 10 ، 13 ، 17 اور 18 ستمبر یعنی 4 دن چھوٹے جانور کے گوشت کی فروخت پر امتناع عائد رہے گا۔ کمشنر اجوئے مہتا نے اس فیصلہ کے سلسلہ میں تبصرے سے گریز کیا ہے ۔ تاہم بلدی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کوئی نیا فیصلہ نہیں ہے اور گزشتہ کئی سال سے اس پر عمل کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے مچھلی اور دیگر سمندری غذاؤں کی فروخت غیر متاثر رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف جین فرقہ بلکہ چند بی جے پی کارپوریٹرس کی جانب سے بڑھتے مطالبہ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ان چار دنوں میں بی ایم سی کے مسالخ بند رہیں گے اور گوشت کے فروخت پر بھی امتناع عائد رہے گا۔ بی ایم سی کے مارکٹ ڈپارٹمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ اس امتناع پر عمل آوری کو یقینی بنائیں اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ کوئی جانور ذبح نہ ہو اور شہر میں کہیں بھی گوشت فروخت نہ کیا جائے۔ بلدی عہدیداروں نے ان احکامات کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے ۔ بی جے پی کا یہ موقف ہے کہ گوشت پر امتناع عائد نہیں کیا جارہا ہے بلکہ سیکولرازم کے حقیقی جذبہ کے تحت یہ کمیونٹی کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔ تاہم بی جے پی کی حلیف شیوسینا جسے ملک کی دولتمند ترین کارپوریشن بی ایم سی میں اکثریت حاصل ہے، کہا کہ امتناع کی تائید نہیں کی جاسکتی اور بی جے پی سماج کے بعض طبقات کی خوشامد کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس لیڈر سچن ساونت نے کہا کہ یہ حکم آر ایس ایس نظریہ کا نفاذ ہے۔ کانگریس لیڈر منیش تیواری نے کہا کہ کیا حکومت کا یہ کام ہے کہ وہ اس بارے میں فیصلہ کرے کہ مجھے کیا کھانا چاہئے ، کیا پینا چاہئے ، کیا پہننا ، کہاں سونا ، کب بات کرنا چاہئے؟ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اس وقت جو صورتحال ہے وہ فسطائیت میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے ۔ شیوسینا کے سنجے راوت نے اس فیصلہ کو ’’مذہبی دہشت گردی‘‘ کے مماثل قرار دیا ۔

TOPPOPULARRECENT