ممتابنرجی کی مرکز کے خلاف ملک گیر تحریک کی دھمکی

چار اضلاع میں بیرونی افراد کو لانے کی کوشش کا بی جے پی پر الزام
کرشنا نگر ؍ کولکتہ ۔ 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) مرکز پر الزام عائد کرتے ہوئے کہ اس نے مختلف اسکیمس کے فنڈس روک دیئے ہیں۔ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتابنرجی نے دھمکی دی کہ وہ نریندر مودی حکومت کے خلاف ملک گیر سطح پر تحریک شروع کریں گی تاکہ مرکز کی ’’عوام دشمن‘‘ حکومت کو تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے ضلع ندیا میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے 90 فیصد فنڈ اطفال کی ترقی کی یکجہت خدمات اور کاشتکاروں کیلئے ترقیاتی پروگرام، غریبوں اور اوسط طبقہ کے عوام کیلئے اسکیموں کے روک دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بھی پراجکٹ کو نہیں روکیں گی۔ ان سب کو بحال رکھا جائے۔ اس کیلئے ہمارے اپنے مسائل سے کافی فنڈس مختص کئے جائیں گے حالانکہ اس سے ہم پر معاشی بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ 12000 پریشان حال کسان تاحال ملک گیر سطح پر خودکشی کرچکے ہیں کیونکہ حکومت کی پالیسیاں تبدیل ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں سے بیشتر کی بی جے پی زیراقتدار ریاستوں سے اطلاعات ملی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مرکز بتدریج تمام پراجکٹ کیلئے فنڈس روک رہا ہے لیکن عوام کے مفاد میں ہم اپنے وسائل کے ذریعہ ان اسکیمس کو جاری رکھیں گے۔ مرکز کو چاہئے کہ مغربی بنگال سے سبق حاصل کرے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ پنچایت انتخابات میں ترنمول کانگریس کیلئے ووٹ دیں تاکہ ریاست کے ترقیاتی پراجکٹس جاری رکھ سکیں۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب ممتابنرجی نے آج بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ بیرونی افراد کو ریاست کے چار اضلاع میں منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت دی کہ اس علاقہ میں صیانتی انتظامات میں شدت پیدا کردی جائے۔ ریاستی سکریٹریٹ میں منعقدہ ایک اجلاس میں انہوں نے پرولیا، رامپورہ، جھارگرام اور مغربی مدنا پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹوں کو یہ ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 355 سابق ماؤنواز ان اضلاع میں موجود ہیں اور بی جے پی بیرونی افراد کو پڑوسی ریاست جھارکھنڈ سے ان چار اضلاع میں منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ پنچایت انتخابات میں خلل اندازی پیدا کی جائے۔

TOPPOPULARRECENT