Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / ممبئی کے تین نوجوانوں کی داعش میں مبینہ شمولیت :پولیس

ممبئی کے تین نوجوانوں کی داعش میں مبینہ شمولیت :پولیس

سلطان ‘ محسن اور واجد کے ای میل پاس ورڈس معلوم کرنے میں پولیس مصروف

ممبئی ۔21ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ممبئی سے لاپتہ ہونے والے  تین نوجوانوں کے متعلق پولیس نے آج یہ گمان ظاہر کیا ہے کہ شاید وہ دہشت گرد تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔ تین نوجوانوں کی شناخت 23سالہ ایاز سلطان ‘ 26سالہ محسن شیخ اور 25سالہ واجد شیخ کے طور پر کی گئی ہے اور یہ تمام مغربی ممبئی کے علاقہ مالوانی کے مکین بتائے گئے ہیں ۔ مالوانی پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر ملن کھاٹلے نے کہا ہے کہ ہم یہ شبہ کررہے ہیں کہ مذکورہ نوجوان شاید داعش میں شمولیت اختیار کرلئے ہیں کیونکہ ہماری تحقیق کے بعد یہ اشارے مل رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ مذکورہ نوجوانوں کے والدین نے والوانی پولیس سے رجوع ہوتے ہوئے ان کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی ہے ۔ دریں اثناء مخالف دہشت گردی اسکواڈ  کے ایک عہدیدار نے بھی کہا ہے کہ انہیں بھی شک ہے کہ مذکورہ نوجوان داعش میں شمولیت اختیار کرلئے ہیں اور وہ اس معاملہ کی تحقیقات کررہا ہے ۔ تفصیلات کے بموجب سلطان 30اکٹوبر سے لاپتہ ہے جب کہ دیگر دو نوجوان 16ڈسمبر سے لاپتہ ہیں ۔ کھاٹلے کے بموجب سلطان نے 30اکٹوبر کو اپنے والدین سے یہ کہتے ہوئے گھر چھوڑا تھا کہ وہ کویت سے تعلق رکھنے والی کمپنی کی جانب سے ملازمت کی پیشکش کے سلسلہ میں پونا روانہ ہورہا ہے ۔ محسن نے 16ڈسمبر کو یہ کہتے ہوئے گھر چھوڑا تھا کہ وہ اپنے دوست کی شادی میں جارہا ہے ‘ جب کہ واجد نے بھی اُسی دن یہ کہتے گھر سے روانہ ہوا تھا کہ وہ آدھار کارڈ میں درستگی کیلئے جارہاہے ۔ پولیس  نے گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں چونکہ ایک ہی علاقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں اور ان کے درمیان ممکنہ رابطہ تھا ‘ کیونکہ دو نوجوانوں نے ایک ہی دن گھر چھوڑا ہے ۔ اے ٹی ایس کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ وہ ان نوجوانوں کے ای میل اکاؤنٹس کے پاس ورڈس کو معلوم کرنے کی کوشش بھی کی ہے تاہم انہیں ہنوز اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ ارکان خاندان کی جانب سے جاری کئے جانے والے بیانات کی روشنی میں پولیس نے کہا ہے کہ حالات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نوجوانوں نے داعش میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کررہی ہے کہ گمشدہ نوجوانوں کی کسی نے ذہنی تربیت تو نہیں کی اور ہوسکتا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعہ یہ کام انجام دیا گیا ہو ۔ یہاں یہ تذکرہ اہمیت کا حامل ہے کہ گذشتہ برس ماہ مئی میں کلیان شہر کے جو کہ تھانہ ڈسٹرکٹ کا پڑوسی علاقہ ہے یہاں سے چار نوجوانوں نے شام کا رُخ کرتے ہوئے داعش میںشمولیت اختیار کی تھی جن میں سے ایک نوجوان اریب مجید وطن واپس ہوا ہے اور وہ اب این آئی اے کی حراست میں ہے جس سے تحقیقات کی جارہی ہے ۔ علاوہ ازیں پونہ سے تعلق رکھنے والی ایک 16سالہ مسلم لڑکی کی بھی ذہن سازی کرتے ہوئے اسے شام روانہ کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT