Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / ممبئی پر دہشت گردانہ حملوں کے منصوبہ میں آئی ایس آئی کی اعانت

ممبئی پر دہشت گردانہ حملوں کے منصوبہ میں آئی ایس آئی کی اعانت

منصوبہ سازوں کے خلاف حکومت پاکستان کی کارروائی محض ایک ڈھونگ ۔ ڈیوڈ ہیڈلی کا دعویٰ
ممبئی 13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی نژاد امریکی دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی نے آج یہ ادعا کیا ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے جن لوگوں سے ان کا رابطہ تھا انھوں نے مطلع کیا تھا کہ ذکی الرحمن لکھوی اور حافظ سعید کے خلاف کچھ ہونے والا نہیں ہے اور پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے 26/11 کیس میں لکھوی اور سعید کے علاوہ لشکر طیبہ کے دیگر ارکان کے خلاف کارروائی ایک ڈھکوسلہ ہے۔ 26/11 حملوں سے قبل دہشت گردانہ سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے 55 سالہ عسکریت پسند نے جوکہ امریکہ ویڈیو رابطہ کے ذریعہ اپنی کارستانیاں بیان کررہا ہے، بتایا کہ آئی ایس آئی کے میجر اقبال کی ہدایت پر اس نے سال 2009 ء میں ہندوستانی فوج کے سدرن کمانڈ ہیڈکوارٹر پونے کا دورہ کیا تھا تاکہ بعض اہم راز کی اطلاعات حاصل کرنے کے لئے فوجی اہلکاروں سے رابطہ قائم کیا جاسکے۔ ہیڈلی جوکہ مذکورہ کیس میں گواہ معافی یافتہ بن گیا ہے، آج عدالت کو بتایا کہ القاعدہ لیڈر الیاس کشمیری کی ہدایت پر مارچ 2009 ء میں اس نے پشکر، گوا اور پونے شہروں کا دورہ کرکے دہشت گردانہ حملوں کے امکانات کا جائزہ لیا تھا۔ ہیڈلی نے مزید بتایا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے 26/11 حملوں کی تحقیقات شروع کئے جانے کے بعد اس کے رابطہ کار ساجد میر (لشکر طیبہ) نے مطلع کیا تھا کہ ذکی الرحمن لکھوی اور حافظ سعید محفوظ ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ امریکی دہشت گرد نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی فوج کے سابق میجر عبدالرحمن پاشاہ جس نے لشکر طیبہ کے بعد  القاعدہ میں شمولیت اختیار کرلی تھی، انھیں بتایا تھا کہ ذکی الرحمن لکھوی، حافظ سعید اور دیگر لشکر طیبہ ارکان کے خلاف پاکستان فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کی کارروائی محض ایک دکھاوا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ہیڈلی نے کہاکہ میجر اقبال کی خواہش کے مطابق انھوں نے مذکورہ تینوں شہروں کا دورہ کرکے عام مقامات کی ویڈیو فلم تیار کی تھی۔ اقبالیہ بیان کی تصدیق کیلئے اس نے اپنے اور رابطہ کار ساجد میر کے درمیان ای میل کی تفصیلات کا انکشاف کیا اور بتایا کہ لشکر طیبہ کے ساجد میر اور اس کے درمیان 3 جولائی 2009 ء تا 11 سپٹمبر 2009 ء کے درمیان ای میلس کا تبادلہ عمل میں آیا تھا اور کہاکہ اس وقت میں نے لشکر طیبہ کی قیادت کی سلامتی پر تشویش کا بھی اظہار کیا تھا کیوں کہ ممبئی میں 26/11 حملوں کے بعد حکومت پاکستان کی تحقیقات کے دوران مشتبہ افراد سے پوچھ تاچھ سے حافظ اور ذکی کے تحفظ پر میں فکر مند ہوگیا تھا جس پر ساجد میر نے ای میل پر یہ اطمینان دلایا تھا کہ ذکی صاحب بخیریت ہیں اور جیل میں مقید رہنے کے باوجود مایوس اور ذہنی تناؤ کا شکار نہیں ہیں۔ جبکہ ای میل میں مستعملہ خفیہ زبان میں حافظ سعید کو معمر چاچا اور ذکی کو نوجوان چاچا کا حوالہ دیا گیا تھا۔

راہول کے بیان میں حافظ سعید کی زبان: بی جے پی
نئی دہلی، 13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈروں جنھوں نے جے این یو قائدین کی گرفتاری پر اعتراض کیا، کے خلاف تنقید کرتے ہوئے بی جے پی نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ یہ لوگ عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے لب و لہجہ میں بات کررہے ہیں جس کی وجہ سے شہیدوں کی توہین ہورہی ہے اور قوم دشمن طاقتوں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔ بی جے پی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جے این یو کیمپس میں مٹھی بھر افراد نے قوم دشمن مارچ نکالا تھا لیکن ملک بھر سے اس کی مذمت کی جارہی ہے۔ جبکہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں محض سیاسی مفادات اور ووٹ بینک کے لئے نریندر مودی حکومت کو نشانہ بنارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT